سپریم کورٹ کے 9 رکنی بنچ نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے معاملہ پر سوموٹو نوٹس کی سماعت شروع کی ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے گزشتہ روز از خود نوٹس کے تحت اس معاملہ کی سماعت کا فیصلہ کیا تھا۔ آج انہوں نے واضح کیا کہ عدالت اگلے ہفتے کے دوران اس معاملہ کو پوری توجہ دے گی تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ صوبائی اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد کسے انتخابات کی تاریخ دینے کا اختیار ہے اور اسے کیسے استعمال ہونا چاہئے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی ہر صورت آئین کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔ تاہم اس دوران سامنے آنے والی تصویر دھندلی اور پیچیدہ ہے جس میں خود سپریم کورٹ کی ساکھ داؤ پر لگی ہے۔ اوّل تو سماعت کے دوران بنچ میں شامل ایک جج جسٹس جمال مندوخیل نے اس معاملہ پر سو موٹو کے تحت سماعت کو غلط قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں یہ معاملہ آئین کی شق 184(3) کے تحت نہیں آتا۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بنچ میں شامل دو ججوں کی درخواست پر یہ ازخود کارروائی کی گئی ہے۔ یہ دونوں جج اس دو رکنی بنچ میں شامل تھے جو لاہور پولیس کے سربراہ غلام محمود ڈوگر کی درخواست پرسماعت کررہے تھے۔ اس سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر کو طلب کیا گیا حالانکہ وہ اس مقدمہ میں فریق نہیں تھے۔ انہوں نے عابد زبیری کی سامنے آنے والی بعض آڈیوز کا بھی حوالہ دیا جس میں سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں بات ہورہی ہے۔
بنچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے البتہ ایک بالکل مختلف نوعیت کا سوال اٹھایا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ پہلے یہ دیکھنا پڑے گا کہ کیا پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں آئین کے مطابق تحلیل کی گئیں۔ اس حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ نےپوچھا کہ وجوہات کے بغیر تحلیل کی گئی اسمبلیاں کیا بحال ہوسکتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے عدالت بغیر وجوہات کے تحلیل کی گئی اسمبلیاں دوبارہ بحال کردے۔ کیا وزیراعلیٰ سیاسی جماعت کے سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا پابند ہے۔ عوام نے تو پانچ سال کے لیے اسمبلیوں کو مینڈیٹ دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جج صاحبان کی طرف سے اٹھائے گئے ان سوالات کو عدالتی کارروائی کا حصہ بناتے ہیں۔
یوں یہ معاملہ اب محض اس حد تک محدود نہیں رہا کہ آئین کے تحت اسمبلی تحلیل ہونے کے 90 دن کے اندر انتخاب کا اعلان کرنے کی آئینی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی پہلے عدالت عظمی کو یہ طے کرنا پڑے گا کہ کیا دونوں صوبوں کی اسمبلیاں آئینی طور سے درست طریقہ کار کے تحت تحلیل کی گئی تھیں۔ سوموٹو سماعت کے پہلے ہی روز اس معاملہ کے متعدد پہلو سامنے آنے کی وجہ سے اب سپریم کورٹ براہ راست قومی سیاست سے متعلق اہم فیصلے کرنے کی ذمہ داری قبول کررہی ہے حالانکہ چیف جسٹس کے بقول ان کا مقصد محض آئینی پوزیشن واضح کرنا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ پر موجود رہے گا کہ کسی سیاسی تنازعہ میں آئینی پوزیشن واضح کرنے کے نام پر کیا سپریم کورٹ کی مداخلت سے معاملات درست کئے جاسکتے ہیں۔ موجودہ سماعت سے یہ سوال مزید سنگین اور پیچیدہ ہوجائے گا۔ شق 184 (3) کے تحت ’سپریم کورٹ کو بنیادی حقوق سے متعلق کسی عوامی اہمیت کے معاملہ پر براہ راست نوٹس لے کر غور کرنے کا حق حاصل ہے‘۔ اس شق کے تحت قائم مقدمہ میں اپیل کا حق بھی نہیں ہوتا۔
ملک میں پائی جانے والی سیاسی تقسیم اور سپریم کورٹ کے بعض ججوں کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کی روشنی میں یہ صورت حال مزید گمبھیر ہوچکی ہے۔ خاص طور سے چیف جسٹس نے تنازعہ سے بچنے کے لئے اگرچہ 9 فاضل ججوں پر مشتمل بنچ تشکیل دیا ہے لیکن ایک تو اس میں وہ دونوں جج شامل ہیں جن کی جانبداری کے بارے میں حکومتی وزرا اور مسلم لیگ (ن) کے لیڈر مسلسل سوال اٹھارہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کی سامنے آنے والی ایک آڈیو میں خاص طور سے ایک جج کا ذکر ہے اور اب اس جج کے خلاف ریفرنس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کردیا گیا۔ اس کے باوجود انہیں ایک ایسے اہم سیاسی معاملہ کی سماعت کے لئے بنچ میں شامل کیا گیا ہے جس کا تعلق براہ راست پرویز الہیٰ سے ہے۔ اس دوران پاکستان بار کونسل نے ایک پریس ریلیز میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مطالبہ کیا کہ ایک اہم معاملہ پر سماعت کرنے والے بنچ میں سپریم کورٹ کے دو سینئر ججوں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے تھا تاکہ بنچ کی غیر جانبداری اور خود مختاری یقینی بنائی جاسکتی۔ بار کونسل نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی سے بھی درخواست کی کہ مناسب ہوگا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اس بنچ سے خود کو علیحدہ کرلیں۔ واضح رہے کہ جسٹس نقوی بھی ان دو ججوں میں شامل ہیں جن کی غیر جانبداری پر مسلم لیگ (ن) اعتراض کرتی ہے۔
یہ صورت حال محض بنچ کی ساخت پر بار کونسل کے سوال، ایک جج کی موجودگی پر حیرت اور دوران سماعت مختلف النوع ’آئینی سوالات‘ اٹھانے سے ہی سنگین نہیں ہوتی بلکہ سیاسی طور سے اب پبلک پلیٹ فارم پر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو چیلنج کیا جارہا ہے۔ سرگودھا میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے براہ راست سپریم کورٹ کے بعض ججوں پر سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اسٹبلشمنٹ نے جب گند کا ٹوکرا اپنے کندھوں سے پھینک دیا تو یہ ٹوکرا دوتین ججوں نے اٹھا لیا۔ جو کرپٹ جج کرپٹ تھا ان کے ساتھ تھا‘۔مریم نواز نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’ چیف جسٹس صاحب عوام کو پتہ ہے کہ بنچ فکسنگ ہو رہی ہے۔ یہ آپ کو کیوں نظر نہیں آرہا۔ آپ گورنر کی ذمہ داری جانچنے بیٹھ گئے لیکن اپنی بھی ذمہ داری پوری کریں ۔ آپ کی ذمہ داری غیر جانبدار بنچ بنانا ہے‘۔
پاکستان بار کونسل اور مریم نواز کے یہ سخت بیانات درحقیقت چیف جسٹس کی طرف سے ملکی سیاسی معاملات میں مداخلت کے طریقہ کار کی وجہ سے سننے میں آرہے ہیں۔ اس صورت میں چیف جسٹس اگر من مانی کرتے رہیں گے اور عدالت عظمی کو ملکی سیاسی تنازعات سے بالا تر کرنے کی عملی کوشش نہیں کریں گے تو عدلیہ پر عوام کا رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہے گا۔ اگرچہ چیف جسٹس نے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتخابات کے حوالے سے سوموٹو ایکشن کی وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سماعت میں محض تین آئینی پہلوؤں پر غور کیا جائے گا ۔ ایک: کوئی صوبائی اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد کسے انتخابات کی تاریخ دینے کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ دوئم: اس آئینی ذمہ داری پر کب اور کیسے عمل ہو۔ سوئم: عام انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے فیڈریشن اور صوبے کی کیا ذمہ داری ہے۔
دوران سماعت بنچ میں شامل ججوں کی طرف سے اسمبلیاں توڑنے کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس امکان کا اظہار بھی کیا گیا کہ تحلیل شدہ اسمبلیوں کو بحال بھی کیا جاسکتا ہے۔ چیف جسٹس نے ان دونوں نکات کو عدالتی کارروائی کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یوں انہیں خود ہی اپنے مقرر کردہ تین نکات کو وسیع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ابھی اس معاملہ کی باقاعدہ سماعت سوموار کو شروع ہوگی جب صدر، وفاقی حکوت ، دونوں صوبوں کے گورنرز، الیکشن کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کے نمائیندوں کی طرف سے متعدد نوع کے نکات سامنے لائے جائیں گے۔ ان حالات میں سپریم کورٹ کے لئے خود کو کسی ایک نکتہ تک محدود رکھنا آسان نہیں ہوگا۔ چیف جسٹس نے آج کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے سو موٹو کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ ہائی کورٹس میں یہ معاملہ طوالت اختیار رکررہا تھا جبکہ انتخابات کے لئے مقررہ آئینی مدت تیزی سے گزررہی ہے۔ سپریم کورٹ کسی ایمرجنسی میں ہائی کورٹ کی کارروائی کو نظر انداز کرنے کی مجاز ہے۔ اسی دوران ایک طرف چیف جسٹس آئین پر بہر صورت عمل درآمد کروانے کا یقین دلاتے رہے لیکن ایک موقع پر یہ اعتراف بھی کیا کہ ’اگر کوئی بہت ہی سنگین صورت حال ہو تو انتخابات کی تاریخ میں توسیع بھی ممکن ہے‘۔ گویا آئین کی جس شق کی حفاظت کے لئے ایک دوسری آئینی شق کے تحت چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا اہتمام کیا ہے، خود ہی یہ اعتراف بھی کررہے ہیں کہ وہ اتنی بھی ’مقدس‘ نہیں کہ سپریم کورٹ اس میں توسیع نہ کرسکے۔ عدالت عظمی نے اگر اس قسم کا اقدام کیا تو یہ ایک بار پھر آئین کو پھر سے تحریر کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے پہلے موجودہ چیف جسٹس ہی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک بنچ پارٹی وفاداری سے متعلق شق 63 کی ایسی وضاحت کرچکا ہے جو مسلسل اختلاف کا باعث ہے اور اسے بنچ میں شامل دو ججوں نے ہی ’آئین کو از سر نو تحریر‘ کرنے کے مترادف قرار دیاتھا۔
بنیادی طور پر شق 184(3) کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ’ بنیادی حقوق ‘ کے حوالے سے سخت گائڈلائن بنانے کی ضرورت ہے۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ متعدد سیاسی معاملات میں اس شق کو استعمال کرکے سپریم کورٹ نے ملکی سیاست میں غیر ضروری اور ناجائز کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں سابق ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف سوموٹو کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ اگر یہ رولنگ غیر آئینی تھی، تو اس کا حل پارلیمنٹ کے اندر بھی تلاش کیا جاسکتا تھا۔ یا اگر اس حوالے سے پٹیشن کی صورت میں سپریم کورٹ رائے دے سکتی تھی۔ اس وقت بھی بنیادی حقوق کے نام پر سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کی خود مختاری کو نقصان پہنچایا تھا۔ اب دو صوبوں میں انتخابات کا معاملہ سیاسی طور سے حل ہونے کا موقع دیے بغیر سو موٹو لینا ضروری سمجھا گیا ہے حالانکہ اس حوالے سے پنجاب اور خیبر پختون خوا کے سابقہ اسپیکرز کی پٹیشنز بھی عدالت کے سامنے موجود تھیں۔
قومی سیاست شدید بحران کا شکار ہے۔ اس بحران میں حصہ داری کے ذریعے سپریم کورٹ شاید پاکستانی عوام کی مشکلات تو کم نہ کرسکے لیکن خود اپنی شہرت کو ضرور داؤ پر لگارہی ہے۔ خاص طور سے آج سرگودھا میں مریم نواز نے جس طرح چیف جسٹس کوللکارا ہے ااور بنچ میں شامل دو ججوں کی تصاویر دکھا کر انہیں بد نیتوں کے ٹولے کا رکن بتایا ہے، اس کے بعد چیف جسٹس کے سو موٹو ہی کی نہیں خود ان کی اپنی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھائے جائیں گے۔ اس مشکل سے نکلنے کے دو ہی حل ہیں۔ یا تو مریم نواز کو فاضل ججوں پر حرف زنی کرنے کے الزام میں توہین عدالت میں سزا دی جائے۔ یا چیف جسٹس سوموٹو نوٹس پر کارروائی کرنے والے بنچ کی تشکیل نو کریں۔ نئے بنچ سے نہ صرف دو متنازعہ ججوں کو نکالا جائے بلکہ احتیاطاً چیف جسٹس خود بھی اس سے علیحدہ ہوجائیں۔ تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ چیف جسٹس اس معاملہ میں صرف آئینی تقاضے پورے کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

