میرے اور آپ جیسے کروڑوں پاکستانیوں کے لئے پریشان کن خبریں تھیں دو۔ ایک نے آگاہ کیا کہ ہمارے گھروں میں استعمال ہونے والی بجلی کے فی یونٹ کی قیمت میں اوسطاً پانچ سے سات روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ نام نہاد ”فکسڈ چارجز“ بھی بڑھ گئے ہیں۔ جو بجلی ہم خریدیں گے اس کی اجتماعی قیمت پر مختلف النوع ٹیکس بھی عائد ہوتے ہیں۔ یوں ماہانہ اعتبار سے جو کمائیں گے اس کا 15 سے 25 فی صد بجلی کے بلوں کی ادائیگی پر خرچ ہو جائے گا۔ بجلی کی اضافی قیمت سے بوکھلائے افراد کی نیند حرام کرنے کو پیر کی رات دوسری خبر یہ ملی کہ پٹرول کے فی لٹر کی قیمت میں بھی دس روپے تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔
مہنگائی کے عذاب سے مسلسل گھبرائے عوام کی پریشانی مگر پیر کے دن ریگولر اور سوشل میڈیا میں زیر بحث ہی نہیں آئی۔ ہمیں ہمہ وقت باخبر رکھنے کے دعوے دار اور اپنے تئیں ذہن سازی کو مامور افراد کو وزیر اطلاعات جناب عطا تارڑ کی ایک پریس کانفرنس نے بے چین رکھا۔ پیر کی سہ پہر شروع ہوتے ہی وہ کیمروں کے روبرو آئے اور دھڑلے سے اعلان کر دیا کہ پاکستان اور تحریک انصاف کا ایک ساتھ رہنا ناممکن ہے۔ ”بہت کھلواڑ ہو گیا“ ۔ ریاست و حکومت باہم مل کر اب ”فتنہ و انتشار“ پھیلانے والی جماعت پر کامل پابندی لگانے کو تیار ہے۔
وزیر اطلاعات کی پریس کانفرنس کے بعد موجودہ حکومت کی اتحادی اور ماضی میں ”دوست“ رہی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کی جانب سے تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے فیصلے کے بارے میں ”احتیاط“ برتنے کے مشورے ٹی وی سکرینوں پر ٹکروں کی صورت رونما ہوتے رہے۔ شام سات بجے سے رات بارہ بجے تک جاری رہے ٹاک شوز میں بھی یہ ہی موضوع زیر بحث رہا۔ جو گفتگو ہوئی اس کا اجتماعی پیغام یہ تھا کہ تحریک انصاف پر پابندی لگانے سے گریز ہو۔
قیام پاکستان کے چند برس بعد کمیونسٹ پارٹی کالعدم ٹھہرائی گئی تھی۔ اس کے کارکن مگر زیرزمین متحرک رہے۔ چند ”ترقی پسندوں“ نے البتہ نیشنل عوامی پارٹی اور بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی جیسی جماعتوں میں شامل ہو کر اپنا ”مشن“ جاری رکھا۔ جماعت اسلامی بھی دو بار کالعدم رہی۔ 1970 ء کے ”جمہوری دور“ میں ذوالفقار علی بھٹو نے ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ مل کر ملک توڑنے کے الزام میں سپریم کورٹ کی معاونت سے بین کروایا تھا۔ اس جماعت کے جو کارکن جیل جانے سے بچ گئے وہ جلد ہی سردا ر شیر باز مزاری کی بنائی عوامی نیشنل پارٹی میں منظم ہو گئے۔ کسی زمانے میں ”بھارت نواز“ اور پختونستان کے قیام کی سازش میں مصروف ٹھہرائی یہ جماعت مگر 1990 ء کی دہائی میں وفاق اور خیبرپختونخوا میں قائم حکومتوں کا کلیدی حصہ رہی۔ اسی جماعت کے امیر حیدر خان ہوتی 2008 ء سے 2013 ء تک مسلسل پانچ سال تک اپنے صوبے کے بھی وزیر اعلیٰ رہے۔
ولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی ملک گیر جماعت کی حیثیت اختیار نہیں کر پائی تھی۔ اس کے برعکس عمران خان کی کرشمہ ساز شخصیت نے اپنی بنائی جماعت کو کئی دہائیوں کی جدوجہد سے ملک گیر جماعت بنا دیا ہے۔ 8 فروری 2024 ء کے روز ہوئے انتخاب کے دوران تمام تر مشکلات کے باوجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار قومی اسمبلی میں واحد اکثریتی جماعت بن کر ابھرے ہیں۔ 12 جولائی 2024 ء کے دن سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے فیصلے پر حقیقی معنوں میں عمل ہو گیا تو وہ کم از کم 114 اراکین قومی اسمبلی کی بدولت عوام کے ووٹوں سے براہ راست منتخب ہوئے ایوان زیریں کی عددی اعتبار سے سب سے بڑی جماعت بن جائے گی۔ اس کے نتیجے میں حکمران جماعت تنہا حیثیت میں فقط 108 اراکین تک محدود ہو جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر اس کا اقتدار میں رہنا ناممکن ہے۔
”اتحادی“ بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کی جانب سے فی الوقت پاکستان کی مقبول ترین جماعت کے خلاف پابندی لگانے کا فیصلہ سیاسی حقائق اور معاملات پر سرسری نگاہ رکھنے والے افراد کے لئے بھی حیران کن ہے۔ سیاسی تماشوں کا تین دہائیوں سے شاہد ہوتے ہوئے اس قلم گھسیٹ نے تاہم تحریک انصاف پر پابندی کے اعلان کے بعد برجستہ یہ محسوس کیا کہ شہباز حکومت سپریم کورٹ کی جانب سے خواتین اور غیر مسلم پاکستانیوں کے لئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مختص نشستوں کے بارے میں سنائے فیصلے سے بھڑک اٹھی ہے۔ یہ سوچتے ہوئے مگر ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ تحریک انصاف پر پابندی کا معاملہ بالآخر سپریم کورٹ کے روبرو ہی رکھنا ہو گا۔ گزرے جمعہ کی دوپہر اس کے 13 میں سے 8 معزز ججوں نے جو اکثریتی فیصلہ صادر کیا تھا اس نے واضح الفاظ میں یہ بیان کیا کہ ”تحریک انصاف ایک سیاسی جماعت ہے۔ اور رہے گی“ ۔ اس جماعت پر پابندی لگانے کو اکثریتی جج اب کیوں آمادہ ہوں گے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی حکومت کے سرکردہ وزراء سیاست میں نووارد نہیں۔ مسلم لیگ (نون) کی صف اوّل کی قیادت 1985 ء سے سیاسی عمل میں شریک رہی ہے۔ اس کے قائد نواز شریف وطن عزیز کے تین بار وزیر اعظم رہے ہیں۔ میرا ذہن یہ تسلیم کرنے سے قطعاً انکار کرتا ہے کہ وہ تحریک انصاف پر پابندی لگانے کے حوالے سے اپنی محدودات سے باخبر نہیں۔ محض اپنے تجربے کی بنیاد پر لہٰذا مجھے یہ شک لاحق ہے کہ تحریک انصاف پر پابندی لگانے کی محض بڑھک لگائی گئی ہے۔ اصل ارادہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ”آزاد“ ٹھہرائے کم از کم 41 اراکین قومی اسمبلی کے دلوں میں یہ خوف بٹھا دیا جائے کہ وہ جس ”تحریک انصاف“ میں جانا چاہ رہے ہیں وہ کالعدم ٹھہرا دی جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شہباز حکومت واقعتاً تحریک انصاف پر پابندی کا اعلان کردے۔ اسے ”کالعدم“ ٹھہرا دیا گیا تو فی الوقت ”تحریک انصاف“ قومی اسمبلی میں پارلیمانی پارٹی کی صورت اختیار نہیں کر پائے گی۔ دریں اثناء عدالتوں سے رجوع ہو گا اور آنے والے کئی ہفتوں تک اعلیٰ عدالتیں یہ طے کرنے میں مصروف رہیں گی کہ تحریک انصاف واقعتاً پاکستان دشمن ”ہے یا نہیں۔ قوم کی توجہ عدالتوں میں تحریک انصاف کی حمایت اور مخالفت میں آئے دلائل کی جانب موڑنے کے بعد ریاست و حکومت عمران خان اور ان کی حمایت میں ڈٹے تحریک انصاف کے سرکردہ رہ نماؤں کو توشہ خانہ جیسے الزامات کے علاوہ چند“ ملک دشمن سرگرمیوں ”میں ملوث ہونے کی وجہ سے مزید زیر عتاب لانا چاہے گی۔ سوال مگر یہ اٹھتا ہے کہ شہباز حکومت سیاسی اعتبار سے نہایت تجربہ کار ہونے کے باوجود تحریک انصاف کے ساتھ تخت یا تختہ والا رویہ اختیار کرنے کو مجبور کیوں ہوئی ہے۔ اس سوال کے تسلی بخش جواب درکار ہیں۔ میں انہیں تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔
( بشکریہ : روزنامہ نوائے وقت )
فیس بک کمینٹ

