فلم ”پیراڈائز“ 27 جولائی 2023 کو نیٹ فلکس پر جرمن اور انگریزی زبان میں جاری ہوئی. ”پیراڈائز“ ایک سائنس فکشن فلم ہے جو مستقبل میں بنائی گئی ہے۔ یہ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی سفاکیت کو بےنقاب کرتی ہے۔
فلم ایک نجی بائیوٹیک کمپنی میں کام کرنے والے بہترین ملازم کے گرد گھومتی ہے جس کا کام انسانوں کو پیسے دے کر ان کی عمر خریدنا ہے۔ کمپنی دعویٰ کرتی ہے کہ وہ غریب اور بےکار انسانوں سے عمر خرید کر انہیں امیر اور خوشحال بناتی ہے۔ وہ غریبوں کی عمریں بہترین ذہنوں کے مالک انسانوں کو منتقل کرتی ہے تاکہ انسانیت آگے بڑھ سکے اور 5 فیصد ذہین ترین افراد ساری دنیا کے دکھ درد دور کرنے کے لیے طویل عمریں پا سکیں۔ ظاہر ہے کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ کمپنی کے اغراض و مقاصد مال و دولت اکٹھا کرنا ہیں۔
فلم کے ہیرو کا گھر محض اس لیے جلا دیا جاتا ہے کہ اس کی بیوی کا جسم کمپنی کی بوڑھی مالکہ سے میچ کرتا ہے۔ بیوی نے گھر خریدنے کے لیے اپنی عمر گروی رکھی ہوئی تھی. چونکہ وہ گھر کا قرض ادا نہیں کر سکتی تھی اور گھر کے ساتھ اس کی جمع پونجی بھی جل گئی تھی، اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور جبراً اس کی عمر کے چالیس سال ایک آپریشن کے ذریعے کمپنی کی مالکہ کو منتقل کر دیے جاتے ہیں۔ فلم کا ہیرو کمپنی کی مالکہ کو اغوا کر لیتا ہے اور اس کی عمر واپس اپنی بیوی کو منتقل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ بعدازاں پتا چلتا ہے کہ اغوا شدہ خاتون دراصل کمپنی کی مالکہ کی نوجوان بیٹی ہے۔ ہیرو کی زندگی ان واقعات کے نتیجے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور وہ ظلم اور جبر کے نظام کے خلاف مسلح گوریلا جنگ کرنے کا راستہ چن لیتا ہے۔ دوسری طرف ہیرو کی بیوی خودغرضی کا راستہ چنتی ہے اور اس نوجوان لڑکی کی عمر خود کو منتقل کروا کر ایک بار پھر نوجوان بن جاتی ہے۔ نوجوان لڑکی سے اس کی عمر چھین کر اسے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ وہ لڑکی اپنی جوان ماں اور بائیو ٹیک کمپنی کی مالکہ سے اس کی عمر مانگتی ہے لیکن ماں انکار کر دیتی ہے اور نوجوان لڑکی بوڑھی ہو جاتی ہے۔
فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے انسانوں کو ایک دوسرے سے بیگانہ کر دیا ہے اور باہمی رشتوں کا تقدس پامال کر کے ہمیں خودغرض اور بےحس بنا دیا ہے۔ موجودہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں ڈاکٹر سفید کوٹ پہن کر مہذب طریقوں سے انسانیت کا خون کرتے ہیں۔ ہمیں اس نظام کو پہچاننے اور اس کے خلاف عملی جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

