Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, مئی 5, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • جے یو آئی ( ف ) کے رہنما مولانا محمد ادریس قتل : چارسدہ میں شدید احتجاج ، سڑکیں بلاک
  • جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک ہلاک، 14 زخمی,متعدد کی حالت نازک
  • کیا مصنوعی ذہانت تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • آہ پروفیسر حفیظ الرحمن : صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی یاد نگاری
  • کالعدم تنظیم کا مواد تقسیم کرنے کا الزام : یوٹیوبر سعد بن ریاض جیل منتقل
  • نام ور ماہرِ تعلیم ، مصنف اور محقق حفیظ الرحمان خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے
  • محبت میں ناکامی جماعتِ اسلامی : رضی الدین رضی کا 38 برس پرانا کالم
  • ایک نئی جنگ کا اندیشہ : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کا ٹائٹل جیت لیا : حیدر آباد کے خواب چکنا چور
  • پاک افغان تعلقات اور عالمی تشویش : سید مجاہدعلی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خاکہ :آٹھواں دریا۔۔مرزا ابنِ حنیف(دوسرا اور آخری حصہ )
ادب

ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خاکہ :آٹھواں دریا۔۔مرزا ابنِ حنیف(دوسرا اور آخری حصہ )

ایڈیٹراپریل 19, 202320 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
mirza ibn e hanif
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

گزشتہ سے پیوستہ
مرزا صاحب کے جلال کے کچھ قصے تو ہم نے سن رکھے تھے مثلاً پروفیسر لطیف الزماں خاں اپنی نیم طنزیہ گفتگو کے سبب حاضرین کو مشتعل کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔ ملتان میں عرش صدیقی صاحب کے ساتھ خاں صاحب کی چھیڑ چھاڑ تو ہم نے دیکھی اور سنی ہے۔ممکن ہے عرش صاحب مروت اور مصلحت میں جواب نہ دیتے ہوں مگر ہم نے سنا ہے کہ مرزا صاحب اپنی جوانی میں مصلحت کوشی سے کم ہی کام لیتے تھے۔ سو بزرگوں سے خان صاحب پر چائے کی پیالی انڈیلنے والا قصہ تو سن رکھا تھا مگر جس مرزا ابن حنیف سے میں ملا ہوں وہ اُس وقت تک ہم نوجوانوں کے لئے جلال سے زیادہ جمال کا نمونہ تھے۔ میں نے ایک دو بار اِس واقعہ کا ذکر اُن سے کرنے کی کوشش بھی کی مگر وہ طرح دے گئے۔ کبھی کبھار ازراہ مذاق ضرور کہتے کہ ”بھئی ہم چنگیز خان کی اولاد سے ہیں اور وہ خون جوش بھی مارتا ہے“ مگر اس طرح کا جلال میرے مشاہدے میں نہیں آیا۔ یہاں تک کہ خان صاحب کے اس طنز یہ جملے کہ ”اس شہر میں اب گورکن بھی ادیب ہو گئے ہیں۔“ پر بھی اُن کا در عمل پر سکون ہی رہتا بلکہ وقتناً فوقتناً وہ مجھ سے خان صاحب کی طبیعت ضرور دیارفت کرتے تھے۔میں خاں صاحب سے ہر ملاقات میں یہ ذکر کرتا کہ مرزا صاحب تو آپ کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہیں اور آپ انھیں چھوڑ کر نہیں دے رہے۔ ایک لمحہ کے لئے خان صاحب نے نہایت جلالی نظروں سے مجھے دیکھا اور گویا ہوئے:
”چلو میاں چلتے ہیں۔“
”کہاں سر“ میں نے استفسار کیا
”تمھارے مرزا صاحب کا حال احوال پوچھ آتے ہیں“۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں خان صاحب کو اپنی موٹر سائیکل پر لاد کر مرزا صاحب کے گھر پہنچا۔ چائے کی پیالی پر کافی دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔اِس خوش گوار ملاقات کے بعد واپسی پر خان صاحب گویا ہوئے:
”میاں اب آپ خوش ہیں اب تو آپ کے کہنے پر گورکن سے بھی ملاقات کر آئے ہیں۔“
اور میں بہت دیر حیرانی کے فریضے میں حیران ہوتا رہا۔
میں نے بہت طویل عرصہ تک مرزا صاحب کی شخصیت کا مشاہدہ کیا ہے اور مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے ہم عصروں سے زیادہ نوجوانوں میں رہنا اور اُن سے بات چیت کرنا پسند کرتے تھے۔ اِن ملاقاتوں میں بھی وہ نوجوانوں پر کبھی اپنی علمیت کا رعب نہیں جھاڑتے تھے بلکہ نہایت خاموشی اور انہماک سے باتیں سنتے اور حیرانی کی مثال بنے رہتے تھے۔ نوجوان اور نئے لکھنے والے ہمیشہ ان کی اوّلین ترجیحات میں شامل تھے۔ میں نے بارہا دیکھا کہ جب بھی ہم دوست مرزا صاحب سے ملنے ان کے گھر گئے وہ ہر طرح کی مصروفیت ترک کر کے ہمیں وقت دیتے۔ ہم گھنٹوں اُن کے پاس بیٹھتے، ادھر ادھر کی فضول باتیں کرتے، اس اثنا میں انھیں جتنا بھی ضروری کام کیوں نہ ہوتا وہ اسے چھوڑ کر ہم دوستوں کے ساتھ وقت گزارتے۔ وہ ملتان میں ہم جیسے نئے لکھنے والوں کے لئے ایک چھتنار تھے، ایک حوصلہ اور امید تھے جو ہمیں اسی احساسِ مسرت میں سرشار رکھتے کہ لکھنا پڑھنا ہر چیز پر مقدم ہے۔
جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ ہم نوجوانوں کے لیے مرزا صاحب کا رویہ کبھی بھی سرپرستانہ یا غیر ضروری مشفقانہ نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دوستانہ رہا ہے۔ اپنی تمام تر علمیت اور بزرگی کے باوجود ہم نے کبھی اُن میں نوجوانوں کا مربی، سرپرست یا رہنما بننے کی جھلک تک نہیں دیکھی بلکہ یہاں معاملہ الٹ تھا۔ وہ جب کبھی ہم دوستوں کو کہتے کہ ”بھئی میں تو نوجوانوں سے سیکھتا ہوں“ تو ہمیں مرزا صاحب کی سادگی اور انکساری پر بے پناہ پیار آتا اور ہم ہر ملاقات میں کوئی نہ کوئی نئی بات، قصہ یا کتاب ضرور پڑھ کر جاتے اور انھیں جدید ذرائع ابلاغ، کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی ہوش ربائیوں سے مزید حیرت زدہ کرنے کا سوچتے مگر اب خیال آتا ہے کہ یہ شدید ترین حیرت و حیرانی اور مجذوبانہ انکسار شاید ہماری ہی تربیت کے لئے تھا کہ اُن کا یہی انداز سب سے زیادہ حوصلہ افزا اور پرُ اثر تھا۔
مرزا صاحب کی ساری دنیا اُن کی کتابیں تھیں وہ انھیں میں زندہ رہتے، وہیں سانس لیتے، بہت سے اساطیری کرداروں کی ساتھ اُن کی مہمات میں شریک ہوتے، وہ اُن کرداروں کی ماورائیت پر خوش ہوتے اور اُن کی موت پر افسوس کا اظہار بھی کرتے تھے۔ ”ہزاروں سال پہلے“، ”دنیا کا قدین ترین ادب“، ”مصر کا قدیم ادب“، ”بھولی بسری کہانیاں“ اور گلگامش کی داستان سمیت بے شمار کردار ان کے ارد گرد جلوہ افروز رہتے۔ مرزا صاحب کی یہی دنیا تھی۔ کتاب کے علاوہ فلم یا دیگر فنون میں دلچسپی بھی اسی قدر تھی کہ وہ قدیم داستانوں سے متعلق ہو۔ مہینے میں ایک یا دو اتوار ایسے بھی ہوتے جب وہ پروگرام کے مطابق صبح میرے گھر آتے جہاں شوکت نعیم قادری، لیاقت رضا جعفری سمیت بہت سے نوجوان دوست پہلے سے موجود ہوتے۔ ان دنوں ہالی وڈ کی مشہور فلم ”ممی“ بہت مقبول تھی سو مرزا صاحب کے ساتھ فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ ڈیڑھ دو گھنٹے کی فلم ہم نے کئی نشستوں میں دیکھی کہ ہر سین،کردار،کتاب اور تاریخی حوالے پر رکتے تو گھنٹوں اس کے بارے مین گفتگو کرتے۔ ایک مرتبہ نیشنل جیوگرافک نے پیرامیڈ میں ایک کمرے کو کھوجنے کی عکس بندی براہ راست نشر کرنا تھی۔ مرزا صاحب اُن دنوں بہت ایکسائیٹڈ تھے۔ وہ بار بار دن اور وقت کے بارے میں پوچھتے اور اس براہ ِ راست عکس بندی کو ریکارڈ کرنے کی ہدایت کرتے رہے۔ وہ وی سی آر پر ریکارڈنگ کا زمانہ تھا اس لئے وقت سے پہلے ہر طرح کا انتظام کیا گیا۔ جتنی حیرت، شوق، جستجو اور خوشی اس دن میں نے اُن کے چہرے پر دیکھی اسے بیان کرنا ممکن نہیں۔ ریکاڈنگ کی کیسٹ انھوں نے بہت سنبھال کر رکھی اور بہت دن تک اس بارے گفتگو کرتے رہے۔ اسی طرح مجھے اُن کی کتاب ”بھولی بسری کہانیاں مصر“ کے ابتدائی سو صفحات کی کمپوزنگ کرنے موقع بھی ملا۔ مرزا صاحب بولتے جاتے اور میں ٹائپ کرتا جاتا۔ تیس پینتیس صفحات کے بعد انھیں پتا چلا کہ ایک لفظ کو غلط املا سے ٹائپ کیا گیا ہے اور و ہ لفظ بہت مرتبہ استعمال بھی ہو چکا ہے۔ مرزا صاحب اس وقت کافی مضمحل نظر آئے کہ اس لفظ کو اتنی مرتبہ کیسے تلاش کر کے درست کیا جائے گا۔ کمپوٹر کی آپشن کے مطابق محض ایک کلک سے میں نے وہ لفظ درست کر دیا۔ مرزا صاحب بہت دیر تک بے اعتبارانہ حیرت سے استفسار کرتے رہے کہ کیا سچ میں سب اغلاط درست ہو گئی ہیں؟
مرزا صاحب کو قدیم مصر سے بے پناہ محبت اور لگاؤ تھا مگر افسوس وہ کبھی مصر نہ جا سکے۔ انھوں نے اپنے تخیل ہی میں ہزارں سال پر مبنی مصری تہذیب کو دیکھا اور پرکھا تھا۔ یقینا اُن کے مالی حالات اور ذمہ داریاں ایسی تھیں کہ وہ خواہش کے باوجود یہ سفر نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اُن کے نہایت قریبی احباب اور دوستوں کو بھی مزرا صاحب کی اِس خواہش کی تکمیل کا احساس نہ ہو سکا جبکہ یہ سب ممکن تھا یا شاید خود مرزا صاحب کی انانیت نے ایسا کرنے کی اجازات نہ دی ہو۔ انھوں نے ”مصر کا قدیم ادب“ کے نام سے چار ضخیم جلدوں میں مصری اساطیری کہانیوں اور شاعری کو ترتیب دیا۔ ان کی خواہش تھی کہ ان نظموں کا منظوم ترجمہ کیا جائے۔ میں نے ان دنوں دو تین نظموں کو منظوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی مگر میں نے اِس کام کو بھاری پتھر سمجھ کر چوما اور چھوڑ دیا۔
مرزا صاحب جب کسی پروجیکٹ کو شروع کرتے تو اس سے متعلق ٍہر ممکنہ معلومات کو تلاش کرتے۔ تلاش کا یہ عمل دنوں اور مہینوں نہیں سالوں پر محیط ہوتا۔ مار پرستی کے حوالے سے وہ ایک مربوط کتاب لکھنا چاہتے تھے جس کے لئے انھوں نے دنیا بھر کے حوالے اکٹھا کیے۔ تیس پینتیس برسوں پر محیط تلاش کے نتیجہ میں ہزاروں صفحات تلاش کئے گئے۔ وہ اِن صفحات کو ترتیب دینے اور لکھنے کا کام کر رہے تھے کہ زندگی نے انھیں مزید مہلت نہ دی۔ اس حوالے سے وہ اپنی جنگل گردی اور ویرانہ نوردی کے قصے بھی سنایا کرتے اور سانپ کے ڈسنے اور اس کے نتیجے میں بعض جسمانی تبدیلیوں کا ذکر بھی خفیف مسکراہٹ سے ضرور کرتے تھے جسے بعد میں خالد سعید صاحب نے ایک الگ رنگ آمیزی کے ساتھ پیش کیا۔ ممکن ہے خالد سعید کی بات درست ہی ہو۔
9 مارچ 1995ء کو ملتان آرٹس فورم کے قیام کے بعد جب جمعہ کے دن فورم کی ہفتہ وار نشستوں کا آغاز ہوا تو اردو اکادمی کے بہت سے سینئر دوستوں کی طرف سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ اِن دنوں جس طرح کے معاملات درپیش تھے اس میں یہ قدم اٹھایا جانا بھی ضروری تھا۔ بہت سے دوستوں اور اساتذہ نے بھی اس عمل کو زیادہ پسند نہیں کیا۔ اس موقع پر دو تین شخصیات ایسی تھیں جنہوں نے اِس حوالے سے کبھی گلہ یا شکوہ نہیں کیا۔ مرزا ابن حنیف اور ارشد ملتانی ان شخصیات میں نمایاں ترین ہیں۔ آگے چل کر جب فورم اور اکادمی کے باہمی تعاون کی بات کی گئی تو اظہارخوش گواریت کے لیے فورم کے ایک اجلاس میں جناب مبارک مجوکہ اورڈاکٹر عبدالروف شیخ کے ہمراہ مرزا ابن حنیف بھی تشریف لائے تھے۔ یہ باہمی تعاون آگے بڑھ سکتا تھا اگر اکادمی کے چند بزرگ مزاحم نہ ہوتے۔ مرزا صاحب اِن تنظیموں سے بالا تر ہو کر ہمیشہ ادب اور علم کی بات کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ ہر شخص اُن کا حقیقی معنوں میں احترام کرتا تھا۔ ڈاکٹر علی اطہر کی سیکریٹری شب کے زمانے میں جب فورم کا پہلا پانچ سالہ گرینڈ فنگشن ہوا تو اس میں فورم کی طرف سے مرزا صاحب کو لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ کے لیے درخواست کی گئی جسے انھوں نے نہایت محبت سے قبول کیا اور آگے چل کر بھی فورم کو ان کا تعاون حاصل رہا۔
مرزا صاحب کی عمومی عادت تھی کہ وہ کسی بحث میں نہیں پڑا کرتے تھے۔ وہ اپنی بات کرتے مگر اِس پر کبھی اصرار نہیں کرتے تھے اور اگر اختلاف رائے ہوتا تو بہت دھیمے انداز سے اپنا اختلاف نوٹ کروا دیا کرتے تھے۔ یہی صورت حال اُن کے سیاسی نقطہ نظر کی تھی۔ ہمارے دوستوں کی اکثریت بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو سے والہانہ محبت رکھتی تھی اِس کے علاوہ ہم دوست بائیں بازو کی سیاست اور سیاسی نظریات کے بہت نزدیک تھے۔ جبکہ مرزا صاحب کی صورتِ حال یکسر مختلف تھی۔ وہ بڑی حد تک دائیں بازو کے افکار کے حامی اور نظریہ پاکستان کے داعی تھے، اِس کے علاوہ بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو کی سیاست سے بھی اختلاف رکھتے تھے۔ عموماً وہ ان اختلافات کا ذکر نہیں کرتے تھے تاہم ہماری پرُ جوش حمایت پر وہ اپنے تحفظات کا دھیمے انداز میں اظہار ضرور کرتے تھے۔ وہ حقیقی معنی میں انسان دوست تھے اور انسان دوستی میں کسی نظریے کے اختلاف کو حائل ہونے کو پسند نہیں کرتے تھے۔
اپنی آخری عمر میں وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ بیماری نے اُن کے اندر تک کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا تھا۔ اِس حالت میں بھی وہ مضبوط اعصاب کے سہارے ہم نوجوانوں کو وقت دیتے اور اپنے اگلے پروجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے پرُ امید تھے۔ زندگی
کی لگ بھگ چوہتر خزائیں گزارنے کے بعد 29جون 2004ء کو وہ آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔بلاشبہ مرزا صاحب کی وفات مروت، انسان دوستی، انکساری، محبت، رواداری اور خودداری کی موت تھی۔ جب سبھی لوگ اُن کی نمازِ جنازہ کے لیے اکٹھے ہو رہے تھے تو ایک بات سبھی کو حیران کئے دے رہی تھی کہ اِس گوشہ نشین، محفل گریز اور بظاہر مردم بیزار شخص کے جنازے میں اتنے لوگ کہاں سے آ گئے ہیں۔ اُن کے گھر سے جب اُن کی میت کو گل گشت کے قبرستان کی طرف لے جایا جا رہا تھا اِس قافلے کے اکثر شریک نوجوان تھے۔ احمد ندیم تونسوی نے میرے کان میں سرگوشی کی
”لالے مرزا صاحب کو بھلا کون بھولے گا؟ جس شخص کے جنازے میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہو وہ بھلا کب مر سکتا ہے۔“
میں نے ایک نظر شرکا پر دوڑائی یقینا احمد ٹھیک کہہ رہا تھا۔ یہ آٹھواں دریا فنا کی قید سے آزاد تھا، وقت کبھی اِسے خشک نہیں کر سکتا۔ ہم سب نے اِس دریا کو علامتی طور پر دفن کیا جہاں سے اب نہ ختم ہونے والا چشمہ پھوٹ رہا ہے۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ابن حنیف
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleنصرت جاویدکا تجزیہ:قربانی کا واحد دنبہّ ، شہباز شریف
Next Article الیکشن ایک ساتھ کرانےکی درخواستیں: سیاسی جماعتیں ایک موقف پر آجائیں تو عدالت گنجائش نکال سکتی ہے، چیف جسٹس
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ڈاکٹر سید عامر سہیل کا خاکہ :آٹھواں دریا۔۔مرزا ابنِ حنیف(پہلا حصہ )

اپریل 18, 2023

کچھ یادیں کچھ آنسو:حشمت وفا کی ذاتِ نہاں کا بند دروازہ ۔۔ ڈاکٹر حنیف چودھری

جنوری 23, 2020

یہ تو وہی جگہ ہے۔۔آئینہ/مسعوداشعر

اکتوبر 20, 2019

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • جے یو آئی ( ف ) کے رہنما مولانا محمد ادریس قتل : چارسدہ میں شدید احتجاج ، سڑکیں بلاک مئی 5, 2026
  • جنوبی وزیرستان میں بارود سے بھری گاڑی میں دھماکہ، ایک ہلاک، 14 زخمی,متعدد کی حالت نازک مئی 5, 2026
  • کیا مصنوعی ذہانت تباہی کا سبب بن سکتی ہے؟ شہزاد عمران خان کا کالم مئی 4, 2026
  • آہ پروفیسر حفیظ الرحمن : صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کی یاد نگاری مئی 4, 2026
  • کالعدم تنظیم کا مواد تقسیم کرنے کا الزام : یوٹیوبر سعد بن ریاض جیل منتقل مئی 4, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.