زندگی یا ”جندڑی“ کی متنوع تصویروں کو فوٹو گرافی کی تکنیک میں محسوسات سے ہم آہنگ کرنے کا عنوان سفرنامہ ہے۔ڈاکٹر صلاح الدین حیدر نے اس تعریف میں سفرنامے کی دو بنیادی خصوصیات بیان کی ہیں؛ اوّل ”زندگی کی متنوع تصاویر“ اور دوم ”متنوع تصاویر کی محسوسات سے ہم آہنگی“
سفرنامہ فاصلوں کے درمیاں ان دونوں خصوصیات کا حامل ہے۔گویا معنوی لطف کی تجسیم کا خوبصورت مظاہرہ۔دوران مطالعہ افریقہ کے دور افتادہ ملک ”ملاوی“کے قدرتی حُسن‘ زندگی کے تنوع‘ تہذیب و ثقافت اور مقامی دیومالاکی پراسراریت کو جس خوبصورتی سے سفرنامہ نگار نے محسوسات سے ہم آہنگ کیا ہے‘ قاری ناصرف خود کو اس کا حصہ تصور کرنے لگتا ہے بلکہ اس کے حصار سے باہر ہی نہیں نکل پاتا۔اس کی بنیادی وجہ ڈاکٹر علی اطہر کا ذوق جمالیات اور حساس مزاج ہے۔ ایک شاعر اور ادیب سے زیادہ ایک حساس انسان ہونے کے تجربات اور محسوسات کواس سفرنامے میں محسوس کرتے ہوئے اس سچ پر یقین پختہ ہونے لگتا ہے کہ انسان کہیں بھی مقیم ہو‘ اس کو محبت‘ نفرت‘ خوشی‘ غمی سب یکساں طور پر ودیعت ہوتی ہے۔
سفرنامہ ملاوی میں ڈاکٹر علی اطہر کہیں بھی اپنی مٹی کی خوشبو نہیں بھولے۔جہاں بھی گئے‘ جس بھی تجربے سے گزرے‘ اس کا موازنہ اپنے وسیب سے کرتے نظر آتے ہیں۔سفرنامے کے پہلے ہی باب میں ایک جگہ وہ لکھتے ہیں؛
”کتنی خوش قسمت ہے یہ لڑکی جسے اپنی تاریخ پر اتنا ناز ہے“
(حوالہ: آجاؤ افریقہ‘ صفحہ: 71)
یہ جملہ سفرنامہ نگار نے ائیر پورٹ پر اسے لینے کیلئے آنے والی” خاتون ڈرائیور “ ایلسی کے بارے میں لکھا ہے لیکن اس جملے میں پنہاں دکھ علی اطہر ہی محسوس کر سکتا ۔ دیکھا جائے تو یہ اپنی مٹی سے پیار کرنے والے ہر اس شخص کا المیہ ہے جسے اپنی تاریخ اور قدیم ورثے کو قابل فخر انداز میں پہنچانے کی بجائے تروڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہو۔ ملاوی میں موجود طبقاتی تقسیم‘ معاشرتی محرومیوں اور جمہوریت کے حصول کی جدوجہدکے حوالے سے اظہاریہ بھی قابل توجہ ہے۔ فیض احمد فیض کی مشہور زمانہ نظم ”آجاؤافریقہ“ کا برمحل حوالہ بھی وہاں کی عوامی جدوجہدکی آفاقیت کو سمجھنے میں معاون ہے۔
عالمگیریت(Globalization)نے خطہ ارضی کو بظاہر ہم آہنگی کے غلاف میں لپیٹ رکھا ہے لیکن اس غلاف کی ہر تہہ کے اندر چھپے عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے مافیاکی جکڑ موجود ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کی اکثریت کوناصرف اسی مافیا کے ہاتھوںاپنی ثقافتی شناخت کے بتدریج خاتمے کا سامنا بھی ہے بلکہ معاشی مسائل کے نام پر نام نہاد امداد اورترقی کے خوابوں کے پس منظر میں جدید نوآبادیاتی نظام کی مضبوط ہوتی ہوئی گرفت بھی ہے۔بین السطور ان تمام حالات کا واضح اظہار اس سفر نامے کی اہم خوبی ہے۔
”ریسیپشن ڈیسک پر رکھی کمپیوٹر سکرین کے پیچھے اونچے سٹول پر بیٹھی ایک نوعمر چینی گڑیانظر آہی گئی“
(حوالہ: شب گزری تے جگ سویا‘ صفحہ: 22)
سفرنا مہ نگار کی اس چینی گڑیا سے ملاقات چین کے تعمیر کدہ فائیو سٹار ہوٹل میں ہوتی ہے۔یہ ہوٹل دراصل عالمی سرمایہ کاری کے پھیلاؤ کی ایک جھلک ہے جس کا ذکر کر کے علی اطہر نے منظروں کی جزیات کے ذریعے بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا ہے۔یہ پورا حصہ ایک طرح سے Satire بھی ہے اس نظام پر جس کے نشانے پر ہم سب ہیں۔ہمیں اس سفرنامے میں چینی اور بھارتی سرمایہ کاروں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن سے اپنے ملک کے پالیسی سازوں کا موازنہ اور ان کی نااہلی پر تاسف کا اظہار بھی نظر آتا ہے۔سیاسی عدم استحکام تیسری دنیا کا خاصہ ہے۔اس کے مظاھر کا ذکر بھی ہمارے ہاں کی سیاسی صورتحال کے موازنے کے ساتھ اس سفرنامے میں موجود ہے۔ ایک جگہ علی اطہر لکھتے ہیں کہ؛
”چین کی اقتصادی وسعت پسندی کی بات تو ہمیں سمجھ آتی ہے مگرغیر ممالک کے مالی وسائل میں انڈیاجتنی حیران کن تندہی سے اپنے حصے کا زرمبادلہ کشید کرنے کیلئے جتن کر رہا ہے‘ کاش وہ ہمارے کارپردازان سیاست کیلئے لمحہ فکریہ ہوتا“
(حوالہ: باری تھاں نی چڑھیا‘ صفحہ: 73)
رقص اور موسیقی براعظم افریقہ کی خصوصیت ہے۔شادی‘ بیاہ ‘ فوتگی غرض خوشی اور غمی کا کوئی بھی موقع رقص اور موسیقی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔جب میں نے سفر نامہ پڑھنا شروع کیا تو میری دلچسپی ملاوی کی ثقافت کے بارے میں زیادہ تھی۔میں سوچ رہا تھا کہ کب علی اطہر رقص وموسیقی سے لطف اندوزی کے حسین تجربے کو اپنے قلم کی زینت بناتا ہے۔ درحقیقت چین میں اپنی پی ایچ ڈی اور بعد ازاںملازمت کے دوران افریقی طلبا کی تدریس کے دوران افریقی دوستوں کی محافل میں موسیقی اور رقص سے ان کی والہانہ محبت کا اظہارمیرے تجربے میں ہے۔ لہٰذا اس حوالے سے ایک شاعر اور ادیب کے محسوسات میرے لئے بہت اہم تھے۔موسیقی کے بارے میں اس طرح کا بیانیہ علی اطہر کا اس سے گہرے شغف کا غماز ہے۔اسی طرح مختلف آلات موسیقی کا ذکر بھی اس سفرنامے کی ناصرف دلچسپ معلومات میں اضافہ ہے بلکہ ملاوی کے لوگوں کی موسیقی اور رقص سے گہری اور روائتی وابستگی کا خوبصورت تجزیہ بھی ہے۔چند مثالیں دیکھیں؛
”ہماری زبان پر میرے ماہیا صنم جانم کی میں کریا نمی دانمشب گزری تے جگ سویانی میں جگیا نمی دانمنی میں کملی کملینی میں کملی کملی نی میں کملی کملی مرے یاردی۔۔۔تھا۔موسیقار چکرابرتی نے راگ بھیروں میں یہ گیت کمپوز کرتے وقت جس مہارت سے مختلف ٹھاٹھوں کی آمیزش کی اور اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورتی کا مظاھرہ کرتے ہوئے موسیقی کی دلکش باریکیوں کی چھب دکھاکر بھیروںمیں واپسی کا سفر کیا‘ یہ اس کا ہی کمال تھا“
(حوالہ: شب گزری تے جگ سویا‘صفحہ: 03۔92)
”دروازے پر کسی نے دھیرے سے چھ ماتروں پر مشتمل دھادرا کی معروف تال کا ٹھیکہ بجانا شروع کیا۔ جیسے کوئی نازک اندام اپنی مخروطی انگلیوں سے بڑی احتیاط کے ساتھ دروازے کے سراپا کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلئے سنبھلی سنبھلی چتاونی دے رہی ہو“
(حوالہ: باری تھاں نی چڑھیا‘صفحہ: 33)
”جوناتھن پہلے ہی گھونٹ پربدک گیا اور لہک لہک کر اپنی زبان میں ایک فوک گیت گانا شروع کر دیا۔ایک خاص ردھم کے ساتھ نچلے سُروں میں استھائی اور پھر رفتہ رفتہ اونچی ہوتی ہوئی انترے کی تان نے ایک سماں باندھ دیا تھا۔ مگر جب ہر انترے کے اختتام پر وہ اپنے گھٹنے کو ’گوما‘ (Ngoma) کی طرح بجاتے ہوئے انگلیوں اور ہتھیلی کی مدد سے ماتروں کی چال کی سنگت میں منہ سے کچھ آوازیں نکال کر ایک بھرپور صوتی آہنگ کو مکس کرتا تو اسکی گائیکی جھومنے پر مجبور کر دیتی۔ ’گوما‘ ہمارے طبلے کی طرح کا ملائم لکڑی اور گائے کی کھال سے بناہوا ایک چھوٹے سائز کا افریقی ڈرم ہے “
(حوالہ:دھا دھِن تا دھا دھِن دھِن تا‘ صفحہ:94)
سفر نامے کا ایک اور پہلودیکھیں جب علی اطہر موزمبیق اور ملاوی کی مشترکہ سرحدکا ذکر کرتا ہے۔ان دونوں ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کے درمیان حد فاصل محض ایک سڑک ہے جس کا تذکرہ ہمیں دلکش شاعرانہ زبان میں ملتا ہے؛
”مگر ہماری حیرانی دوچند ہو گئی جب سڑک (سرحد) کے دونوں طرف مکئی اور لوبیاسے بھرے کھوکھے‘ آلو پیاز‘ ٹماٹر اور دیگر سبزیوںکے ٹھیلے‘ شکر قندی‘ کیلے اور بیروں سے لدی گدھا گاڑیاں‘ طرح طرح کے کھابوں سے سجے ڈھابے اور ان سب کے گرد لوگوں کا ہجوم نظر آیا۔۔۔دونوںطرف کے لوگ کسی بھی حد بندی سے آزاد دونوں طرف بڑی بے فکری سے گھوم پھر کراشیائے ضرورت کے بھاؤ تاؤ اور خریداری میں مصروف تھے‘۔۔۔۔۔اس طرف چولھے میں اُس طرف کے کوئلے ہانڈی پکانے میں مددکررہے ہیں اور اُس طرف کی بھینس اِس طرف کا چارہ چر رہی ہے۔یہاں کا صابن وہاں کے کپڑے دھونے کے کام آرہا تھا جبکہ وہاں کا منجن یہاں کے لوگوں کے دانت صاف کرنے کیلئے استعمال ہو رہا تھا۔ ‘
(حوالہ: دھا دھِن تا دھا دھِن دھِن تا‘ صفحہ: 55)
”او دھاڑی اوئیے“کا لفظ سرائیکی زبان کا وہ صوتی انداز ہے جس میں پنہاں معنی محسوس توکئے جا سکتے ہیں مگر اس کا بیان شاید ممکن نہیں تومشکل ضرور ہے۔ایک پاکستانی نژاد ملاوین خاندان سے سفرنامہ نگار کی ملاقات کا احوال بھی خاصے دلچسپ پیرائے میں کیا گیا ہے۔”او دھاڑی اوئیے“ کا صوتی اور معنوی لطف بھی اسی احوال میں بڑا برمحل اور برجستہ نظر آتا ہے۔
مکھانگا جزیرے کے سفر کا احوال قاری کو وہاں کے قدرتی حسن‘ جنگلی حیات اور دریائے شیری کی ہیبت کے سحر میں مبتلا کر دیتا ہے۔اس روداد کے مطالعے سے ملاوی کے دیہی علاقے کے لوگوں کے روزمرہ کے مسائل‘ فطری اور غیر فطری مشکلات کو سفرنامہ نگار نے ناصرف محسوس کیا بلکہ ان کے من و عن بیان سے ایک حقیقی تصویر کھینچ کر رکھ دی۔اسی طرح وہاں کے مذہبی عقائد‘ رسوم و رواج‘ لباس اور خوراک کے بارے میں جامع مگر اختصار کے ساتھ معلومات کا خزانہ بھی آشکار کر دیا۔
”یہ مذہب کے ٹھیکیدارکس طرح سے مصیبت زدہ لوگوں کی بے بسی سے کھیلتے ہیں۔کبھی ڈرا کر اور کبھی لالچ دے کر“
(حوالہ: ایدھے چکدے پھٹے‘ صفحہ: 39)
کلیمنڈرا کا یہ جملہ تمام دنیا کے مذہبی ٹھیکیداروں کی لالچ‘ جہا لت اور حرص وہوس کو کھول کربیان کر دیتا ہے۔ ان ٹھیکیداروں کا تعلق کسی بھی براعظم سے ہو‘ انکی فطرت اور جبلت میں یکسانیت لازم ہے۔اسی باب میں وہاں کے لوگوں کے عقیدے کے مطابق ” چیوتا“ دیوتاکی اعلیٰ ترین تخلیق کارکی حیثیت کا تزکرہ بھی شامل ہے۔ ملاوین دیو مالا کے بارے میں معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے ہمیشہ غیر مرئی طاقت کو مسیحا کا درجہ دیکر اپنے مسائل کے حل اور روحانی تسکین کے حصول کی کوشش ہر خطہ ارض میں کی ہے اور یہی انسانی فطرت کی یکسانیت ہے۔جس کا اظہار کبھی رام‘ کبھی خدا تو کبھی زرتشت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔حیات و موت کا فلسفہ بھی ملاوین کے ہاں قطعاََ مختلف نہیں۔ مذہب کا تنوع (زمینی مذاہب ہوں یا الہامی) بھی ملاوی میں موجود ہے۔
”جدید سائنسی دور میں بھی انسان اپنے اندر کے خوف سے خاصا توہم پرست واقع ہوا ہے۔گلوبلائزیشن کے اس دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجوداکثریت کے ہاں سوچنے کا انداز نہیں بدلا۔اب بھی ہمارے سینوں میں نامعلوم روائتیں اور جھوٹی سچی کہانیاں ان کے ماننے والوں کے ہاں ایمان کی حد تک مانی جاتی ہیں“
(حوالہ: حوالہ: ایدھے چکدے پھٹے‘ صفحہ: 59)
کلیمنڈرا کے ان لفظوں میں تمام صاحب الرائے انسان جو استدلال اور مشاہدے کے قائل ہیں‘ ان کا المیہ چھلکتا ہے۔اس سفرنامے کا سب سے دلچسپ کردار کلیمنڈرا کا ہے۔اس نے سفرنامہ نگار کی ملاوین ثقافت ‘ مذہب اور خصوصاَ افریقہ کے جادوکے بارے میں تجسس کی گتھیاں سلجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
علی اطہر سے میرا محبت کا رشتہ چار دہائیوں پر محیط ہے۔ اس کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں۔وہ بحیثیت شاعر‘ نثرنگار اور ادیب اپنے اسلوب کی بنا پر ایک منفرد مقام رکھتا ہے مگر سفرنامہ نگاری میں بھی اس نے اپنی زبان کی چاشنی اور بیان کی دلآویزی سے دل جیت لئے۔ خوشی کی لہرمسکراہٹ کی صورت میں میرے لبوں پر اس وقت نمودار ہوئی جب اس سفرنامے میں جھنگ کی ”وختی“ یا ”وگتی“ جگت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ فی البدیہ مزاح جگت ہے بشرطیکہ اس میں لچرپن نا ہو۔اہل جھنگ کو یہ خوبی نصیب ہے کہ وہ فی البدیہ مزاح سے سماں باندھ لیتے ہیں۔ فی البدیہ مزاح دنیا کے ہر حصے میںموجود ہوتا ہے کیونکہ انسانوں میں سوائے معاشی وطبقاتی تقسیم کے سب یکساں ہے۔ہمارے جھنگ کی ”وختی” کا حوالہ سفرنامہ نگار کے اہل زبان ہونے کے باوجود ایک خوش کن اورزیرک مشاہدے کی دلیل ہے۔
”فاصلوں کے درمیاں“ افریقہ جیسے نظرانداز براعظم کے ایک دور افتادہ اور پسماندہ ملک ملاوی کی تاریخ‘ ثقافت‘ سیاست‘ معیشت اور عقائد کے بارے میں ایک انتہائی اہم دستاویز ہے۔اس دستاویز میں سب سے اہم ذکر”ملاوی میں بھیک مانگنے پر پابندی“ کا ہے۔علی اطہر نے اس پر نہایت دردمندانہ انداز میں جو تبصرہ کیا ہے‘ اس کے درد کو ہر پڑھنے والا محسوس کرتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

