میں 1991 میں گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان میں داخل ہوا تو زندگی میں پہلی دفعہ کچھ قابل اساتذہ سے علم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ان میں انگریزی کے پروفیسر بی ڈی حیدر (بدرالدین)، پروفیسر حمید رضا صدیقی، پروفیسر اسلم انصاری (اردو) اور پروفیسر سعید جعفری (بیالوجی) نمایاں تھے۔ پروفیسر سعید جعفری صاحب کے انداز تدریس نے مجھے بہت متاثر کیا تھا اور بیالوجی کے مضمون سے میری دلچسپی میں ان کی وجہ سے بہت اضافہ ہوا تھا۔ میں ایک درمیانہ سا طالب علم تھا اس لیے شاید وہ مجھے نہیں جانتے تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ ان دنوں تعلیم میرے لیے بہت پرکشش تھی اور یہ اساتذہ مجھے تعلیم کی گلیمر ورلڈ کے کردار لگتے تھے۔
1993 میں میرا داخلہ قائد اعظم میڈیکل بہاولپور میں ہوا۔ میں سیکنڈ ایئر میں آیا تو سعید جعفری صاحب کے ہونہار بھتیجے حسن جعفری فرسٹ ایئر میں داخل ہوئے اور میرے دوست بن گئے۔ فورتھ ایئر میں میں زندگی سے مایوس ہو گیا اور امتحان نہیں دیا تو حسن جعفری نے مجھے بہت حوصلہ دیا اور میرے بہت قریب آ گئے۔ فائنل ایئر میں ہم کلاس فیلو بن گئے۔
گریجویشن کے بعد ہمارے راستے الگ ہو گئے اور پھر فیس بک کے ذریعے ہی کئی سالوں بعد دوبارہ رابطہ ہوا۔ ان سے ان کے بنیاد پرست نظریات جو کہ ہمارے ہاں عمومی نظریات ہیں، کی وجہ سے میری کئی مرتبہ فیس بک پر تلخ کلامی ہوئی۔ لیکن رابطہ پھر بھی بحال ہی رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں فیس بک کی دنیا میں جارح مزاج ہوں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوں۔ میں نے تہیہ کیا کہ ان سے ملاقات ہوئی تو اپنا مزاج جارحانہ ہی رکھوں گا۔ میرے شدید مالی بحران اور بےروزگاری کے دنوں میں میری ملاقات 2023 میں بختاور امین ہسپتال ملتان میں حسن جعفری سے کچھ ایسے حالات میں ہوئی کہ میں اپنے جارحانہ جذبات ان پر ظاہر نہ کر سکا اور یوں وہ جیت گئے۔ 2020 میں کورونا کی عالمی وبا آئی۔ یہ وبا ہمارے بہت سے اپنوں کو نگل گئی۔ ان میں میرے چچا ضرغام مہدی اور حسن جعفری کے تایا پروفیسر سعید جعفری بھی شامل تھے۔

میں نے اپنے چچا کی کورونا کے ذریعے وفات کا ذکر فیس بک پر کیا اور دوستوں اور رشتہ داروں کو نماز جنازہ کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی تو میرے چچا کے بچوں کو یہ بات شاید بری لگی۔ میں نے اپنے والد کو بھی زبردستی ان کے بھائی کے جنازے میں شرکت کرنے سے روک دیا۔ یہ بات بھی میرے دوستوں اور عزیزوں کو بہت بری لگی۔ میرے چچازاد بھائی مجھ سے تو ناراض نہ ہوئے کیونکہ میں جنازے میں شریک ہوا تھا لیکن میرے والد سے ضرور خفا ہو گئے۔ میرے والد کو اس کا بہت رنج ہوا تھا اور وہ پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے۔
جب سعید جعفری صاحب کی وفات ہوئی تو کورونا کی ویکسین آ چکی تھی۔ سعید جعفری صاحب بھی ویکسین لگوا چکے تھے۔ اس کے باوجود وہ کورونا کا شکار ہوئے اور وفات پاگئے۔ کورونا کی ویکسین کے بارے میں ان دنوں بہت سی افواہیں عام تھیں۔ میں نے سعید جعفری صاحب کے بھتیجے اور اپنے دوست ڈاکٹر حسن جعفری سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا ہمیں کورونا ویکسین کی افادیت کے بارے میں سوال اٹھانا چاہیے۔ بنیاد پرست شیعہ ڈاکٹر حسن جعفری کا جواب میرے لیے حیران کن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین پر اعتراض کیا گیا تو بہت سے لوگ ویکسین لگوانے سے انکار کر دیں گے اور وبا کو قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔ سائینسی تحقیق پر بنیاد پرست حسن جعفری کے یقین نے مجھے بہت متاثر کیا۔ حسن جعفری نے بھی شاید میری طرح فیس بک پر پوسٹ لگائی تھی کہ ان کے تایا کے جنازے میں کم سے کم لوگ شرکت کریں۔ شاید انہیں بھی میری طرح بہت سے دوستوں اور رشتہ داروں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ اللہ تعالی جناب سعید جعفری، میرے چچا ضرغام مہدی باقری اور کورونا سے جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی مغفرت فرمائے۔
فیس بک کمینٹ

