جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کو بنے ہوئے چار برس ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ آج تک پوری طرح سے خود مختار نہیں ہو پایا۔ پنجابی بیوروکریسی کے جغادریوں نے روزِ اول سے یہ سوچ کر اس کی راہ میں نت نئے روڑے اٹکائے ہیں کہ کہیں سرائیکی وسیب کے چھے کروڑ عوام تخت لاہور کے آہنی شکنجوں سے آزاد نہ ہو جائیں۔ انہیں یہ گوارا نہیں کہ ملتان، بہاول پور اور ڈیرہ غازیخان کے لیے مختص تینتس فیصد فنڈز انہی علاقوں پر خرچ ہوں۔ وہ نہیں چاہتے کہ لوگ لاہور کے بجائے ملتان اور بہاول پور میں اپنے مسائل کا حل تلاش کریں،چنانچہ پہلے انہوں نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب سے نو ( اے) کی پاور چھین کر یہ امر یقینی بنایا کہ جنوبی پنجاب کےسترہ محکمے خود مختار اور مستحکم نہ ہو پائیں، پھر تمام فیصلہ ساز ڈیپارٹمنٹ بشمول ایس اینڈ جی اے ڈی، فنانس، ہوم، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور بورڈ آف ریونیو کو سینٹرل کریکٹر ڈیپارٹمنٹ کا نام دے کر سول سیکریٹریٹ لاہور کے ماتحت کر دیا جبکہ باقی ماندہ بارہ ڈیپارٹمنٹس کو بھی محدود پاورز تفویض کیں، تاکہ وہ کوئی بڑا اثر نہ ڈال سکیں۔ اسی اثناء میں جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ الاؤنس بھی ختم کر دیا گیا تاکہ قابل اور ایماندار افسروں کے لیے کوئی ترغیب باقی نہ رہےاور وہ سول سیکریٹریٹ پنجاب کو جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ پر فوقیت دیں، چاہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہی کیوں نہ ہو۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں جنوبی پنجاب کی انتظامی فعالیت کم ہو کر تیس سے چالیس فی صد تک رہ گئی، مگر لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ادھورا، ٹوٹا پھوٹا سیکریٹریٹ بھی لاہوری بابووں کو قبول نہ تھا کہ اس کی موجودگی اس بات کا امکان تھی کہ کسی سیاسی مداخلت یا عوامی احتجاج کے نتیجے میں یہاں ایک خود مختار صوبائی یونٹ کا قیام عمل میں آ سکتا ہے۔ لہذا حمزہ شہباز اور محسن نقوی کے ادوارِ حکومت میں اسے بار بار ختم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم مقامی دانشوروں اور عوام کے بروقت احتجاج کی بدولت ہر مرتبہ انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی یہاں تک کہ انہیں بخوبی اندازہ ہو گیا کہ اس منصوبے کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ اس صورت میں مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد احتجاج کے لیے اٹھ کھڑی ہوگی۔
یہ دیکھتے ہوئے لاہوری بابوں نے ایک نیا گیم پلان تشکیل دیا ہے، اور وہ ہے سیکریٹریٹ کو سب سیکریٹریٹ میں بدلنے اور اسے مرحلہ وار ختم کرنے کا۔
سپیشل سیکریٹریز کی دس نئی سیٹیں اس لیے پیدا کی گئی ہیں تاکہ ان ڈیپارٹمنٹس میں سیکرٹری کی پوسٹ ختم کر دی جائے۔ یہ سپشل سیکرٹری ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب کے بجائے لاہور کے متعلقہ محکموں کو جواب دہ ہوں گے۔ اس کی بدولت یہاں کے سترہ ڈیپارٹمنٹ کم ہو کر دس رہ جائیں گے اور وہ دس بھی محض سب سیکریٹریٹ کی حد تک باقی رہیں گے، سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی پوسٹ ختم کر دی جائے گی۔
اگر وہ اس منصوبے پر کامیابی سے عملدرآمد کر لیتے ہیں تو یہ اس خطے کے محروم عوام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ ثابت ہوگا۔ یہاں کے فنڈ ایک بار پھر اورنج ٹرین اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کام آئیں گے۔ روجھان اور فورٹ عباس، لیہ اور تونسہ کا رہائشی پورے دن کا سفر کر کے لاہور سیکریٹریٹ پہنچے گا تو اسے سرخ فیتے سے باندھ کر اس وقت تک ذلیل کیا جاتا رہے گا، جب تک وہ ناک سے لکیریں نہ نکال لے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتظامی بنیادوں پر ایک خود مختار صوبائی یونٹ کا خواب کم از کم بیس سال کے لیے اپنی موت آپ مر جائے گا۔

