پچھلے دنوں ایک نوجوان ڈاکٹر کوچلڈرن ہسپتال لاہور میں بدترین تشدد کانشانہ بنایاگیا۔اس کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اوربڑی مشکل سے اس کی جان بچی ۔اس طرح کے واقعات روزمرہ کا معمول بن چکے ۔اُس سے قبل بھی ایک لیڈی ڈاکٹرکوبدترین تشدد کرکے زخمی کیاگیاتھا ۔میں سوچتی ہوں اس قدر عدم برداشت ہمیں چند برسوں میں ہی نظرآئی کہ ہم انسانیت اور خواتین کے تقدس کے سارے سبق بھول گئے ۔چونکہ گھرمیں دوبچے اورشوہر ڈاکٹرہیں ۔بچوں کے کچھ کولیگز گھرپرآئے تو میں نے یہی موضوع چھیڑدیاکہ آخر ایسا کیاہوجاتاہے کہ نوبت مارکٹائی تک پہنچ جاتی ہے ۔تواسی گپ شپ کے دوران میں جس نتیجے پرپہنچی سوچا آپ کے گوش گزار بھی کردوں ۔
چلڈرن کمپلیکس میں جوبچہ لایاگیا۔اُس کی حالت پہلے سے ہی کافی خراب تھی ۔اُس بچے کو رُوٹین کی ویکسین والدین نے نہیں کروائی تھی ۔اس کو گھر پرہی خسرہ کی بیماری ہوئی اوراسی دوران نمونیہ کااٹیک ہوا۔حالت بہت خراب تھی جس کسی چھوٹے ہسپتال اس کولے کرگئے ہوں گے وہاں ڈاکٹرزنے بچے کا چیسٹ ڈرین ڈالا کہ سانس کی دشواری ٹھیک ہوسکے یعنی نمونیہ میں چیسٹ ڈرین پہلے سے ہی ڈالی ہوئی تھی اورDNRسائن کیاہواتھا۔میڈیکل کی زبان میں اس کامطلب ہے DNR means dwnot resuscitate of died ۔
توقارئین کرام یہ تومریض بچے کی کہانی ہے ۔اب دوسری طرف کی سنیں ایک لیڈی ڈاکٹر اوردوسرا میل ڈاکٹرڈیوٹی پرتھے ۔مرتے ہوئے بچے کو وہ نہ بچاسکے کیونکہ مجھے اس کی صرف ایک ہی وجہ سمجھ میں آسکی کہ وہ دونوں جوڈیوٹی پرموجودتھے وہ ڈاکٹرزتو تھے لیکن خدا نہیں تھے ۔بچے کے فوت ہونے پرانہوں نے ڈاکٹرپرشدید تشدد کیا۔میزپرجوچیزیں پڑی تھیں اسے ماریں ۔اوریہ تشدد ایک پولیس اہلکارکررہاتھا۔ایک گھنٹہ دروازہ بند کرکے مارتے رہے پھر سینک یعنی واش بیسن میں اس کاسر رکھ کر کہتارہاکوئی چیز لاﺅ اس کاسرکاٹناہے ۔بڑی مشکل سے گارڈذ نے دروازہ توڑکربچایا ۔اب میرے بچے اوران کے دوست اپنے اپنے تجربات بتانے لگے جووارڈزمیں ان کو پیش آئے ۔ایک بیٹی گائنا کالوجسٹ ہے ۔اس کے مطابق جوبھی حاملہ خاتون آتی ہے اس کاHBلیول کم یعنی خون کی کمی کاشکار ہوتی ہے جو ڈلیوری کے وقت اورکم ہوجاتی ہے ۔اب نوماہ کی کمی ڈاکٹر9منٹ میں کیسے پوری کرے ۔پھر وارڈزمیں پروفیسر صاحبان بہت کم تشریف لاتے ہیں وارڈزایف سی پی ایس ٹریننگ کرنے والے ینگ ڈاکٹرزکے سرپرچل رہے ہیں جنہیں حکومت مشاہرہ یاوظیفہ کہہ لیں وہ عنایت کرتی ہے ۔دنیا میں کہیں مثال نہیں کہ وظیفے پرٹیکس لگے مگرمیرے پاکستان میں وظیفے پرٹیکس لگتاہے چونکہ یہ میرے گھر کی کہانی ہے یوں میں عینی شاہد ہوں ۔
تنخواہیں یکم کومل جاتی ہیں چونکہ یہ وظیفہ ہے اکثراس کابجٹ بہت دیربعدملتاہے اورچونکہ ملک بدحال ہے توہرشعبہ بدحال ہے ،وارڈ انچارج کو ہدایات ہوتی ہیں کہ ہرسال دوتین سیٹیں ہی اناﺅنس کریں مجھے خودایک ایچ اوڈی نے میرے شکایت کرنے پربتایامیں نے کہاآپ نے صرف ایک سیٹ نکالی حالانکہ زیادہ کی ضرورت تھی ۔اورپلاسٹک سرجری میں ٹرینی ڈاکٹرز پہلے ہی کم ہیں توانہوں نے بتایاکہ میں لکھ کربھیج چکاہوں کہ ہمیں سات آٹھ ٹرینی ڈاکٹرزکی ضرورت ہے ۔مگرایک سیٹ دی گئی ہے ۔یقینا اس لئے کہ جتنی بھرتی ہوئی وظیفہ دیناپڑے گا۔
اب قارئین کرام ورک لوڈ کاآپ خوداندازہ کرلیں ۔72گھنٹے بھی ڈاکٹر ڈیوٹی کرتے ہیں کیونکہ بہت کمی ہوتی ہے ۔میری بٹیاں صبح آٹھ بجے جاتی ہیں اوراگلے دن رات آٹھ بجے گھر آتی ہیں ۔اسی دوران نیند ہسپتال کے شورمیں اندازہ کرلیں کیسے آئے گی۔کھانے کاکیاحال ہوگا۔اورخوش اخلاقی ضرور دکھانی ہے جولوگ بولتے ہیں وہ وارڈزمیں صر ف آبزروکرنے کے لئے آکربیٹھیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں لواحقین ڈاکٹرزکوذاتی ملازم سے براسمجھتے ہیں پھر کچھ پیشے ایسے ہیں کہ وہ مریض سمجھتے ہی کہ ہم پروٹوکول لوگ ہیں تمام ڈاکٹرزبتارہے تھے کہ صحافی آتے ہی بتائے گامیں صحافی ہوں کارڈنکالے گااوربرے انداز میں پہلے اورجلد سروس کامطالبہ کرے گادوسرانمبروکلاکاہے اورپولیس کارویہ آپ ملاحظہ فرماچکے وہ توسرکاٹ رہاتھا۔اب آپ کہتے رہیئے کہ ڈاکٹرزکارویہ بہت خراب ہے ۔بالکل ہوسکتاہے ،فرشتہ نہیں ہے ۔لیکن قارئیں کرام میں دوسری طرف کی بات بھی کروں گی جوباہمی گفتگومیں میں نے نتیجہ اخذ کیاہے کہ پبلک جاہل نہیں جاہل ترین ہے ان کو کیسے ہینڈل کرناہے ۔یہ ڈاکٹرزکودیکھنا پڑے گا۔کیونکہ ابھی کل کی بات ہے کہ بھانجا سرجن ہے ۔بتارہاتھاکہ شوگرکنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے ایک مریض کی دونوں ٹانگوں میں بلڈ سپلائی ختم ہوگئی ۔اس کو بچاناہے تودونوں ٹانگیں کاٹنا پڑیں گی ۔اب کیاکیاجائے ۔لواحقین کو بتایا تولڑپڑے کہ تمھیں کچھ آتانہیں ہے ۔علاج کرواب یہاں نوبت کیاآئے گی جلد یابدیر ٹانگیں کاٹنی ہیں ورنہ باقی جسم لپیٹ میں آتاجائے گاتوڈاکٹرنے مار نہیں کھانی وہ اسے بڑی جگہ ریفرکردے گا۔ریفر کے سوبہانے ،اب مریض مزید برباد ہوتاایڑیاں رگڑتامرے گا۔تواب بتائیں ایسی صورتحال میں کہاں جائیں اورکس کوسمجھائیں ۔جب تک بیماری ناقابل برداشت نہ ہوجائے ہم ڈاکٹرسے رابطہ نہیں کرتے ۔یہاں ڈاکٹرکی غلطی جومیں نے آبزروکی وہ یہ ہے کہ جاہل مریضوں سے کونسلنگ کافقدان ہے ۔کیونکہ میڈیکل کنڈیشن ڈاکٹرجانتاہے عام آدمی کو پتا نہیں ہے اسے مریض کی حالت سمجھائی جائے اس کے لیول تک آکر۔توایسے حالات کوکنٹرول کیاجاسکتاہے ۔دوسرا اہم پہلو جوسب سے زیادہ غورطلب اوراس پرعلیحدہ مضمون ہوناچاہیے کیونکہ تمام ٹرینی ڈاکٹرزجن سے میری بات ہوئی خواہ وہ لاہورکے پی جی آرہوں یاملتان کے سب نے ایک ہی بات کی کہ پروفیسرڈیوٹی پرنہیں آتے ۔اور ان بچوں کے یہ سپروائزرہیں لہذا ان کاہرطرح کارویہ ہمیں برداشت کرناپڑتاہے ۔اپنی کمزوری پرپردہ یہ اس طرح ڈالتے ہیں کہ ان ینگ ڈاکٹرزسے ان کارویہ انتہائی خراب ہے اورمریضوں کے سامنے وہ ینگ ڈاکٹرز سے انتہائی توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اوریہ بد بخت نہیں سمجھتے کہ ان کی غیر موجودگی میں جب وہ پرائیویٹ پریکٹس کی عیاشی انجوائے کررہے ہوتے ہیں تویہ ینگ ڈاکٹرزہی وارڈ سنبھال کر بیٹھے ہوتے ہیں کہ مریضوں کے عتاب سے ہم بچے ہوئے ہو ۔میری سمجھ سے باہر ہے کہ حکومت ان کی حاضری کی طرف توجہ کیوں نہیں دیت ۔میں رضی الدین رضی صاحب کو ایک پوسٹ ارسال کررہی ہون جوان ینگ ڈاکٹرزکے واٹس ایپ گروپوں پروائرل ہورہی ہے ۔اس سے اندازہ ہوسکتاہے کہ وارڈزمیں لواحقین کایہ رویہ بنتاہے ۔اب تشد دکاشکارہوے والاینگ ڈاکٹرز استعفیٰ دے رہاہے اورمستقبل میں اس کی ذہنی کیفیت کیاہوگی اس کااندازہ لگایاجاسکتاہے ۔اوراس وقت توپاکستان کاہرمحکمہ بدانتظامی کی اعلیٰ مثال بناہواہے ۔لیکن ڈاکٹرززیادہ ہائی لائٹ ہوں گے کیونکہ اس سے زندگی موت جڑی ہے ۔توقارئین ارباب اختیار پروفیسر ڈاکٹرزکانوٹس لیں ان کے رویئے کانوٹس لیں تاکہ ٹرینی ڈاکٹرزکی عزت نفس مجروح نہ ہوں ۔میری یہ استدعا ہے ان کے متعلق خاموش سروے کر وایاجاسکتاہے ۔اتنامشکل نہیں ہے کیونکہ یہ بچے توبلیک میل ہیں کیونکہ ایف سی پی ایس کی ڈگری لینی ہے ۔آخرمیں صحافیوں سے بھی التجا ہے کہ ہتھ ہولارکھا کریں ۔کم ازکم حقائق کوسمجھیں صر ف مصالحہ پرتوجہ نہ دیں جب آپ خبر لگاتے ہیں کہ خاتون نے ہسپتال کے دروازے پربچہ جنم دیا ۔توسوچیں قدرت نے آٹھ سے دس گھنٹے کاوقفہ دیاہے اورمریض یہ آٹھ گھنٹے گھر پرتاخیر کرکے عین جب بے بس ہوئے توہسپتال بھاگے ۔توبچہ دروازے پرہی پیداہوگا۔صرف گرم گرم خبریں نہیں پبلک کوآگاہی سے بھی نوازیں ۔اللہ حافظ

