دوستو پنجابی کا ایک مشہور محاورہ ہے کہ سکھ نال نصیباں دے تے دکھ نال غریباں دے۔اسی قسم کا ایک محاورہ اردو میں بھی مستعمل ہے جسے بعد از سنسر کہہ سکتے ہیں کہ مرتا ہے ہر دور میں بچہ غریب کا۔ ہوا کچھ یوں کہ پچھلے دنوں نہ چاہتے ہوئے بھی میرا ٹاکرہ پیر سائیں "پہنچی” سرکار سے ہو گیا۔ہر چند کہ میں نے بچنے کی بڑی کوشش کی لیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ اگر قسمت خراب ہو تو اونٹ پر بیٹھے بندے کو بھی کتا کاٹ لیتا ہے اسی طرح پیر صاحب نے بھی مجھے پکڑ لیا۔اور زبردستی گلے ملتے ہوئے کہنے لگے۔بڑے قسمت والے ہو کہ تمہیں پہنچی سرکار کا دیدار نصیب ہوگیاہے۔ پیر صاحب کے بارے میں اطلاعاً عرض ہے کہ چونکہ آپ مریدین سمیت کچہری تو کیا جہاں سائل کہے وہیں "پہنچ” کر جھوٹی گواہی دے دیتے ہیں۔چنانچہ اپنی اس دلیرانہ حرکت کی بنا پر آپ جناب خود کو بقلم خود "پہنچی ” سرکار لکھتے پڑھتے اور اکثر پکارتے بھی ہیں ۔
گلے ملنے کے بعد آں جناب بڑی عیاری سے بولےاب جبکہ تمہاری خوش بختی نے تمہیں پہنچی سرکار سے ملا ہی دیا ہے تو بطور شکرانہ مجھے تخم لنگا والی چائے پلاؤ ۔یہ سن کر میں حیران رہ گیا ۔اور عرض پرداز ہوا کہ عالیجاہ ! میں نے آپ کی ظاہری زندگی میں پہلی دفعہ تخم لنگا والی چائے کا سنا ہے۔یہ سن کر آپ پہلے تو متبسم ہوئے۔پھر اپنا بھاڑ سا منہ کھول کر بولے۔ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ ہمارے پڑوس میں ایک نیا چائے خانہ کھلا ہے جس کا دعوٰی ہے کہ چائے میں تخم لنگا ڈالنے سے قبض دور اور شکر کی مقدار کنٹرول ہوتی ہے۔۔اس کے بعد اپنی بڑی سی توند ۔۔کہ جسے حاسدین جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا کہتے ہیں۔ (ویسے غور سے دیکھنے پر یہ بات اتنی غلط بھی نہیں لگتی ) پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آپ نے مجھے ایسی نظروں سے دیکھا کہ جیسے۔۔ قربانی والے دن موٹا قصائی لاغر بکرے کو دیکھتا ہے ۔۔ پھر کہنے لگے یہ والی چائے تھوڑی مہنگی ہوتی ہے لیکن خیر ہمیں کیا۔پھر اس کے بعد آپ نے مجھے کھانا کھلانے اور چائے پلانے کے فیوض وبرکات کے بارے میں ایک طویل لیکچر دیا۔چارو ناچار مجھے ان کے ساتھ چلنا پڑا۔راستے بھر میں اس بات پر احتجاج کرتا رہا کہ چونکہ یہ ہوٹل آپ کے نزدیک پڑتا ہے اس لئے اصولاً چائے کابل بھی آپ کو دینا چاہیے ۔لیکن جیسے مرد ناداں پہ کلام نرم و نازک بےاثر ہوتا ہے ویسے ہی پہنچی سرکار نے میری آہ و فغاں پر کوئی دھیان نہیں دیا ۔
خیر ہوٹل پہنچ کر پیر صاحب نے تین کپ تخم لنگا والی چائے منگوائی دو کپ اپنے لئے۔۔اور ایک کپ میرے لیے کہ میں فنانسر جو تھا ۔ ۔۔اس کے ساتھ ساتھ ایک چینک چائے یہ کہتے ہوئے گھر بجھوا دی کہ تیری بھابھی کو بھی قبض کی شکایت رہتی ہے۔وہ ایک کپ جو میرے حصے میں آیا تھا ۔۔پیر صاحب نے اس میں سے بھی دو تین بڑے بڑے گھونٹ یہ کہہ کر بھر لیے کہ دیکھوں تو تمہاری والی چائے کا ذائقہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟۔اس کے بعد جیسے ہی انہوں نے اسے میز پر رکھا میں نے جلدی سے اٹھایا اور ایک ہی سانس میں ساری چائے ختم کر ڈالی جس کی وجہ سے میری زبان تو جلی لیکن میں باقی ماندہ چائے بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ اتنے میں بل بھی آ گیا۔جسے دیکھتے ہی میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ گئے۔اور باقی جسم کے طوطے اڑ گئے( جو کہ بعد میں بڑی مشکل سے واپس آئے)۔۔میں نے مردہ ہاتھوں سے جیب میں پڑا ہوا اکلوتا بڑا نوٹ نکالا۔۔(جو کہ صبح ہی بیگم نے بل جمع کرانے کی غرض سے دیاتھا) پھر اس کا آخری دیدار کرتے ہوئے ویٹر کی طرف بڑھایا ہی تھا کہ اس نے کمال مہارت سے جھپٹا مارتے ہوئے اچک لیا۔اس سے میں نے اندازہ لگایا کہ آپ ماضی میں یقیناً جیب کترے ٫ اٹھائی گیر یا چندہ مانگنے والے مولوی رہے ہوں گے۔۔۔۔ابھی میں آخری نوٹ والے صدمے سے باہر نہیں نکلا تھا کہ میرے گناہگار کانوں میں پیر صاحب کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہے تھے کہ باقی کے پیسے میرے حساب میں سے کاٹ لینا یہ سنتے ہی میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور غشی کے مارے جھٹکا کھایا ہی تھا کہ پیر صاحب نے بڑی پھرتی کے ساتھ اپنی جوتی کو عین میری ناک کے ساتھ لگا دیا۔ ۔جسے سونگھنے کے بعد میرے چوہداں طبق تو پہلے ہی روشن ہو چکے تھے اب پندرہواں بھی ہو گیا۔
اس دوران میرےاوسان تو بحال ہو گئے لیکن بڑے نوٹ کا صدمہ کچھ کم نہ ہو سکا۔ ہوتا بھی کیسے کہ رہ رہ کے مجھے نوٹ٫ بیگم اور بل یاد آ رہا تھا۔ باقی آپ خود سمجھدار ہو۔
خیر جب میرے حواس کچھ بحال ہوئے تو پیر صاحب کہنے لگے چائے تو تم پی ہی چکے ہو چلو اب گھر چل کے گپ شپ لگاتے ہیں۔مجھے پیر صاحب پر بڑا غصہ تھا لیکن ان کے کنگ سائز جثے کو دیکھتے ہوئے چونکہ میں ڈائیریکٹ ان کوکچھ نہ کہہ سکتا تھا اس لیے ڈرائینگ روم میں بیٹھتے ہی "کہنا بیٹی کو اور سناؤں بہو کو” کے مصداق ان کے گہرے دوست ملا ہدہد کو خوب سنانے کے بعد بڑی معصومیت سے بولا پیر صاحب یہ ملا کہاں مر گیا کافی دنوں سے نظر نہیں آ رہا؟۔۔۔میری بات سن کر پیر صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بڑے جلال میں بولے۔بری بات۔۔ بھائی شہید کو مرا ہوا مت کہو اس پر میں حیران ہوتے ہوئے بولا۔۔آپ کے کہنے کا مطلب کیا ہے؟
اس پر پیر سائیں پہنچی سرکار نے آنکھیں بند کیں ۔۔۔پھرجھٹ سے آنکھیں کھولیں اور ایک ہاتھ اپنی جیب پر رکھتے ہوئے بولے ۔ نکاح نامے اورپرانوں کے انوسار ملا ہدہد اسی دن ہی منصب شہادت پر فائز ہو گئے تھے کہ جس دن ان کا عقد مسنون مسمات کٹاپا سےپڑھایا گیا تھا۔۔یہاں یہ بات واضح کر دوں کہ بھابھی کا نام تو کچھ اور تھا لیکن چونکہ وہ ملا کےساتھ ہر وقت مار کٹائی پر آمادہ رہتی تھیں اس لیے ہم دوست اسے مسمات کٹاپا کہتے ، پکارتے اور بعض اوقات لکھتے بھی تھے۔اس پر میں بولا کیا بھابھی نے انہیں ابھی تک قابو کیا ہوا ہے،؟..تو وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے کیا بتاؤں یار با لکل تیرے والا معاملہ ہے ۔ یوں سمجھ لو اس کی بیوی نے اسے دنبہ بنایا ہوا ہے۔اس پر میں جل کر بولا پھر تو یہ میرا نہیں بلکہ آپ کا کیس ہوا ناں۔اس پر پہنچی سرکار نے بڑی خوف زدہ نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا۔پھر مجھے چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے با آواز بلند بولے۔ اسپغول تے کج نہ پھول۔میں جان بوجھ کر کافی دیر تک وہاں بیٹھا رہا کہ پیر صاحب بھولے سے بھی کھانے کی آفر کریں تو میں اپنا حساب برابر کروں ۔لیکن پیر صاحب بھی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے تھے خواہ مخواہ سونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے ایک دو دفعہ تو باقاعدہ خراٹوں کی بھی آوازیں نکالیں ناچار میں نے جانے کی اجازت لی جو کہ انہوں نے جھٹ سے نہ صرف دے دی بلکہ مجھے بازو سے پکڑ کے باہر تک بھی لے آئے۔ پھر اچانک ہی کہنے لگے تخم لنگا والی چائے کا موڈ ہے؟۔۔پیر صاحب کے منہ سے چائے کا نام سنتے ہی مجھے چائے والا ہوٹل یاد آ گیا چنانچہ میں نے جو وہاں سے دوڑ لگائی تو گھر پہنچ کر ہی دم لیا۔
فیس بک کمینٹ

