سیاسی عدم برداشت اورعدم استحکام نے ملک کے معاشی حالات ابتر کردئیے ہیں غیر یقینی صورتحال اور قیاس آرائیوں سے مہنگائی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے،ایسا لگتا ہے کہ حکومت نام کی کوئی چیز یہاں نہیں ہے اور نہ انتظامیہ سلطنت کا ستون ملانے کو پورا کررہی ہے یہی وجہ ہے کہ دن میں دو دو مرتبہ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے مینو فیکچرز سے زیادہ تاجر مہنگائی کا گھوڑا اندھا دھند بھگائے جارہے ہیں،سٹریٹ کرائمز میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے،قانون نافذ کرنے والے ادارے چونکہ مفت آٹا تقسیم میں مصروف ہیں تو عام آدمی نے”سٹریٹ جسٹس“شروع کردیا ہے گزشتہ کچھ دنوں میں صرف ملتان کے علاقے میں 6 سے زیادہ مبینہ ڈاکوؤں کی ہجوم نے ہاتھوں اور پاؤں سے مار مار کر ”انصاف“کردیاجو عوامی عدم اعتماد کی ایک بنیادی وجہ ہے۔عام آدمی مہنگائی سے صرف تنگ نہیں بلکہ خود کشی پر مجبور ہے لیکن دوسری طرف سیاسی اشرافیہ ذاتیات اور الزامات کی سیاست کا عجب کھیل کھیل رہے ہیں گو ایسا سیاسی کھیل کوئی نئی بات نہیں اس ملک میں یہ متعدد مرتبہ ”کامیابی“سے کھیلا جاچکا ہے کامیاب ہونے والوں نے ملک کا نہیں سوچا جس کا اندرون اور بیرون ملک کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق ساؤتھ ایشین ریجن میں سب سے زیادہ مہنگائی پاکستان میں ہے گو کساد بازاری پوری دنیا میں پھیل چکی ہے لیکن وہاں کی حکومتیں عام لوگوں کو اس کے اثرات سے بچانے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں جو بظاہر نظر بھی آتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس ملک کا وزیر خزانہ بھی سیاسی بیان بازی اور پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہے،آئی ایم ایف سے محض ایک قسط کیلئے ملکی جی ڈی پی میں اربوں ڈالرز کا نقصان کرلیا گیا ہے،درآمدی پالیسی کی وجہ سے ایکسپورٹ اور پروڈکشن میں کمی سے محصولات کی وصولی کے ہدف میں 500ارب سے زیادہ شارٹ فال مہنگائی کو مزید تقویت دے رہا ہے حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ مفت آٹا اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے یہ مہنگائی پر قابو پالیں گے،حالانکہ یہ ایک دیوانے کا خواب اور خام خیالی ہوسکتا ہے کیونکہ ملک میں اس وقت انہی وجوہات کی بنا پر جو آگ لگی ہوئی ہے وہ ایسے وقتی اقدامات سے بجھنے والی نہیں ہے اگر اسے بجھانے کی کوشش نہ کی گئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے اسی سیاسی و معاشی صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے مفتی اعظم پاکستان شیخ الاسلام مولانا مفتی تقی عثمانی نے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ملک کی سیاسی معاشی بقاء کیلئے اکٹھے ہوکر سر جوڑ لیں اور حل تلاش کریں اس عمل میں بااثر حضرات آگے آئیں اور قومی رہنماؤں کو اکٹھا بٹھانے کی کوشش کریں کیونکہ گھر میں اگر آگ لگ جائے تو اس وقت بحث کی بجائے پہلے آگ بجھائیں،رب تعالی کا فرمان ہے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارے ساتھ رحمت کا معاملہ کیا جاسکے“اب یہ سیاسی اشرافیہ اور دیگر یہ بات سمجھ پاتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عالمی بنک کی پاکستان کے بارے تازہ ترین رپورٹ میں انسانی وسائل میں ناکافی سرمایہ کاری کی نشاندہی کی گئی ہے ملک کا ہیومن کیپٹل انڈیکس محض0.41 فیصد ہے جو ہر لحاظ سے کم ہے حالانکہ ہمارے ہمسایہ ممالک میں یہ انڈیکس 0.48 فیصد کے لگ بھگ ہے۔
عالمی بنک کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ان حالات میں ملک 2047ء تک ایک اچھے متوسط آمدنی والا ملک بننے کے ہدف کے حصول کو محدود کردے گا،عالمی بنک کی رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ ہے جو حکمرانوں کی شاید سمجھ سے بالا تر ہے اور یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں عام آدمی کسمپرسی سے نہیں نکل پائے گا۔ادھر کسانوں کے نام پر بنائی گئی یک عہدہ تنظیم کے صدر نے زرعی شعبہ کو زبوں حالی کا شکار قرار دیتے ہوئے فوری طور پر زرعی پالیسی بنانے اورمطالبہ کیا ہے کہ فوج کے ذریعے رقبے آباد کئے جائیں۔ادھر ملک بھر کی طرح جنوبی پنجاب میں طوفانی بارشوں اور ژالہ باری سے کھڑی فصلوں کا نقصان ہوا ہے محکمہ موسمیات کے مطابق اپریل میں مزید بارشوں کا امکان ہے ایسے میں خصوصا ًگندم کی برداشت کچھ دنوں کیلئے موخر ہوسکتی ہے تاہم زرعی ماہرین نے حکومت کی طرف سے گندم خریداری کے ہدف کے مکمل ہونے کی امید ظاہر کی ہے کیونکہ اس مرتبہ پنجاب حکومت نے گزشتہ سالوں کی نسبت خریداری کا ہدف کم رکھا ہے اس کی وجوہات جو بھی ہوں لیکن یہ صوبے میں گندم کی مانگ کو پورا کرنے کیلئے انتہائی ناکافی ہے۔
دوسری طرف پنجاب کی نگران حکومت نے پی ٹی آئی حکومت کے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے آبائی علاقہ کھڑ بزدار میں ایک کلو میٹر کے اندر غیر قانونی سکولوں کے قیام اور ہر ماہ گھر میں بیٹھے اساتذہ کی تنخواہوں کی برآمدگی کے معاملہ پر سخت ایکشن کا فیصلہ کرلیا ہے گزشتہ دنوں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے متعلقہ گھوسٹ سکولوں کا معائنہ کیا اور مقامی لوگوں سے عملہ کی حاضری کے بارے میں ریکارڈڈ گواہیاں حاصل کیں۔واضع رہے کہ ایسے متعدد سکولوں اور ان میں تعینات عملہ کے سینٹروں اراکین کی مراعات اور تنخواہیں لینے کے عمل پر پردہ پوشی اور کرپشن کا حصہ بننے پر ڈپٹی کمشنر سمیت تمام مقررہ سرکاری ملازمین کو شکنجے میں لانے کا بندوبست کیا جارہا ہے اب یہ بندوبست مکمل ہوتا ہے یا پھر مصلحت اور بیوروکریسی کی روایتی ہتھکنڈوں کا شکار ہوگا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا؟
فیس بک کمینٹ

