پاکستان میں عجیب سیاسی ماحول بن چکا ہے – عوام کو بس خوش کن نعروں اور غیر معمولی وعدوں سے فریب دیا جاتا ھے سیاست دان نورا کشتی کی سوا کچھ بھی نہیں کرتے۔ ایک دوسرے کو الزام تراشی اور عیب دار بتانے کی جستجو ہو رہی ہے ۔ لگتا ہے کہ پوائنٹ سکورنگ سیاست کا دلچسپ کھیل بن گیا ھے۔ جس سے یہ عوام کو بے وقوف بناتے ہیں ۔ ہر لیڈر تیس مار خان بنا ہوا ہے ۔۔ آ زادی کے بعد روز اول سے جو سیاسی گھرانے انگریزوں کے دور میں ان کے چہیتے اور غلام تھے آ ج تک ان کی اولادیں باری باری اقتدار میں آرہی ہیں۔ عام آدمی کا اقتدار میں آنا ناممکن ہے ۔
کیا کبھی پاکستان میں کوئی نچلے یا درمیانے طبقہ سے تعلق رکھنے والا اقتدار میں آیا ہے ۔ ذرا سوچیں کہ کوئی بس ڈرائیور کا بیٹا بھی کراچی لاہور یا اسلام آباد کا میئر بنا ہے ؟ جیسے لندن اور نیویارک میں ہوا ہے ۔ پسماندہ نچلا طبقہ تو صرف بااثر افراد کو اقتدار میں لانے کیلئے کندھا دیتا ہے ۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ لیڈر سیاسی جدوجہد سے کم اور اسٹیبلشمنٹ کے سہارے اقتدار میں زیادہ آتے ہیں اور جب ان کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کے اقتدار کی اب اسٹیبلشمنٹ کو ضرورت نہیں رہی تو وہ اپوزیشن کی سیاست اور عوام کی بھلائی کے منصوبوں کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ میوزیکل چیئر کا کھیل جو ہم سکولوں میں کھیلتے تھے اب تک سیاست میں چل رہا ہے ۔
50 کی دھائی میں نظریاتی اور طبقاتی سیاست۔ کو فروغ ملا اس زمانے میں لیبر اورمزدور یونین کا کردار عوام کی بھلائی کیلئے مثبت تھا بلکہ طلبہ یونین سے نئے سیاسی چراغ روشن ہوئے جن پر پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ ترقی پسند سوچ رکھنے والے مزدور کسان لیڈروں کو مولانا عبد الحمید بھاشانی اور آزاد پاکستان پارٹی کے عوامی منشور کو پذیرائی ملی۔ یاد پڑتا ہے کہ ایک بار عوامی احتجاج میں ریلوے ورکرز کی یونین کے صدر مرزا ابراہیم اور communist party کےفیض احمد فیض کی قیادت میں پاکستان بھر میں 13 روز کیلئے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا گیا وہ ایوبی ایوبی آمریت کا دور تھا۔ لیکن اس دوران ملکی یا ذاتی املاق کو نقصان نہیں پہنچا گیا جو آج کسی پارٹی میں جو صرف اپنے لیڈروں کے گماشتہ ہیں توڑ پھوڑ کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ تمام پارٹیاں بغیر کسی نظریات کے ذاتی فلاح وبقا کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں ان حالات میں اکثر اپنے والد مرحوم کے سیاسی ادوار یاد آتے ہیں مجھے اپنے والد سید محمد قسور گردیزی کی یادیں آنکھوں کے سامنے ایسی گھومتی نظر آتی ہیں جیسے وہ آج بھی کہیں عازم سفر ہیں اور کبھی اچانک ںظر آجائیں گے۔ ایسے سیاسی افراد نے اپنے قول و فعل سے عوام کا شعور بلند کیا۔ سید محمد قسور گردیزی کو ابدی نیند میں گہوارے میں دوستوں ، خاندان گردیز کے احباب اور سینکروں کارکنوں نے خود سلایا تھا ۔
مجھے یاد ہے کہ گھر سے ان کے مقام تدفین امام بارگاہ شاہ گردیز تک، ان آخری سفر پر میں ان کےجسد خاکی کے ساتھ ایمبولینس میں ان کی خاموش اور پرسکوں چہرے سے گفتگو کرتا رہا اور روتا رہا۔ ” بابا، میرے دوست کوئی بات تو کریں. چپ کیوں لیٹے ہیں۔
آخری آرامگاہ کےقریب دیوان خانہ میں عزیز و اقارب اور دیگر احباب نے ان کے جسد خاکی کو کندھا دے کر امام بارگاہ میں پہنچایا جہاں ان کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ حضرت شاہ یوسف گردیز کے دربار کے مخصوص احاطے میں سپرد خاک کیا۔وہ منظر اورلاہور میں ان کی وفات سے چند لمحے پہلے جب وہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے آئی سی یو کے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اتفاق سے میں ان کے سرہانے سٹول پر بیٹھا تھا صبح کی اذان ختم ہوئی تو میں نے ان کے بے سدھ جسم میں حرکت دیکھی۔ کھڑا ہو کر دیکھا تو کھلی آنکھوں کے ساتھ لبوں پر جنبش محسوس کی ۔ اپنے کان کو قریب لگایا تو میرے والد غالبا” بہ اذن خدا اپنی والدہ کو دیکھ رہے ہوں گے کیونکہ نہایت نحیف آواز میں ” اماں اماں ” پکار رہے تھے۔
نرس کو اطلاع دی جس نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو بلایا ، مجھے ْآ ئی سی یو سےباہر نکال دیا گیا۔۔میرا د ل دہل گیا ۔ گھر پہ اطلاع دی وہ دن 11 ستمبر 1993 اور آج کے دن تک 31 برس کی یتیمی بھی مجھے زندگی کے متحرک میں 43 سال والد کی حیات میں گزارے ہوئے میرا سرمایہ ہیں اور دل و دماغ پہ چھائے رہتے ہیں-آج کی سیاست میں فرضی ضرورت مندوں کو جمع کر کےراشن تقسیم کی فلمیں چلتی ہیں اور عوامی مکانات ، روز گار خیرات میں تو مل سکتی ہے لیکن حقیقی طور پر کوئی مطمئن نہیں -وڈیرے اور سرمایہ دار سیاستدان جو عموما” ایوانوں میں جمہوریت اور انسانی حقوق کا پرچار کرتے رہتے ھیں۔ ایوان کی چھت پر لکھے باری تعالے کے ناموں کو گواہ بناتے ہیں لیکن کسی میں اپنا احتساب کرنے کی جرات نہیں۔ ترقی یافتہ ممالک جمہوریت کو عوام کی حکومت .. عوام کے ذریعہ۔ عوام کے لئے قرار دیتے ہیں جو ہمارے جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس طرح بدل دی گئی ہے – دولتمندوں کو اقتدار میں رکھنے کے لئے غریبوں کی آزادی خریدنے کے لئے دولت کا استعمال۔ تاکہ دولت مند اقتدار میں رہیں۔ ووٹوں کی منڈی لگتی رہے ،کروڑوں روپیہ سے الیکشن لڑےجاتے ہیں جو غریب عام آدمی تو درکنار سفید پوش بھی نہیں لڑ سکتا۔۔
وہ ذاتی مفا د میں بار بار جمہوریت کا نام لیتے ہیں حالانکہ ان کی جمہوریت کا مطلب۔ Use of wealth)
To( buy Liberty of the poor to keep wealth in Power )
دولتمندوں کو اقتدار میں رکھنے کے لئے غریبوں کی آزادی خریدنے کے لئے دولت کا استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ دولت مند اقتدار میں رہیں۔
فیس بک کمینٹ

