لاہور ہائیکورٹ نے ایک کیس میں کم عمری کی شادیوں سے متعلق قانون پر عمل درآمد کا حکم دیا ہے اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ چیئرمین یونین کونسل کم عمر بچیوں کے نکاح منسوخ کرے اور اگر کوئی کم عمری کی شادی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ پاکستاں میں کم عمری کی شادیوں کا رواج عام ہے۔اس مسئلے پر شعور اور آگاہی کے باوجود کم عمری کی شادیوں میں کمی نہیںآ رہی آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
پاکستاں میں بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ”محفوظ “کی بانی بشری اقبال حسین کہتی ہیں ہم بطور قوم اس کو مسئلہ سمجھتے ہی نہیں ہیں ہم کبھی اس پر سوچتے ہی نہیںکہ ایک بچی کم عمری کی شادی کے بعد تولیدی عمل میں جان سے بھی جا سکتی ہے یا کسی سنگین بیماری میں مبتلا ہو سکتی ہے۔ہم بچیوں کو پراپرٹی یا بے جان اشیا کی مانند ڈیل کرتے ہیں، ان کی صحت یا پڑھائی ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی۔ ہم لڑکی کو بوجھ سمجھ کر جلد از جلد سرسے اتارنے کی سوچ رکھتے ہیں۔ قدرتی آفات ہوں یا معاشی مسائل۔باپ کا سایہ سر سے اٹھ جائے یا ماں کی شفقت سے محرومی سماج کی جانب سے ہر صورت میں لڑکیوں کو جلد از جلد بیاہ دینے کے مشورے دئیے جاتے ہیں۔
ماہر تعلیم ربیعہ ارشد کہتی ہیں اسکولوں میں لڑکیوں کا ڈراپ آﺅف لڑکوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔والدین سے جب اس پر بات کی جائے تو ان کا کہنا ہوتا ہے کہ پڑھ لکھ کر کیا کرنا کام سیکھ لے غریب گھرانوں میں تو اکثر بچیوں کو کسی کے گھر کام پر لگا دیا جاتا ہے ۔
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ اس حوالے سے بہت اچھا ہے لیکن یہ بھی کم عمری کی شادی کے حوالے سے قانون کو مزید موثر بنانا ہو گا۔سندھ میں لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال ہے جبکہ پنجاب میں لڑکی کی شادی کی عمر کم سے کم سولہ سال ہے۔خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے نہ صرف سخت قانون سازی کی جائے جس میں خلاف ورزی پر سخت سزائیں اور جرمانے کیے جائیں بلکہ قوانین پر عمل درآمد بھی کرایا جائے۔ اس کے لیے لوکل سطح پر کمیٹیاں بنائی جانی چاہیے اور نکاح خوانوںکو بھی پابند کیا جائے کہ وہ کم عم بچیوں کے نکاح نہ پڑھائیں اور جو ایسا کریں ان کے لائسنس کینسل کیے جائیں۔بچیوں کی تعلیم کے لیے حکومت کو بچیوں کے لیے وظائف کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ معاشی مسائل بچیوں کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
نپولین نے کہا تھا ،
”تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو میں تمہیں پڑھا لکھا معاشرہ دو ںگا“
لیکن ہم نے آج تک اس حکمت کو نہیں سمجھا شائد اسی لیے ہمارا معاشرہ گراوٹ کا شکار ہے
فیس بک کمینٹ

