کیلی فورنیا : انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (آئی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال پوری دنیا میں فروخت ہونے والے سمارٹ فونز میں سے 20 فیصد سے زائد ایپل کے تھے جبکہ سمارٹ فونز کی مارکیٹ میں سام سنگ کا شئیر 19.4 فیصد رہا۔
ایپل اور سام سنگ کے علاوہ دنیا میں سمارٹ فون بنانے والی پانچ بڑی کمپنیوں کی فہرست میں باقی تین کمپنیاں چین کی ہیں جن میں شاؤمی، اوپو اور ٹرانشن شامل ہیں۔
گزشتہ کُچھ عرصے کے دوران سمارٹ فونز کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اکثر لوگوں نے کورونا کی عالمی وبا کے دوران نئے فونز خرید لیے تھے۔
آئی ڈی سی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں کل ایک ارب 20 کروڑ سمارٹ فونز فروخت ہوئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تین فیصد کم ہے۔
یہ گزشتہ دہائی میں ہونے والی سب سے کم فروخت بھی بتائی جا رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ معاشی مشکلات اور بڑھتی ہوئی شرحِ سود ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال سمارٹ فونز کی مارکیٹ میں بہتری آنے کے امکانات ہیں۔
آئی ڈی سی کے مطابق ایپل گزشتہ سال 23 کروڑ فونز فروخت کر کے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی ہے۔آئی ڈی سی کی نبیلہ پوپل کا کہنا ہے کہ ’ایپل سمارٹ فون بنانے والی دنیا کی تین بڑی کمپنیوں میں واحد کمپنی ہے جس نے سنہ 2023 میں نہ صرف مثبت سالانہ ترقی حاصل کی بلکہ پہلی بار دنیا کی پہلے نمبر کی سمارٹ فون کمپنی بھی بن گئی۔‘
ایپل نے یہ سب کچھ اپنی سب سے بڑی مارکیٹ چین میں بڑھتے ہوئے ریگولیٹری چیلنجز اور ہواوے کی جانب سے بڑھتی ہوئے مسابقت کے باوجود حاصل کیا۔
ہواوے نے حال ہی میں مائیکرو چپس بنانے کی صلاحیت میں پیشرفت حاصل کی ہے۔ ہواوے پر امریکی ٹیکنالوجی سے بنی چپس خریدنے پر پابندی ہے۔ چینی کمپنی پر الزام ہے کہ وہ امریکی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔پرانے ماڈلز کے بدلے نئے ماڈلز کی پیشکش اور سود سے پاک فائننسنگ پلان ایپل جیسے مہنگے برانڈز کی مانگ میں اضافے کی وجہ بن رہے ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

