ناہید نانو قریشی نےروزنامہ امروز ملتان کے خواتین کے ایڈیشن میں لکھنے کا آغاز کیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملتان میں بہت کم لکھنے والیاں تھیں۔ ایسے میں ایک نام میں اپنی طرف اس لیے متوجہ کیا ۔کہ وہ نام ناہید” نانو "قریشی تھا۔اس کے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالخالق قریشی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ملتان کیمپس کے سربراہ تھے۔جبکہ اس کے کالج کے گروپ میں شائستہ محمود ،فرح بلموریہ اور دیگر شامل تھیں۔محترمہ نوشابہ نرگس امروز کے خواتین کے صفحے کی ا نچارج تھیں۔ ملتان میں جن کے پاس ملتان میں پہلی خاتون صحافی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ناہید نانو قریشی نواں شہر میں اس گلی کی رہائشی تھی۔جہاں پر معروف صحافی خان رضوانی اور پروفیسر تاثیر وجدان رہائش پذیر تھے۔انہی کی صحبت کی وجہ سے نا ہید نانو کو لکھنے کا شوق ہوا۔گرلز کالج میں ان کی بڑی بہن شیم قریشی پروفیسر تھیں۔ایک بہن نعیمہ باجی سکول میں پڑھاتی تھیں۔یوں گھر میں ہر وقت لکھنے پڑھنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ایسے میں ناہید نانو قریشی نے افسانہ، نظم اور غزل میں طبع آزمائی شروع کر دی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ابھی ملتان اتنا پھیلا نہ تھا ۔ہر کوئی ایک دوسرے کو جانتا تھا۔ غمی خوشی کی تقاریب میں شامل ہوتے تھے اور پھر روزنامہ امروز ایسا اخبار تھا۔ جو ہر گھر میں پڑھا جاتا تھا۔جناب اقبال ساغر صدیقی اس کے ریذ یڈنٹ ایڈیٹر تھے۔جو علم و ادب کے حوالے سے ایک بڑی شخصیت شمار ہوتے تھے۔انہوں نے روزنامہ امروز کو ہر عام و خاص کے لیے مختص کر رکھا تھا۔یہی وجہ اس کی مقبولیت کا باعث تھی۔ہر سال نئے لکھنے والوں کی ایک بڑی تعداد سامنے آتی۔جس کا کریڈٹ بلا شبہ روزنامہ امروز اور اس میں کام کرنے والے صحافیوں کو جاتا ہے۔جنہوں نے اس خطے کے لکھنے والوں کی تحریروں کو اپنے اخبار میں جگہ دی۔
پھر ایک دن یہ ہوا کہ ناہید نانو قریشی کی شادی ہو گئی۔وہ اب ناہید جمال ہو گئی۔گھرداری اور بچوں میں اتنی مصروف ہوئی کہ اسے یاد ہی نہ رہا ۔وہ کبھی لکھتی بھی تھی۔اسے اس زمانے کی تمام دوستیاں عزیز ہیں۔لیکن گھر داری نے آج تک اسے کوئی فرصت نہ دی۔کہ وہ دوبارہ ناہید نانو قریشی بنے۔اور قلم لے کر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔البتہ وہ اب خیر سے نانی بھی ہے اور دادی بھی۔میرا خیال ہے اس کی زندگی کا حاصل یہی کچھ تھا۔کہ وہ نام جو اس نے اوائل میں اپنے ساتھ لگایا تھا۔اس کی تعبیر اس کو تب ملی۔جب وہ پہلی مرتبہ نانی بنی تو میں نے اور رضی الدین رضی نے پوسٹ لگائی۔
ناہید نانو قریشی حقیقی معنوں میں نانی بن گئی۔
تو صاحبو آج ہماری اسی نانو کی سالگرہ ہے۔جو بہت سی بیماریاں جھیلنے کے بعد آج بھی مسکراتی ہیں۔پوری ہمت سے جینے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ کہ اس نے کبھی ہارنا نہیں سیکھا ۔اسی لیے آج اس کی سالگرہ پر ہم اسے ڈھیروں دعائیں دیتے ہیں۔کہ وہ تا دیر سلامت رہے۔
فیس بک کمینٹ

