اسلام آباد میں تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کی ایک بار پھر گرفتاری، ملک کے نظام انصاف اور قانون کے منہ پر طمانچہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ایسی نگران حکومت کے دور میں اس لاقانونیت کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔ درپردہ طاقت ور عناصر کے حکم پر پولیس کارروائی درحقیقت یہ واضح کرتی ہے کہ ملک میں نہ تو بنیادی حقوق کوئی اہمیت رکھتے ہیں اور نہ ہی عدالتوں کے حکم کی کوئی حیثیت ہے۔ بلکہ پولیس اور سرکاری ادارے وہی کریں گے جو حکمرانوں کے لئے مناسب ہوگا۔ اس طریقہ سے ریاست کا رہا سہا وقار بھی مسمار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس دوران پاکستان بار کونسل نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے بعد صدر عارف علوی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنا آئینی استحقاق استعمال کرتے ہوئے ملک میں 10 نومبر سے پہلے انتخابات کا اعلان کریں ۔ بار کونسل نے اس حوالے سے 9 ستمبر کو احتجاج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ بار کونسل کے اس ’مشورہ‘ کے بعد صدر عارف علوی انتخابات کے حوالے سے کوئی ایسا اعلان کرسکتے ہیں جس پر عمل درآمد تو نہیں ہوسکے گا لیکن ایک نیا قضیہ ضرور کھڑا ہوجائے گا۔ یعنی انتخابات کا اعلان کرنا کس کا کام ہے۔ اس سے پہلے جنوری میں پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاں توڑے جانے کے بعد سپریم کورٹ میں اس بارے میں دلائل، ریمارکس اور قانونی آرا کا اظہار ہوتا رہا ہے لیکن پرنالہ وہیں رہے گا کے مصداق نہ سپریم کورٹ نے کوئی متبادل راستہ تلاش کیا اور نہ الیکشن کمیشن نے انتخابات کا قصد ظاہر کیا۔
10 اگست کو قومی اسمبلی اور باقی ماندہ دو صوبوں سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیاں توڑنے کے بعد سے آئینی پوزیشن تو یہی ہے کہ الیکشن کمیشن 90 دن کے اندر یعنی 10 نومبر سے پہلے انتخابات کا اہتمام کرے لیکن الیکشن کمیشن نے اس کی بجائے مشترکہ مفادات کونسل میں نئی مردم شماری کے نتائج منظور ہونے کو عذر بنا کر پہلے نئی حلقہ بندیاں کروانے کا اعلان کیا ہے۔ اس کام میں چونکہ تین چار ماہ لگ سکتے ہیں ، اس لئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہورہا۔ ہفتہ عشرہ پہلے صدر عارف علوی نے اس تمام عملی صورت حال کے باوصف چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ انتخابات کی تاریخ پر مشاورت کے لئے مدعو کیا۔ البتہ چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی ایکٹ میں نئی ترامیم کا حوالہ دے کر واضح کیا کہ انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے ، اس لئے صدر سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گویا ملک کے ایک آئینی ادارے کے سربراہ نے مملکت کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائز شخص کا احترام برقرار رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ حالانکہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اگر صدر کی دعوت پر ان سے ملاقات کرلیتے اور ملاقات کے دوران ان پر ساری صورت حال واضح کرکے انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے کسی فیصلہ سے معذرت کرلیتے تو کم از کم دکھاوے کی حد تک ہی سہی صدر کے رتبے اور عہدے کا احترام باقی رہ جاتا۔ دریں حالات واضح ہورہا ہے کہ کسی بھی عہدے اور منصب کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
دوسری طرف صدر عارف علوی کو بھی اپنی پوزیشن کا احساس ہونا چاہئے تھا۔ یعنی ملک میں سیاسی و انتظامی حالات کے تناظر میں انہیں سمجھنا چاہئے تھا کہ تمام معاملات آئینی تقاضوں کے مطابق طے نہیں ہورہے۔ ایک بحران کی کیفیت ہے جس میں کسی کو علم نہیں ہے کہ اختیار کس کے پاس ہے ۔ ایسی صورت میں صدر عارف علوی کو خود ہی اس منصب کا وقار برقرار رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے تھی۔ سوشل سائٹ ایکس پر جاری خط کے ذریعے چیف الیکشن کمشنر کو طلب کرنے کی بجائے انہیں دستیاب انتظامی ذرائع سے چیف الیکشن کمشنر تک اپنی خواہش پہنچانی چاہئے تھی تاکہ کم از کم ظاہری طور سے ہی سہی یہ تاثر قائم رہتا کہ صدر مملکت کامنصب سب سے عالی وقار ہے اور سب ادارے و افراد اس کا احترام کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے صرف اسی معاملہ میں ہی نہیں بلکہ تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمہ کے بعد شہباز شریف سے عہدے کا حلف لینے سے لے کر متعدد قوانین پر دستخط کرنے کے معاملات تک میں عارف علوی نے ہٹ دھرمی و ضد کا مظاہرہ کیا اور اپنے آئینی رتبے کو تحریک انصاف کا سیاسی مؤقف عام کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔
چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے خط لکھنے سے پہلے ایکس پر ہی ایک بیان میں صدر عارف علوی آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم کے بلوں پر دستخط نہ کرنے کا اعلان کرکے ایک افسوسناک تنازعہ کھڑا کرچکے تھے۔ خاص طور سے اس خط میں اپنے ہی عملہ کو نافرمانی کا مورد الزام ٹھہرا کر صدر نے ایک نئی اور ناقابل فہم روایت قائم کی۔ اس کے بعد وہ عملہ کے کسی شخص کے خلاف کوئی باضابطہ کارروائی کرنے میں بھی ناکام رہے۔ گویا ملک کا صدر ایک اہم معاملہ میں بے قاعدگی ا ور عملہ کے عدم تعاون کا بیان جاری کرتا ہے لیکن حکم نہ ماننے والوں کا نام بتانے سے قاصر رہتا ہے اور نہ ہی کسی ایسے اہلکار کو سزا دلوانے کے قابل ہے۔ صدر کے عہدے کی یہ ہتک اس توہین سے بھی بڑھ کر ہے جو چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے ملاقات سے انکار کی صورت میں دیکھنے میں آئی لیکن عارف علوی نے عہدے کے وقار پر اپنے ذاتی و پارٹی مفاد کو ترجیح دی اور ملک کو ایک پریشان کن اور شرمناک صورت حال کی طرف دھکیلا۔ اس تنازعہ کے فوری بعد چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر صدارتی منصب کو شرمندگی سے دوچار کرنے کا ایک نیا کارنامہ بھی سرانجام دیا۔
ملک کی وزارت قانون صدر مملکت کو مشور دے چکی ہے کہ قانونی طور سے الیکشن کمیشن کو ہی انتخابات کی تاریخ مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ لیکن پاکستان بار کونسل اب صدر کو یہ مشورہ دے رہی ہے کہ صدر کو وزارت قانون کے مشورے کی پرواہ کرنے کی بجائے اپنا آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردینا چاہئے۔ اگر صدر پاکستان بار کونسل کا یہ ’مشورہ‘ مان لیتے ہیں تو صدارتی عہدے کو ایک نئی شرمناک صورت حال کا سامنا ہوگا۔ کیوں کہ دریں حالات صدر کے کہنے یا اعلان کرنے سے انتخابات منعقد ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جس ملک میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود انتخابات منعقد نہ ہوسکیں ، وہاں ایک آئینی منصب پر فائز ایک ایسے شخص کا حکم کون مانے گا جس کی اپنی ذات تضادات کا مجموعہ ہے اور تنازعات کا شکار رہی ہے۔
9 ستمبر کو عارف علوی کے صدارتی عہدے کی مدت بھی ختم ہوجائے گی ۔ قومی اسمبلی کی عدم موجودگی میں ملک کا نیا صدر نہیں چنا جاسکتا ۔ البتہ نارمل حالات میں سابق صدر اس وقت تک اس عہدے پر متمکن رہتا ہے جب تک ان کا جانشین نہ چن لیا جائے۔ تاہم موجودہ حالات میں عارف علوی جیسے متنازعہ ہوچکے ہیں، اس کے پیش نظر کوئی بھی وقوعہ دیکھنے میں آسکتا ہے۔ اس دوران میں اگر صدر عارف علوی نے واقعی پاکستان بار کونسل کے مشورے کو سود مند اور اپنی پارٹی کے مفاد میں مفید سمجھا اور انتخابات کا یک طرفہ اعلان کردیا تو ایک نیا تنازعہ اور ریاست پاکستان کی اتھارٹی کے لئے ایک نیا چیلنج سامنے آسکتا ہے۔
اس صورت حال میں واضح ہورہا ہے کہ ملک میں تقسیم اس قدر گہری اور نفرتیں اس قدر شدید ہوچکی ہیں کہ صرف سیاسی لیڈر و جماعتیں ہی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے انکار نہیں کررہی ہیں بلکہ اہم ترین آئینی ادارے بھی ایک دوسرے کے ساتھ متوازن اور باہمی احترام پر استوار مواصلت پر راضی نہیں ہیں۔ اس کا نقصان کسی ایک فرد کو نہیں ہوگا بلکہ اس کی قیمت ملکی سالمیت و استحکام کو داؤ پر لگا کر ادا کی جارہی ہے۔ البتہ کسی عہدے پر فائز کوئی شخص اس کی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔حتی کہ پاکستان بار کونسل جیسا پروفیشنل ادارہ جس کا کام ملک میں آئینی انتظام کی حفاظت ہے، اس تنازعہ میں فریق بن کر انتشار و بے چینی میں اضافہ کی دعوت دے رہا ہے۔ بار کونسل کے معزز اراکین اگر ملک میں کسی قانون شکنی یا آئینی خلاف ورزی کا مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں ایک آئینی ادارے کو دوسرے آئینی ادارے کے خلاف اکسانے کی بجائے سپریم کورٹ سے معاملہ میں حتمی رائے دینے کی درخواست کرنی چاہئے۔ البتہ بدقسمتی سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے قانونی و آئینی معاملات سیاسی پوزیشن لے کر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے وقار اور غیر جانبداری کے بارے میں متعدد سوال کھڑے کیے ہیں۔
ان حالات میں ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک کے بعد دوسری عدالت کا حکم سامنے آنے کے باوجود نہایت ڈھٹائی سے پرویز الہیٰ کو بار بار گرفتار کرنے پر بضد ہیں۔ اگرچہ آج کی گرفتاری میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں ہوئی کیوں کہ عدالت نے آج ہی پرویز الہیٰ کو ایم پی او3 کے تحت گرفتاری پر ریلیف دیا تھا اور تحریری حکم میں کہا تھا کہ اگر وہ کسی دوسرے جرم میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں فوری رہا کردیا جائے۔ پولیس نے البتہ انہیں ایم پی او کے تحت حراست سے رہا کرنے کے بعد دہشت گردی کی دفعات کے تحت گرفتار کرلیا۔ یوں عدالتی حکم کی ’خلاف ورزی‘ بھی نہیں ہوئی اور پرویز الہیٰ کو سبق سکھانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پرویز الہیٰ کو گزشتہ تین ماہ میں مختلف قوانین کے تحت 11 مرتبہ گرفتار کیا جاچکا ہے۔
البتہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے پرویز الہیٰ کو کسی بھی مقدمہ یا دفعہ کے تحت گرفتار کرنے سے منع کیا تھا لیکن پولیس نے انہیں عدالت سے نکلتے ہی دوبارہ حراست میں لے کر اسلام آباد منتقل کردیا ۔ اب متعلقہ پولیس افسروں کو لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کے الزام کا سامنا ہے۔ لیکن کیا توہین عدالت کے تحت کوئی کارروائی ، ریاستی ہتھکنڈوں کو مہذب اور جمہوری بنانے میں کامیاب ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب بلاشبہ نفی میں ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ اس ملک میں عوام کے مفادات کے لئے بلند بانگ دعوے کرنے والے سیاست دانوں کو باہمی اختلافات بھلا کر جمہوریت ہی نہیں ریاست کو بچانے کے لئے مل بیٹھنا چاہئے۔ اس وقت سیاسی مفاد یا شخصی انانیت کی وجہ سے جو شخص بھی اس صورت حال کو جاری رکھنے کا سبب بنتا ہے وہ صرف جمہوریت اور آئینی انتظام ہی کو نہیں بلکہ ریاست پاکستان کی بنیادیں کمزور کرنے کا مجرم ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

