محرم الحرام شروع ہو چکا ہے۔ محرم ان چند مذہبی تہواروں میں سے ایک ہے جو اپنے اندر کوئی بڑا مقصد لیے ہوئے ہیں۔ محرم الحرام کا پیغام یہ ہے کہ بادشاہت کی مہذب دنیا میں کوئی حیثیت نھیں ہے، ریاست عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہوتی ہے اور اگر کوئی حکمران عوام کے بنیادی حقوق غصب کرتا ہے تو اس کے خلاف مزاحمت ہر باشعور انسان کی ذمہ داری ہے۔
اس وقت دنیا پر سرمایہ داری کا راج ہے۔ یہ نظام کارل مارکس کی سیاسی پیش گوئی کے عین مطابق مکمل طور پر ایک استحصالی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس نظام کو زندہ رکھنے کے لیے سامراج نے ظلم و ستم کی تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور یورپ کی دلال ریاست اسرائیل نے فلسطینی عوام پر جبر میں بےانتہا اضافہ کر دیا ہے۔ خواتین اور بچوں سمیت غزہ کے لاکھوں شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ساری دنیا کے ترقی پسند افراد کی طرف سے فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کی جا رہی ہے۔ لیکن اس کے باوجود نام نہاد سپر پاور امریکہ اسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کر رہا ہے۔
ایران پر قابض ملائی حکومت اگرچہ خود کو امام حسین کا طرفدار کہتی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ایرانی عوام بالخصوص خواتین پر اس ریاست کا جبر کسی طور بھی یزیدی عمل سے کم نہیں ہے۔ پچھلی چار دہائیوں کے دوران لاکھوں ایرانی افراد کو ترقی پسندی اور اشتراکیت کے جرائم میں قیدو بند کی سزائیں دی جا چکی ہیں اور قتل کیا جا چکا ہے۔ کچھ ہی عرصہ قبل ایرانی ریاست کو جبری پردے کے ظالمانہ قانون کی وجہ سے ایرانی خواتین کے پرزور احتجاج کا سامنا کرنا پڑا تھا جسے بزور طاقت دبا دیا گیا تھا۔ ایران کسی طرح سے بھی سامراج مخالف ریاست نھیں ہے بلکہ اس کی مذہبی حکومت ہر مذہبی ٹولے کی طرح سرمایہ داری کی حفاظت کرتی ہے۔
عالمی سیاست میں ایران اس وقت چین اور روس کے کیمپ کا حصہ ہے۔ اسرائیل اور ایران کی کبھی نہیں بنتی لیکن اس کی وجہ یزیدیت اور حسینیت کی جنگ نہیں بلکہ ان کے علاقائی مفادات ہیں۔ امریکہ اسرائیل کی مدد سے ایران کی طاقت کو ختم کر کے مشرق وسطیٰ پر اپنا مکمل کنٹرول چاہتا ہے تاکہ اپنے سرمایہ دارانہ مقاصد حاصل کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے پچھلے دنوں ایران پر حملہ کر دیا۔ ایران نے اسرائیل پر سخت جوابی حملے کر کے اسے شدید نقصان پہنچایا۔ اسرائیل یہ جوابی حملے برداشت نھیں کر سکا اور اسے اپنی سالمیت کی فکر لاحق ہو گئی۔ اس موقع پر اسرائیل کا محافظ امریکہ میدان میں آیا اور ایران کے ایٹمی اثاثوں پر حملہ آور ہو گیا۔ اگرچہ امریکہ کا حملہ مکمل طور پر کامیاب نھیں ہوا لیکن اس نے ایران کی بولتی ضرور بند کر دی۔ اس کے بعد جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔
پچھلے کچھ دنوں کی کارروائی کے دوران پاکستان کا کردار بہت عجیب رہا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس وقت ایک کٹھ پتلی سیاسی حکومت قائم ہے۔ پاکستان کے اصل حکمران سپہ سالار اعظم فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ہیں۔ امریکہ کے صدر نے عین اس وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کھانے کی دعوت دی جب اسرائیل ایران پر حملے کر رہا تھا۔ فیلڈ مارشل نے اس موقع پر حیران کن فیصلہ کیا۔ حکومت پاکستان نے ڈونلڈ ٹرمپ کو باقاعدہ نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔ حکومت پاکستان نے یہ فیصلہ پاک بھارت جنگ بندی میں ٹرمپ کے فیصلہ کن کردار پر کیا۔ بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران اسرائیل جنگ رکوانے پر بھی امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کر دیا گیا۔ یہ سارا کھیل تماشہ بےحد مضحکہ خیز رہا کیونکہ پاکستان دوسری طرف ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور ایران کی اخلاقی حمایت بھی کر رہا تھا اور ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان کا باآواز بلند شکریہ بھی ادا کیا جا رہا تھا۔ اس گورکھ دھندے سے ایک نتیجہ جو ہم باآسانی اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ سب طاقتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ ان طاقتوں میں سے کوئی بھی حسینی طاقت نھیں ہے بلکہ یہ سب کے سب یزیدی ہیں۔ پاکستان کا کردار واضح طور پر کوفہ کا کردار ہے۔ جو صرف منہ سے حسین حسین کرتا ہے لیکن حمایت ہمیشہ یزید کی کرتا ہے۔
امام حسین اور ان کے رفقاء چودہ سو سال پہلے بھی سیاسی طور پر طاقتور نہیں تھے اور آج بھی اصل حسینی جو دنیا کے مظلوم محنت کش عوام ہیں، کمزور اور بےآسرا ہیں۔ لیکن محنت کش عوام کی یہ ناگفتہ بہ حالت عارضی ہے۔ عقل و شعور کے ارتقاء کی انتہائی تیز رفتاری سے منزلیں طے کرتا ہوا انسان بہت جلد نظریہ اشتراکیت کے ذریعے اپنی فلاح و بہبود کی معراج حاصل کر لے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ اب انسان کے پاس اپنی بقا کے لیے کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ اس موقع پر شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کے مرثیے کا ایک شہرہ آفاق بند پیش خدمت ہے
دیکھ پھر قصرِ جہنمّ بن چکا ہے روزگار
آنچ میں غلطیدہ ہے پھر خیمۂِ لیل و نہار
سر زمیں پر حکمراں ہیں باہزاراں اقتدار
آ تش و دود و دُخان و شعلہ و برق و شرار
زندگی ہے برسرِ آتش فِشانی یاحسین
آگ دنیا میں لگی ہے آگ، پانی یا حسین

