دل دو لفظوں سے مل کر بنتا ہے "د”اور "ل” د سے دیا اور ل سے لیا یہ دل بہت ہی شہزادہ قسم کی چیز ہے اس لئے میں دل کے بارے میں لکھنے سے پہلے دل میں سوچ لوں آیا یہ دل اس دل لگی پر آمادہ بھی ہے کہ نہیں ؟
لفظ دل کہنے میں بہت آسان اور سادہ ہے پر یہ دل جب اپنی آئی پر آجائے تو پھر کسی کی پرواہ نہیں کرتا ۔ دن ہو یا رات ،آندھی ہو یا طوفان، چھوٹا ہو یا بڑا یہ دل کسی کی نہیں مانتا اور کیسی بات ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم دل کی بات سنتے ہیں بھلا دل کے کون سے کان ہیں جو سنے گا ۔۔
پہلے میں دل ہی دل میں سوچا کرتا تھا کہ ہم دل کی اتنی کیوں مانتے ہیں ویسے تو دل کی اہمیت دلی طور پہ ہم سب جانتے ہیں مثلاً خواتین آئے دن کہتی ہیں دل نہیں کر رہا کچھ پکانے کو لہٰذا باہر سے کوئی دل پسند چیز منگوا کر کھا لیں گے یا آج دل کر رہا ہے فلاں ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا جائے یا دل کرتا ہے جتنے بھی اچھے ڈریس اور جیولری ہو وہ میرے پاس ہو اور مرد حضرات دل ہی دل میں سوچتے ہیں کیونکہ وہ یہ بات زبان پر تو نہیں لا سکتے کہ دل کہہ رہا ہے بیگم صاحبہ کچھ دن کے لئے اپنی امی کے گھر چلی جائیں اور پھر وہی دل لگی وہی رنگین شامیں وہی رات گئے تک دوستوں کے ساتھ گپ شپ، بے ترتیب کمرہ، بکھرے تاش کے پتے، ادھ جلے سگریٹ۔۔
پر ایسا ہو گا نہیں کیونکہ بیگمات بھی آپ کو دل سے پہچانتی ہیں اب آپ کہیں گے کہ میرا دل تو ایسا نہیں چاہتا جبکہ یہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے میرے آپ کے اور ہم سب کے دل میں کوئی خاص فرق نہیں ہے بس یہی ہے میرا دل کچھ کہے گا آپ کا دل کچھ کہے گا اور ہو گا وہ جو اخبار والوں کا دل کرے گا ان کا دل کرے گا تو یہ چھپے گا ورنہ جو دل میں آئے گا کریں گے اس کے ساتھ اور دل دل کی گردان کے ساتھ میرا تو دل ہی ڈوبنے لگا ہے۔۔ اس دل کو بہلانے کے لئے میرا دل کر رہا ہے کہ میں اپنا دل پسند پیزا اور ڈرنک لوں پھر اس دل پر غور کروں کہ یہ دل آخر چاہتا کیا ہے؟؟؟
فیس بک کمینٹ

