رضی الدین رضی کے ہمراہ ڈاکٹر انوار احمد کے ساتھ ملاقات کے موقع پر جب میں نے اپنے والد سید محمد قسور گردیزی کے بارے میں سوانح عمری لکھوانے کا ذکر کیا تو ڈاکٹر صاحب کے اشتیاق کو اپنے شوق سے زیادہ پایا اور انہوں نے قسور گردیزی کے ایمرسن کالج کے ادوار کےقصوں کو یاد کیا اور بتایا کہ وہ کالج کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی تھے اور اب کالج کی صد سالہ جشن میں ان کا میڈل بھی رکھا جائے گا ۔ ڈاکٹر صاحب مجھے ان کی فریم شدہ تصویر کالج کی فوٹو گیلری کے لئے لانے کو کہا۔ اس کے ساتھ ہی قسور گردیزی کی سوانح عمری کی سرسری خدوخال بیان کر نے کے بعد رضی بھائی کے ذمہ لگایا کہ احمد سلیم کی لکھے ہوئے ابتدائی مسودے کو آپ پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔
اب جب کہ پوری قوم اس وسوسہ کا شکار ہے کہ شاید پاکستان کا آزاد ملک بن جانا بہت بڑی حماقت تھی۔ بالخصوص جب دوسرے آزاد ملکوں کے حالات کا موازنہ کرتے ہیں تو احسا س ہوتا ہے کہ چین ہم سے دو برس بعد آزاد ہوا اور اس کی لیڈرشپ نے آج چین کو دوسرا بڑا ملک بنا د یا ھے۔
جاپان اور جرمنی نے دو عالمی جنگوں میں تباہ و برباد ہونے کے بعد بھیہعوام کو سرخرو رکھا ھوا ہے۔ ویتنام کے گوریلوں نے امریکہ جیسی سپر پاور کا نہتے مقابلہ کیا ۔ایران دنیا بھر کے فرعونوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ایک ہم ہیں کہ ایک دوسرے کو فتح کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آج جب ہمارے مقتدر حلقے، ملٹری، بیورو کریسی،عدلیہ اورجاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر مشتمل اشرفیہ کے گٹھ جوڑ نے کروڑوں انسانوں کو لاچار اور لا وارث کر دیا اورآج تک حقیقی سیاسی جدوجہد کرنے والےافراد اور پارٹیوں کو نشانے پر لیا جاتاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آنے والی نسلوں کو سابق قوم پرست عوام دوست سیاسی شخصیات سے روشناس کروایا جائے ورنہ تاریخ دانشوروں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔
قسور گردیزی کے ہم عمر خاندانی رشتہ دار ان کے ذاتی کردار کو زیادہ جانتے ہوں گےجن کے ہمراہ انہوں نے لڑکپن اور جوانی گزاری۔اور وہ دوستیاں جن کے ہمراہ انہوں نے علم اور تربیت کا سفر شروع کیا ۔ لیکن اس سے بھی طویل یادیں ان کے سیاسی رفقا اور حلیف جانتے ھوں جن کو عرف عام میں
” Jail Birds ”
کہا جاتا ہے۔
قسور گردیزی کی زندگی کےمختلف پہلوؤں کو جاننے کے لئے ڈاکٹر انوار صاحب کی مشاورت سے ایک گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں
ڈاکٹر صلاح الدین حیدر
شاکر حسین شاکر
روشن خیال لکھاری مظہر عارف
جشید رضوانی اور دیگر روشن خیال ترقی پسند دانشوروں اور سیاسی شخصیات سے رضی الدین اور راقم کے ذمہ لگا۔ اب کافی عرصہ کے بعد ڈاکٹر انوار احمد صاحب کی مشاورت سے ان افراد کی میٹنگ میں سوانح عمری پر کام کی موجودہ صور ت حال تک کی پیش رفت پر بات کریں گے۔ جس کے لئے رضی بھائی اور میں ڈاکٹر صاحب کے گھر ان کی اجازت سے جائیں گے۔ توقع رکھتے ہیں کہ وطن دوست عوام دوست ترقی پسند سیاسی افراد اس سوانح عمری کی تکمیل کے لئے قسور گردیزی کے بارے میں مستند معلومات رضی الدین رضی سے شیئر کریں گے ۔
فیس بک کمینٹ

