مئی 1989ءمیں جب میں بھارت کے دورے پرروانہ ہورہا تھا تو والد مرحوم سید قسور گردیزی نے مجھے بھارت میں مقیم اپنے دوکلاس فیلوز کے بارے میں بتایا جو تقسیم ہند سے پہلے لائل پور میں ان کے ہم جماعت تھے۔تقسیم ہند کے باوجود ان کی دوستی سلامت رہی۔ اوروہ خطوط کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے۔ ان خطوط کوبھی سرحد عبور کرنے میں کئی مہینے لگ جاتے تھے۔ انہوں نے مجھے دوخطوط دکھائے جن میں ان کے دونوں دوستوں نے پاکستان آنے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن بھارت میں پاکستانی سفارت خانے نے انہیں ویزہ دینے سے ا نکارکردیاتھا۔ والد صاحب نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اس وقت کے وزیرداخلہ اعتزاز احسن سے بھی بات کی تھی تاکہ ویزے کے سلسلے میں ان کی مدد حاصل کی جاسکے۔ والد صاحب نے مجھے ان کے گھروں کے ایڈریس دیئے اور مجھ سے کہا کہ انہیں بتاﺅں کہ ویزے کے سلسلے میں ہم نے کیا کوشش کی ہے۔ ان کے ایک دوست ہربنس سبلوک تھے۔ ہربنس صاحب آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھے اور اس کامقبول پروگرام ”بناکا گیت مالا“ کی میزبانی کرتے تھے۔ یہ پروگرام پاکستان میں بھی بہت دلچسپی سے سناجاتاتھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے” دیس پردیس “ کے نام سے افرادی قوت کی کمپنی قائم کرلی جس کے ذریعے وہ مشرق وسطی اوردیگر ممالک کے لیے کارکنوں کی بھرتی کرتے تھے۔ ہربنس صاحب کو تلاش کرنا مشکل بھی نہیں تھا۔ میں نے ٹیکسی لے کر ان کی ہمشیرہ کے گھر کی راہ لی جن کے ساتھ وہ رہتے تھے۔ ان کی ہمشیرہ غیرشادی شدہ تھیں اور دہلی کے مضافاتی علاقے وسنت ویہار میں رہتی تھیں۔ ٹیکسی ڈرائیور کو وہاں پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ دستک دی تو گھریلو ملازمہ پاکستانی مہمان کا نام سن کرحیران رہ گئی۔ پھر انہوں نے ایک لڑکے کواشارہ کیا کہ وہ مجھے ہربنس کے پاس لے جائے۔انہوں نے بتایا کہ ہربنس کی ہمشیرہ کا ایک ہفتہ پہلے انتقال ہوگیاہے اور آج ان کی آخری رسومات کے سلسلے میں دعائیہ اجتماع ہورہاہے۔ میں گھرکے قریب اس جگہ پہنچا جہاں ان کی آخری رسومات ادا کی جارہی تھیں۔ ان رسومات میں بہت کم لوگ شریک تھے۔مجھے اپنے ملازم کے ساتھ آتا دیکھ کر ہربنس صاحب کے چہرے پر حیرت نمودارہوئی۔ وہ مجھ سے بات کرنے کے لیے اٹھے اور جب انہوں یہ معلوم ہوا کہ میں پاکستان سے آیا ہوں اور سید قسور گردیزی کابیٹا ہوں تو ان کے چہرے پر جوخوشی نمودار ہوئی اسے تحریر میں نہیں لایاجاسکتا۔
انہوں نے خاموشی کے ساتھ مجھے کھینچ کر اپنے پاس بیٹھا لیا کیونکہ اس وقت سوگ کی اس محفل میں دعائیں مانگی جارہی تھیں۔ماتمی رسومات ختم ہوئیں تو ہربنس نے میرے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا ،اتنی مضبوطی سے کہ جیسے اگر انہوں نے گرفت کمزور کی تو میں ہاتھ چھڑا کر کہیں چلاجاﺅں گا۔ انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے میرا تعارف کرایا جو ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے جمع تھے۔ہمشیرہ کے گھر پہنچ کر انہوں نے مشروبات سے میری تواضع کی ۔وہ کئی عشروں کے بعد اپنے کلاس فیلو قسور گردیزی کے بیٹے کو سرحد پار دیکھ کرمسرور تھے۔ پھرانہوں نے اپناحوصلہ بحال کیا اور میرے والد صاحب کی خیریت دریافت کرناشروع کی۔ وہ بتارہے تھے کہ میرے والد صاحب لڑکپن سے ہی انقلابی تھے اوراپنی زندگی محروم طبقوں کے لیے وقف کرناچاہتے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ ہربنس مجھے باربار سر سے پاﺅں تک دیکھ رہے ہیں۔دراصل وہ ان یادوں کومجتمع کررہے تھے جب وہ لائل پور کے تعلیمی ادارے میں میرے والد کے کلاس فیلوتھے اور دراصل اپنے دوست کا عکس مجھ میں دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے دہلی میں میرے قیام اور ٹھکانے کے بارے میں دریافت کیا ۔اجازت لینے سے قبل میں نے انہیں بتایا کہ میں اپنے بچوں اور دیگر رشتے داروں کے ہمراہ آیا ہوں اور دہلی کے علاقے کناٹ پیلس کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ہم دہلی میں ایک روز مزید قیام کرنے کے بعد آگرہ اوراجمیر جانا چاہتے تھے۔ میں نے ہربنس صاحب سے اپنے والد کے ایک اوردوست ملک یسپال کے بارے میں بھی دریافت کیا۔انہوں نے بتایا کہ وہ کرنال میں سپریم کورٹ کے سینئروکیل ہیں۔کرنال ہریانہ کاعلاقہ ہے اور دہلی سے 125کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے بھتیجے سے کہاکہ وہ مجھے اپنی کار میں میرے ہوٹل چھوڑ آئیں ۔انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ بھی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ میرے ساتھ آگرہ اور اجمیر جائیں گے۔ میں چاہتا تھا کہ میرے والد جیسے ایک بزرگ اجمیراورآگرہ میں میری رہنمائی کے لیے کوئی پریشانی نہ اٹھائیں لیکن انہوں نے ساتھ چلنے پر اصرارکیا۔ نئی دہلی میں ایک اوردن مختلف مقامات پرگزرا ۔شہر کے بازار دیکھے ،گاندھی مرگ گئے جہاں مہاتماگاندھی کوقتل کیاگیاتھا۔ ہمایوں کامقبرہ اور قطب میناردیکھا۔ بازاروں میں مجھے سرائیکی دکاندار بھی ملے جنہوں نے یہاں لجپت مارکیٹ قائم کررکھی تھی۔ ایک بزرگ جوڑے سے بھی ملاقات ہوئی جو سرائیکی میں بات کررہے تھے۔ میں نے انہیں روکا اور اپنی مادری زبان میں دریافت کیا کہ کیا آپ کا تعلق ملتان سے ہے ۔وہ مجھے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ پھرانہوں نے بتایا کہ ہمارا خاندان تقسیم ہند سے قبل ملتان میںپاک گیٹ کے قریب رہتاتھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ دہلی کی ہاﺅسنگ سوسائٹی ملتانی کٹڑا میں رہتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں اپنے گھر آنے کی بھی دعوت دی۔وقت کی کمی کے باعث ہم ان کے گھر نہ جاسکے ۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

