بہت دنوں سے ڈاکٹر اسلم انصاری کے ساتھ ان کی ملتان پر لکھی گئی نئی کتاب کے حوالے سے مکالمہ جاری تھا مسودہ میرے حوالے ہوا۔ کمپوزنگ ہو رہی تھی کہ ایک دن میرے کمپوزر کے ساتھ ایک حادثہ ہو گیا اس کے دونوں موبائلز کو ئی چھین کر چلا گیا اور یوں میرا کمپوزر کے ساتھ رابطہ ختم ہو گیا یہ رابطہ اس وقت ختم ہوا جب تقریباً ڈاکٹر اسلم انصاری کی کتاب کی کمپوزنگ مکمل ہو چکی تھی ۔ ایک پرنٹ میرے پاس اور دوسرا پرنٹ انصاری صاحب کے پاس پہنچ چکا تھا ہم دونوں ان کا مطالعہ کرنے کے بعد منتظر تھے کہ غلطیاں درست کرنے کے بعد کتاب کو حتمی شکل دیں کہ کمپوزر کے موبائلز چھین لئے گئے جس کے بعد میرا اس سے رابطہ ختم ہو گیا۔
کمپوزر نے جب اپنے ساتھ ہونے والی واردات کا بتایا تو اس نے یہ بھی اطلاع دی کہ جیسے ہی نیا موبائل خرید کر لے گا ۔رابطہ بحال ہو جائے گا جب اس واردات کو تین ہفتے ہو گئے تو ایک دن ڈاکٹر صاحب کا فون آیا اور کہنے لگے شاکر صاحب کمپوزر نے کوئی رابطہ کیا میں نے جواب دیا فی الحال کوئی رابطہ نہیں انہوں نے فوراً کہا وہ آپ سے کبھی رابطہ نہیں کرے گا میں نے کہا یہ ممکن نہیں کیونکہ میں آپ کی کتاب کی کمپوزنگ کی مکمل ادائیگی کر چکا ہوں اور وہ شخص بد دیانت نہیں ہے ڈاکٹر صاحب نے میری بات پر توجہ نہ دی اور پھر کہا آپ میری بات کو سمجھیں۔وہ شخص آپ کے پیسے لے کر غائب ہو چکا ہے ۔میں نے پھر اپنے کمپوزر کی وکالت کی عرض کیا ایسا ممکن نہیں وہ انتہائی شریف اور پروفیشنل آدمی ہے ۔جیسے ہی اس کے پاس موبائل آجائے گا وہ لازمی رابطہ کرے گا ۔اسلم انصاری صاحب نے بڑی مشکلوں سے میری بات پر اعتبار کیا (یاد رہے یہ اعتبار کرنے والی بات میری خوش فہمی بھی ہو سکتی ہے) اس فون کے تقریبا ًدس دن بعد اسلم انصاری صاحب نے پھر رابطہ کیا کہ میں نے ان کا فون اس لیے نہ رسیو کیا کہ ابھی تک میرے کمپوزر نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ اب میری یہ حالت ہو گئی تھی کہ ڈاکٹر صاحب مجھ سے رابطہ کرتے،اور میں شرمندگی کی وجہ سے ان سے بات نہ کر پاتا۔
ایک دن میں نے خود ہی انہیں فون کیا اور کہا کہ آج کمپوزر کا گھر تلاش کرتا ہوں کیونکہ اس نے مجھے ایک مرتبہ بتایا تھا کہ وہ ملتان کی قدیم بستی صفرا کا رہائشی ہے،میں اور قیصر عباس صابر چند ماہ پہلے کمپوزر کے والد کی وفات پر افسوس کرنے بستی بابا صفرا جا چکے تھے لیکن اس دن کمپوزر گھر کی بجائے محلے کی مسجد میں موجود تھا ہم نے اس سے مسجد میں افسوس کیا اور واپس چلے آئے۔اب کمپوزر کو تلاش کرنا ،اور وہ بھی بستی بابا صفرا میں،بہت مشکل کام تھا شدید گرمی تنگ و تاریک گلیاں اور میں صرف اپنے کمپوزر کا نام جانتا تھا اور کچھ نہیں۔ بستی کی ہر گلی میں جب داخل ہوتا ہے تو اس مسجد کو تلاش کرتا ہے جہاں پر میں اور قیصر عباس صابر صرف پانچ منٹ کے لیے گئے تھے۔اس مرتبہ میں اکیلا تھا اور اس علاقے کی ہر مسجد مجھے وہی مسجد لگتی جہاں پر بیٹھ کر میں نے اپنے کمپوزر سے اس کے والد گرامی کی تعزیت کی تھی۔ایک طرف پاور لوم کے چلنے کی آ وازیں جس کو سن کر مجھے اے آر رحمان کی بنائی ہوئے دھنیں یاد آگئیں ،خاص طور پر اے آ رحمن نے جو گلزار کے گیت کمپوز کیے ،ایک طرف پاور رومز کے چلنے کی آوازوں کی دھمک تو دوسری جانب میرے ذہن میں ڈاکٹر اسلم انصاری کی مشہور زمانہ غزل
میں نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
یاد آ رہی تھی لیکن اس سارے معاملے میں جو پریشان کن مرحلہ تھا وہ یہ تھا کہ مجھے اپنے کمپوزر کا گھر نہیں مل رہا تھا ایک طرف ڈاکٹر اسلم انصاری کی گفتگو یاد آرہی تھی جس میں وہ یقین کے ساتھ کہتے تھے
آ پ کا کمپوزر بھاگ گیا ہے اور وہ اب کبھی نہیں آئے گا۔ دوسری جانب جب مجھے کمپوزر کا گھر تلاش کرنے میں دقت ہو رہی تھی تو کبھی کبھی مجھے اسلم انصاری ملتان کے ولی اللہ لگتے کہ میں خواہ مخواہ ان پر شک کر رہا ہوں وہ سچ ہی تو کہہ رہے ہیں کہ میرا کمپوزر مجھ سے اب کبھی رابطہ نہیں کرے گا۔بستی بابا صفرا کی تنگ گلیاں،حبس کا موسم.
اور کمپوزر کا کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا اچانک ایک کریانہ فروش نے کہا کہ آ پ گلی کی نکڑ والے دکاندار سے پوچھیں وہ اس محلے کے پڑھے لکھے بندوں کو جانتا ہے میں نے اپنی بائیک کا رخ اب اس نکڑ والے دکاندار کی طرف موڑ دیا اور جا کر بتایا کہ آپ کے محلے میں ایک داڑھی والا پڑھا لکھا نوجوان رہتا ہے جس کے والد کا چند ماہ پہلے انتقال ہوا تھا اور اس نوجوان کا نام نوید ہے۔اس دکاندار نے اپنی دکان کے باہر دعوت اسلامی والا چندے کا ڈبہ رکھا ہوا تھا اور میری بات سنتے ہی اس نے کہا نوید صاحب کو جانتا ہوں اور وہ تھوڑی دیر پہلے ہی احمد آ باد ایک جنازے میں شرکت کے لیے گیا ہے ۔جیسے آئے گا میں آپ کا بتا دوں گا لیکن میں نے اپنی تسلی کے لیے اس سے کہا مجھے ان کے گھر جانا ہے ۔اس نے گلی میں مٹر گشت کرتے ہوئے چھوٹے سے بچے کو آواز دی اور کہا ان کو فلاں کے گھر لے جاؤ،اب وہ بچہ میرے آگے جا رہا تھا اور میں اس کے پیچھے،چند لمحوں بعد وہ مجھے ایک ایسی گلی میں لے گیا جس میں گٹر کا پانی رواں دواں تھا اور اس نے دور سے ایک گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
کمپیوٹر والے بندے دا گھر
گٹر کا پانی دیکھ کر مجھے ہمت نہ ہوئی کہ میں نوید کے گھر جا کر خود پیغام دیتا کہ ڈاکٹر اسلم انصاری کا مسودہ فائنل کر کے ان کو بھجوا دیں،بہرحال میں نے کریانے والے کے دعوت اسلامی والے ڈبے میں پانچ روپے شکریہ کے طور پر ڈالے،کہ بندے سے پیسے گم بھی تو ہو جاتے ہیں جب دکاندار نے یہ دیکھا کہ میں نے دعوت اسلامی والوں کی کچھ مالی معاونت کی ہے تو اس نے مجھے کہا آ پ چائے پیئیں گے یا بوتل،اس کے جواب میں میں نے یہی کہا بس آ پ نوید صاحب کو بتا دیجیے گا کہ کتاب نگر سے شاکر حسین شاکر آئے تھے اور ان سے کہیے گا کہ مجھ سے فوری رابطہ کر لیں۔اب مجھے لگتا تھا کہ ڈاکٹر اسلم انصاری کی بدگمانی ختم ہو جائے گی ان کو ملتان والی کتاب کا مسودہ مل جائے گا،کہ میں نے دعوت اسلامی کے ڈبے میں کچھ خطیر رقم ڈالی تھی۔
دو دن بعد مجھ سے کمپوزر نوید نے رابطہ کیا معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا میں ابھی تک موبائل فون نہیں خرید سکا جیسے ہی میرے پاس موبائل فون آ تا ہے میں آ پ سے رابطہ کرتا ہوں میں نے کہا نوید بھائی آپ مجھ سے رابطہ جب مرضی کر لیجئے گا لیکن فوری طور پر ڈاکٹر اسلم انصاری صاحب کی نئی کتاب
ملتان شہر طلسمات
کا مسودہ ان کے حوالے کریں تاکہ مسودہ کی بابت ان کی پریشانی دور ہو سکے۔
نوید کے اس فون کے بعد میں مطمئن ہو گیا کہ وہ انصاری صاحب سے رابطہ کرے گا،اور یوں میری پریشانی ختم ہو جائے گی لیکن نوید نے ان سے رابطہ نہ کیا اور ڈاکٹر صاحب نے مجھے فون کر کے کہا شاکر صاحب میں پہلے دن سے کہہ رہا ہوں کمپوزر اب کبھی نہیں آئے گا اور میری کتاب
ملتان ،شہر طلسمات
کا مسودہ اس نے گم کر دیا ہے۔سچ بات یہ ہے کہ اس دن مجھے اپنا کمپوزر جھوٹا اور انصاری صاحب سچے لگے،صورتحال بہت گمبھیر ہو چکی تھی کمپوزر نے ڈاکٹر صاحب سے رابطہ نہ کیا اور ڈاکٹر صاحب صبح شام مجھے فون کر کے بتاتے کہ میں ایک نان پروفیشنل بندے کے ساتھ کام کر رہا ہوں جس نے میرا مسودہ گم کر دیا ہے۔ایک دن صبح انصاری صاحب کا فون آ یا کہ آپ کا کمپوزر مجھے مسودہ غلطیاں لگا کر دے گیا ہے۔انصاری صاحب کا یہ کہنا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے دعوت اسلامی والوں کو دی گئی رقم کام آ گئی۔ میں دنیا میں واپس آ گیا اور جی چاہا کہ میں اپنے کمپوزر کے لیے کوئی خاص پیکج اناؤنس کروں کہ اس نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے میری عزت بحال کر دی تھی اگرچہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے گزشتہ رویے کا کوئی ذکر نہ کیا لیکن مجھے خوشی اس بات کی تھی کہ آ خر کار میں انصاری صاحب کی یادگار کتاب
ملتان ،شہر طلسمات
کو تیار کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ڈاکٹر اسلم انصاری عمر کے جس حصے میں ہیں اس حصے میں تو لوگ اپنی یادداشت کھو جاتے ہیں لیکن ہماری خوش بختی ہے کہ انصاری صاحب نے ملتان کے حوالے سے اپنی یادوں کو نہ صرف قلم بند کیا بلکہ ملتان کو شہر طلسمات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے ہر گلی کوچے میں ایک ایسا طلسم موجود ہے جو انسان کو اپنی طرف کھیننچتا ہے اور وہ طلسم کہیں رومانس کی شکل میں تو کہیں کہانی کی شکل میں دکھائی دیتا ہے۔اس کے ساتھ انصاری صاحب کے اپنے قلم میں جو طلسم موجود ہے،وہ بھی اپنی جگہ پر بہت اہم ہے اس کتاب میں انہوں نے جس انداز سے ملتان کے بہت سے پہلو روشن کیے ہیں اس سے قبل وہ روشن پہلو کسی قلم کارکے حصے میں نہیں آئے۔میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر اسلم انصاری نے زندگی کے جس پہر میں ملتان کی یادوں کو سمیٹا ہے، اس پہر میں ہمیں ملتان جلترنگ نظر آ تا ہے کہ اب ہم اسے ڈاکٹر اسلم انصاری کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں ایک طرف ان کا رواں دواں قلم اور دوسری طرف قدیم ملتان کے اس باسی کی یادیں ہیں جس نے 80 برس پہلے اس شہر میں آنکھ کھولی وہ شہر اب بھی طلسم کی صورت میں ہمارے سامنے ہے لیکن انصاری صاحب نے اپنے علم کی بدولت اس شہر کو شہر طلسمات بنا دیا ہے۔ان کی یہ کتاب ایک نیا ملتان سامنے لا رہی ہے ۔ ایک ایسا ملتان جس کو ملتان کے رہنے والوں نے دیکھا تو تھا لیکن اس کو اس انداز سے نہیں دیکھا جس انداز سے ڈاکٹر صاحب میرے ملتان کو دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ اپنے شہر کو شہر طلسماتِ کہتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ملتان کو یہ نام اس ہستی نے دیا ہے جس پر پوری دنیا میں پی ایچ ڈی ہو رہی ہے درجنوں ایم فل کے مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں لاکھوں لوگ ان کی شاعری کے مداح ہیں وہ خود ماہر اقبالیات، فلسفی ،دانشور ،نقاد اور ایک ایسے عالم ہیں جس میں ان موضوعات پر قلم اٹھایا جن پر لوگ کام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے انصاری صاحب آ پ نے میرے ملتان کی وہ تصویر بنائی ہے جو اس سے پہلے ملتان پر لکھنے والے نہیں بنا سکے یقینا جس طرح کا ملتان انھوں نے دیکھا اس طرح کا ملتان کوئی اور بھی تو نہیں دیکھ سکتا تھا سلامت رہیں ڈاکٹر صاحب۔
فیس بک کمینٹ

