Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعہ, جون 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم
  • روہڑی کے تاریخی ماتمی جلوس میں چار عزادار جاں بحق ، متعدد زخمی
  • وینزویلا میں شدید زلزلہ 32 اموات کی تصدیق : تعداد ہزاروں سے تجاوز کرنے کا امکان
  • سید مجاہد علی کا تجزیہ : ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کو کیا ملے گا ؟
  • محرم، کربلا اور ایران میں مزاحمت کی سزا : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • بابا فرید کا عرس : بہشتی دروازے پر بھگدڑ میں 89 افراد زخمی ، 25 کی حالت تشویش ناک
  • ماہ رنگ بلوچ کو سزا : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • گوادر میں سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»لکھاری»ّعاصمہ شیرازی»عاصمہ شیرازی کا کالم:آئین عدالت کے دروازے پر
ّعاصمہ شیرازی

عاصمہ شیرازی کا کالم:آئین عدالت کے دروازے پر

ایڈیٹرفروری 28, 20231 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Asma-Sherazi
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

صحافی کے قلم اور منصف کے فیصلے کی گواہی تاریخ دیتی ہے اور تاریخ کے کٹہرے میں احتساب بھی ہے اور انصاف بھی، جزا بھی ہے اور سزا بھی۔ منصف کا ترازو اور صحافی کا قلم ہر دور کی وہ اہم گواہی ہے جو اگر سچ کی بنیاد پر نہ دی جائے تو صدیاں سزا پاتی ہیں۔
ہماری عدالتی تاریخ قابل دست درازی آئین کے واقعات سے بھری پڑی ہے اور ابتدائے مملکت سے ہی ابتلائے آئین کا آغاز بھی ہوا۔ ہم چونکہ تاریخ کے جھروکے میں کھڑے ہیں اور آئین دروازے پر دستک دے رہا ہے تو کیوں نہ دروازے کی کواڑ کے پیچھے چُھپے اُن آئین فروشوں اور آئین شکنوں کو کھنگالا جائے جن کے باعث آج بھی نظامِ جمہوریت مغالطوں اور آئین مشکلات کا شکار ہوا ہے۔
یہ کہنے میں عار نہیں کہ جس حال میں وطن عزیز پہنچا ہے اسے یہاں تک لانے میں آئین شکن جرنیلوں کے ساتھ سہولت کار عدلیہ کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔
1973 کے آئین کو مارچ میں 50 برس ہو جائیں گے۔ پاکستان کے سیاست دانوں، آئین اور جمہوریت پسندوں کے لیے اگر آج کوئی ایک متفقہ دستاویز ہے تو وہ آئین پاکستان ہے۔
1973 کے آئین کی تخلیق، تشکیل اور بقا کے لیے پاکستان کے سیاستدانوں، وکلا، صحافیوں اور سول سوسائٹی نے نہ صرف قربانیاں دیں بلکہ اس میں تحریف سے روکنے کے لیے بھی انھیں بے پنا آزمائشوں سے گزرنا پڑا۔
کبھی آئین کی راہ میں جسٹس منیر جیسے کردار آئے جنھوں نے ہانس کیلسن کے نظریہ ضرورت سے متاثر ہو کر ایک ’انقلاب یا بغاوت کے لیے آئین کو تبدیل کرنے‘ کا جواز فراہم کیا تو کبھی جسٹس انوار الحق نے قانون ساز اسمبلی کو برخاست کرنے اور مارشل لا کے نفاذ کو جائز قرار دیا۔
جنرل ایوب، جنرل ضیا اور جنرل مشرف کے آمرانہ اقدام کو عدلیہ تحفظ دیتی رہی اور زمانہ جمہوریت میں اسٹیبلشمنٹ کی جگہ پارلیمان کے اختیار کو نگلنے اور سیاسی حکومتوں کو غیر فعال کرنے میں اپنا منفی کردار ادا کرتی رہی۔
ایسا نہیں کہ سیاست دانوں نے اپنا حصہ نہیں ڈالا تاہم اصل قصور اُس عدلیہ کے سر ہی ہے جو آئین کے تحفظ کی ضامن ہے۔ بیگم بھٹو نے جنرل ضیا کے مارشل لا کو چیلنج کیا تو جسٹس انوار الحق کی عدالت نے ریاست کی ضرورت اور عوامی بہبود کی بنیاد پر اسے جائز قرار دیا اور یوں نظریہ ضرورت کے بعد ’نظریہ ریاست‘ نے آمریت کو دوام دیا۔
عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کا گٹھ جوڑ 50 سالہ آئین کے گھٹنوں میں عین جوانی کے وقت بیٹھ گیا اور اب جب آئین از خود دستک دینے پہنچا تو رینگتا ہوا گھٹنوں کے بل کھڑا ہے۔
وقت کی عدالت میں بے شک اس وقت ایک انتہائی اہم مقدمہ موجود ہے اور قصہ یوں ہے کہ تحلیل شدہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 90 دنوں میں کروانے کا سوال جس طرح از خود ہوا، اُس پر خود عدلیہ ہی معترض ہے۔ اس وقت نہ تو کسی آمریت کو دوام دینا ضروری ہے اور نہ ہی پارلیمان کو کوئی خطرہ لاحق ہے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے تحلیل شُدہ اسمبلیوں کے 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ضرور موجود ہے۔
اس بار اسمبلیاں نہ تو جنرل ضیا نے برخاست کی ہیں اور نہ ہی جنرل مشرف نے البتہ اس بار اسمبلیاں وقت سے قبل انتخابات کے انعقاد کے لیے عمران خان کی خواہش پر تحلیل ہوئی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ قبل از وقت انتخابات کی خواہش کیوں ہے اس کا بھید کوئی عمران خان صاحب سے ہی پوچھے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عدالت میں اسمبلیوں کی تحلیل کے جواز کا سوال جسٹس اطہر من اللہ نے اٹھایا اور عین اُسی وقت فواد چوہدری کا بیان آیا کہ اسمبلیاں بحال ہوئیں تو دوبارہ تحلیل کر دی جائیں گی۔ اب ایسی صورت میں کیا کہا جائے یہ کوئی معزز ججوں سے پوچھ لے۔
یہ سوال خود اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان پوچھ رہے ہیں کہ ایک سرکاری افسر کی تبدیلی کے مقدمے سے انتخابات کے انعقاد کا از خود نوٹس کیسے جنم لے سکتا ہے؟
چار معزز ججوں کے اختلافی نوٹس نے خود معاملے پر سوالات اُٹھا دیے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ معزز عدالت فُل بنچ کی تشکیل سے دور رہی؟
اب جب آئین بحران سے گُزر رہا ہے تو کوئی یہ دستک بھی دے کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کی متنازع تشریح اور آئین کی دوبارہ تحریر کا اختیار عدلیہ کو کس نے دیا؟ نیز یہ کہ از خود نوٹس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے ہے یا بحران بڑھانے کے لیے؟
90 دن میں انتخابات کا انعقاد آئین کا حصہ ہے اور اس پر عمل ہونا چاہیے تاہم اسمبلی کی تحلیل کے جواز کا درست جواب ڈھونڈنا بھی اہم ہے۔
50 سالہ آئین بوڑھا ہو رہا ہے، جس نظام نے اُسے جوان رکھنا تھا وہ نظام یرغمال ہو رہا ہے۔ خدارا آئین پر رحم کریں۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاویدکا تجزیہ:جنرل امجد شعیب کی گرفتاری
Next Article آئین کےتحت نگران حکومت کی تعیناتی، الیکشن کی تاریخ پرگورنر کسی کی ایڈوائس کا پابند نہیں: چیف جسٹس
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار

جون 26, 2026

مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم

جون 26, 2026

ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم

جون 26, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • اسلام آباد میں چھاپہ : حمل میں تشکیل پانے والا ’500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا‘ برآمد ۔۔ تین چینی باشندے گرفتار جون 26, 2026
  • مودی سرکار کی مسلمان اور پاکستان دشمنی کی بھڑکائی آگ : نصرت جاوید کا کالم جون 26, 2026
  • ایران پاکستان فارسی اور اقبال : کوچہ و بازار سے / انوار احمد کا کالم جون 26, 2026
  • روہڑی کے تاریخی ماتمی جلوس میں چار عزادار جاں بحق ، متعدد زخمی جون 26, 2026
  • وینزویلا میں شدید زلزلہ 32 اموات کی تصدیق : تعداد ہزاروں سے تجاوز کرنے کا امکان جون 25, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.