گزشتہ سے پیوستہ
میری آگے کی منزلیں بھی اشرف صاحب نے آسان کر دیں ۔ محسن نقوی میرا کلاس فیلو ہوگیا تو مجھے پر لگ گئے ۔ اس کے ویسپا پر سارا دن ہم ملتان کی خاک چھانتے ۔ تھک کر اس کے ہوسٹل لنچ اور ڈنر کرتے۔ چائے اشرف صاحب کے ذمہ ہوتی ۔ یہ سب گل گشت میں ہمارا پڑائو تھا۔
اشرف صاحب کی جدو جہد نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایف ایس سی کی لڑکیوں اور لڑکوں نے میڈیکل اور انجینئر نگ کی دوڑ میں ٹیوشن سینٹرز کے دروازے کھول دیئے۔ ایسے میں کئی گروپ بن گئے۔ جن میں انگریزی اردو فزکس اور کیمسٹری کے مضامین کے اساتذہ نے گروپ بنا کر ٹیوشن سینٹر کھول دیئے۔ یہ ٹیوشن طلبااور طالبات کے گھروں پرجاکر دی جاتی تھی۔اشرف صاحب کے گروپ میں انگریزی کے مبارک مجوکہ اور سائنس میں ظہور شیخ اور اعجاز رسول چشتی شامل تھے اور یہ گروپ صبح چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک ٹیوشن میں مصروف رہتا تھا۔ اس لیے کہ ان کا پڑھانے کا انداز بورڈ کے مطابق تھا۔ اس جدو جہد میں تنخواہ سے کئی گنا زیادہ آمدنی ہونے لگی تو اشرف صاحب نے سکوٹر لے لیا ۔ لباس میں تبدیلی آگئی ۔ سٹاف روم میں جلن اور حسد کا ماحول پیدا ہونالازمی تھا ۔ اشرف صاحب پورے ملتان میں اردو کے واحد استاد بن گئے جو طلبہ و طالبات کو ایف ایس سی میں میرٹ پر ڈاکٹر یا انجینئر بنا سکتےتھے ۔ ایسے میں اردو اکادمی آچکی تھی۔ میں نے ایم اے کر لیا تھا ۔ محسن نقوی ، اور میں نے ’’امروز‘‘میں خوب غُل مچایا۔ انوار احمد نے کہ ایک سال آگے تھے ۔ مجھے گود لے لیا اور ہمارا ایک گروپ فخر بلوچ، انوار احمد، محسن نقوی، عبدالرئوف اور میرا بن گیا۔
ہمارے دو گرو تھے ۔ ایک خلیل صدیقی صاحب دوسرے اشرف صاحب۔ یہ وہ زمانہ ہے جب میں سب کا لاڈلا بن چکا تھا۔ اس میں مسعود اشعر کا بہت بڑا کردار تھا کہ وہ میرے پیچھے کھڑے تھے۔ اس طرح ادبی کالم جو میرے استاد فرخ درانی لکھتے تھے جس کا نام ’’محفلیں‘‘ تھا مجھے مل گیا اور ’’اردو اکادمی‘‘ کا سیکرٹری بھی میں بن گیا۔ایم اے کرتے ہی پبلک سروس کمیشن سے انواراحمد، عبدالرئوف اور میں منتخب ہوگئے جبکہ پانچ سالوں سے کمیشن کے انٹرویو نہیں ہوئے تھے۔ پچھتر فرسٹ کلاس امیدوار تھے میری سیکنڈ کلاس تھی کہ صرف دو نمبروں سے رہ گیا تھا۔ انوار احمد نے میرے ایم اے کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا کہ میرا تھیسس رکھوایا اور پھر اس میں مدد کی۔ صرف بارہ پوسٹیں تھیں میرا نمبر بھی بارہواں تھا اور میں لیکچرر بن چکا تھا۔میری پوسٹنگ مظفر گڑھ کالج میں ہوئی جہاں مخلوط تعلیم تھی میری کلاس میں چار برقعہ پوش لڑکیاں تھیں۔ وہاں عابدعمیق، ظہور شیخ، اعجاز رسول چشتی بھی تھے۔ ان چار برقعہ پوشوں میں سے ایک سپرنٹنڈنٹ جیل کی بیٹی تھی اپنے خاص نجی تانگے میں آتی تھی۔ اس سے شادی نہ ہوسکی۔ دوستی ہوئی اور آج تک قائم ہے۔ وہ لندن میں ہے اور میں اور میری بیگم اس کے پاس جاکر اس کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں۔
اشرف صاحب نے اب ایک کام کیا کہ مجھے مظفر گڑھ سے ملتان لانے کابندوبست کردیا۔ میری پوسٹنگ پہلے سائنس کالج میں ہوئی۔ وہاں سے ایمرسن کالج ملتان میں ہوگئی۔ دنیا حیران کہ کل کا لونڈا آج ہمارا رفیق کار بن گیا ہے۔ ان معترضین میں ایک تو تاثیر وجدان تھے اور دوسروں کا ذکر کرنا میرے لئے مقام سے نیچے گرنے والی بات ہے۔ لیکن مجھے جنہوں نے پیار سے قبول کیا ان میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی کے بھائی سجاد حیدر جیلانی تھے جو بعد میں سنسربورڈ آف پاکستان کے چیئرمین ہوئے اور مجھے دس برس تک ممبر سنسر بورڈ بنائے رکھا۔ تصدق جیلانی میرے کلاس فیلو تھے ۔ ان کا ایف اے میں رول نمبر 265 تھا میرا 264 تھا۔ ہم نے مل کر الیکشن بھی لڑے۔ بھلے زمانے تھے پھر جب پولیس کے ہاتھوں ہمارے طالب علم شہید ہوئے تو ان کے کیس تصدق جیلانی نے مفت لڑے۔ ہم دونوں عدالت میں ہوتے تھے۔ اشرف صاحب مجھے مظفر گڑھ کالج سے ملتان لانا چاہتے تھے کہ مجھے روزانہ بس پر مظفر گڑھ جانا اور آنا پڑتا تھا۔ میرے ساتھ عابد عمیق، مبارک مجوکہ اور اعجاز رسول چشتی بھی مظفر گڑھ ساتھ جاتے تھے۔ یہ بھٹو صاحب کا سنہری دور تھا اور اے بی اشرف پیپلزپارٹی کے مقامی رہنمائوں میں بے حد مقبول تھا۔ میری بھی دوستی ایم پی اے حسینہ بیگم کے ساتھ تھی ہم دونوں ان کے بے حد قریب تھے۔
اشرف صاحب میری شادی کے حوالے سے کئی طرح کی معلومات رکھتے تھے۔ اس حوالے سے میرے والد کے ساتھ حسینہ بیگم کے شوہر سے رشتے کی بات ان کی بڑی بیٹی کے لئے کرنے پہنچے۔ ماشاء اﷲ بے نیل و مرام آئے۔ تفصیل میں کیا جانا… ویسے اس معاملے میں انواراحمد کا قول ہے کہ اشرف صاحب جہاں جہاں تمہارا رشتہ لے کر گئے ہیں اور ناکام لوٹے ہیں تو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ تمہارا کیس ہی اس طرح پیش کرتے ہیں کہ متبادل امیدوار کے طور پر خود کو اجاگر کردیتے ہیں جس کی وجہ سے تمہارا پتہ کٹ جاتا ہے۔ اس بات میں وزن اس طرح تھا کہ اشرف صاحب خوشبو لگا کے منہ میں الائچی رکھتے۔ شوخ ٹائی کے ساتھ ملتان کے مشہور سمارٹ ٹیلرز سے کمبی نیشن پہن کر چھ فٹ قد کے ساتھ جس گھر میں داخل ہوتے تھے اس گھر کو اپنی لڑکیاں اور بیگمات بچانا مشکل ہوجاتا تھا۔ ایسے میں میرے جیسے ’’ لُلّ‘‘ کو کس نے رشتہ دینا تھا۔ اے بی اشرف صاحب نے میرے تبادلے کے لیے اس وقت کی ڈائریکٹر تعلیمات ملتان جو کسی ایم این اے کی بہن تھیں اور غیر شادی شدہ تھیں ۔ پہلی بار ملتان میں تعلیم کا ڈائریکٹوریٹ قائم ہوا تھا ۔ اے بی اشرف اس خاتون کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے ۔ شاید خود شادی کرنا چاہتے تھے لیکن ’’لاوے‘‘ کے طور پر مجھے استعمال کرنا چاہتے تھے مطلب مجھے دکھا کے اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے مجھے ان سے ملوایا کہ اس وقت ’’امروز‘‘ میں میری پپو قسم کی تصویر ہر کالم میں چھپتی تھی ۔ ہمارا مقصد ٹرانسفر تھا ۔ وہ چھ فٹ کی جٹی، ہڈ کا ٹھ میں مجھے روند کے نکل جائے۔ اس خاتون کا نام نسیم اولکھ تھا ۔ میں نے اشرف صاحب کو دیکھا جو میرے رشتوں کے حوالوں سے مایوس ہوچکے تھے ۔ وہ چاہتے تھے میں ہاں کر دوں اور ساری چنڈال چوکٹری کا مستقبل روشن ہو جائے ۔ میں بھاگ گیا ۔ البتہ نسیم اولکھ نے میرے آرڈر ادھار کی بنیاد پر جاری کر دیئے ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ میں ملتان کے کالج میں کام کروں گا اور تنخواہ لینے مظفر گڑھ جایا کروں گا ۔ آرڈر لے کر میں مظفر گڑھ کالج گیا تو پرنسپل نے کہا میں تمہیں دوسرے کالج کو دینے کے لئے انکار کرتا ہوں۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔ اب میں واپسی ملتان آیا ۔ تو اشرف صاحب کو بتایا۔ اتفاق سے ملک مختار اعوان جو میرے بھی دوست تھے صوبائی وزیر مواصلات بھٹو کی حکومت میں ہو گئے تھے ۔ وہ سر کٹ ہائوس میں ٹھہرے تھے۔ میں سیدھا ان کے پاس گیا ۔ ظاہرہے میرے دوست تھے ۔ میں نے مسئلہ بتایا کہا فوراً فون ملائیں لینڈ لائن ملا دی گئی ۔ ملک مختار اعوان نے صرف اتنا کہا کہ منسٹر کمیونیکیشن بول رہا ہوں ۔ اصغر ندیم سید کو کل فارغ کر دیں۔ سنا ہے کہ جو لوگ وہاں بیٹھے تھے وہ بتاتے ہیں کہ نام آتے ہی پرنسپل سیٹ پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ابھی ریلیو کر تا ہوں ۔ اس طرح میں ملتان میں آگیا ۔ اب اگلا مسئلہ یہ تھا کہ اپنے ہی کالج میں استاد بن کر آنے سے تمام اساتذہ میرے رفیق کا ر بن گئے ۔
( جاری ہے )
میری آگے کی منزلیں بھی اشرف صاحب نے آسان کر دیں ۔ محسن نقوی میرا کلاس فیلو ہوگیا تو مجھے پر لگ گئے ۔ اس کے ویسپا پر سارا دن ہم ملتان کی خاک چھانتے ۔ تھک کر اس کے ہوسٹل لنچ اور ڈنر کرتے۔ چائے اشرف صاحب کے ذمہ ہوتی ۔ یہ سب گل گشت میں ہمارا پڑائو تھا۔
اشرف صاحب کی جدو جہد نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایف ایس سی کی لڑکیوں اور لڑکوں نے میڈیکل اور انجینئر نگ کی دوڑ میں ٹیوشن سینٹرز کے دروازے کھول دیئے۔ ایسے میں کئی گروپ بن گئے۔ جن میں انگریزی اردو فزکس اور کیمسٹری کے مضامین کے اساتذہ نے گروپ بنا کر ٹیوشن سینٹر کھول دیئے۔ یہ ٹیوشن طلبااور طالبات کے گھروں پرجاکر دی جاتی تھی۔اشرف صاحب کے گروپ میں انگریزی کے مبارک مجوکہ اور سائنس میں ظہور شیخ اور اعجاز رسول چشتی شامل تھے اور یہ گروپ صبح چھ بجے سے رات گیارہ بجے تک ٹیوشن میں مصروف رہتا تھا۔ اس لیے کہ ان کا پڑھانے کا انداز بورڈ کے مطابق تھا۔ اس جدو جہد میں تنخواہ سے کئی گنا زیادہ آمدنی ہونے لگی تو اشرف صاحب نے سکوٹر لے لیا ۔ لباس میں تبدیلی آگئی ۔ سٹاف روم میں جلن اور حسد کا ماحول پیدا ہونالازمی تھا ۔ اشرف صاحب پورے ملتان میں اردو کے واحد استاد بن گئے جو طلبہ و طالبات کو ایف ایس سی میں میرٹ پر ڈاکٹر یا انجینئر بنا سکتےتھے ۔ ایسے میں اردو اکادمی آچکی تھی۔ میں نے ایم اے کر لیا تھا ۔ محسن نقوی ، اور میں نے ’’امروز‘‘میں خوب غُل مچایا۔ انوار احمد نے کہ ایک سال آگے تھے ۔ مجھے گود لے لیا اور ہمارا ایک گروپ فخر بلوچ، انوار احمد، محسن نقوی، عبدالرئوف اور میرا بن گیا۔
ہمارے دو گرو تھے ۔ ایک خلیل صدیقی صاحب دوسرے اشرف صاحب۔ یہ وہ زمانہ ہے جب میں سب کا لاڈلا بن چکا تھا۔ اس میں مسعود اشعر کا بہت بڑا کردار تھا کہ وہ میرے پیچھے کھڑے تھے۔ اس طرح ادبی کالم جو میرے استاد فرخ درانی لکھتے تھے جس کا نام ’’محفلیں‘‘ تھا مجھے مل گیا اور ’’اردو اکادمی‘‘ کا سیکرٹری بھی میں بن گیا۔ایم اے کرتے ہی پبلک سروس کمیشن سے انواراحمد، عبدالرئوف اور میں منتخب ہوگئے جبکہ پانچ سالوں سے کمیشن کے انٹرویو نہیں ہوئے تھے۔ پچھتر فرسٹ کلاس امیدوار تھے میری سیکنڈ کلاس تھی کہ صرف دو نمبروں سے رہ گیا تھا۔ انوار احمد نے میرے ایم اے کرانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا تھا کہ میرا تھیسس رکھوایا اور پھر اس میں مدد کی۔ صرف بارہ پوسٹیں تھیں میرا نمبر بھی بارہواں تھا اور میں لیکچرر بن چکا تھا۔میری پوسٹنگ مظفر گڑھ کالج میں ہوئی جہاں مخلوط تعلیم تھی میری کلاس میں چار برقعہ پوش لڑکیاں تھیں۔ وہاں عابدعمیق، ظہور شیخ، اعجاز رسول چشتی بھی تھے۔ ان چار برقعہ پوشوں میں سے ایک سپرنٹنڈنٹ جیل کی بیٹی تھی اپنے خاص نجی تانگے میں آتی تھی۔ اس سے شادی نہ ہوسکی۔ دوستی ہوئی اور آج تک قائم ہے۔ وہ لندن میں ہے اور میں اور میری بیگم اس کے پاس جاکر اس کے ہاتھ کا کھانا کھاتے ہیں۔
اشرف صاحب نے اب ایک کام کیا کہ مجھے مظفر گڑھ سے ملتان لانے کابندوبست کردیا۔ میری پوسٹنگ پہلے سائنس کالج میں ہوئی۔ وہاں سے ایمرسن کالج ملتان میں ہوگئی۔ دنیا حیران کہ کل کا لونڈا آج ہمارا رفیق کار بن گیا ہے۔ ان معترضین میں ایک تو تاثیر وجدان تھے اور دوسروں کا ذکر کرنا میرے لئے مقام سے نیچے گرنے والی بات ہے۔ لیکن مجھے جنہوں نے پیار سے قبول کیا ان میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان تصدق حسین جیلانی کے بھائی سجاد حیدر جیلانی تھے جو بعد میں سنسربورڈ آف پاکستان کے چیئرمین ہوئے اور مجھے دس برس تک ممبر سنسر بورڈ بنائے رکھا۔ تصدق جیلانی میرے کلاس فیلو تھے ۔ ان کا ایف اے میں رول نمبر 265 تھا میرا 264 تھا۔ ہم نے مل کر الیکشن بھی لڑے۔ بھلے زمانے تھے پھر جب پولیس کے ہاتھوں ہمارے طالب علم شہید ہوئے تو ان کے کیس تصدق جیلانی نے مفت لڑے۔ ہم دونوں عدالت میں ہوتے تھے۔ اشرف صاحب مجھے مظفر گڑھ کالج سے ملتان لانا چاہتے تھے کہ مجھے روزانہ بس پر مظفر گڑھ جانا اور آنا پڑتا تھا۔ میرے ساتھ عابد عمیق، مبارک مجوکہ اور اعجاز رسول چشتی بھی مظفر گڑھ ساتھ جاتے تھے۔ یہ بھٹو صاحب کا سنہری دور تھا اور اے بی اشرف پیپلزپارٹی کے مقامی رہنمائوں میں بے حد مقبول تھا۔ میری بھی دوستی ایم پی اے حسینہ بیگم کے ساتھ تھی ہم دونوں ان کے بے حد قریب تھے۔
اشرف صاحب میری شادی کے حوالے سے کئی طرح کی معلومات رکھتے تھے۔ اس حوالے سے میرے والد کے ساتھ حسینہ بیگم کے شوہر سے رشتے کی بات ان کی بڑی بیٹی کے لئے کرنے پہنچے۔ ماشاء اﷲ بے نیل و مرام آئے۔ تفصیل میں کیا جانا… ویسے اس معاملے میں انواراحمد کا قول ہے کہ اشرف صاحب جہاں جہاں تمہارا رشتہ لے کر گئے ہیں اور ناکام لوٹے ہیں تو اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔ وہ تمہارا کیس ہی اس طرح پیش کرتے ہیں کہ متبادل امیدوار کے طور پر خود کو اجاگر کردیتے ہیں جس کی وجہ سے تمہارا پتہ کٹ جاتا ہے۔ اس بات میں وزن اس طرح تھا کہ اشرف صاحب خوشبو لگا کے منہ میں الائچی رکھتے۔ شوخ ٹائی کے ساتھ ملتان کے مشہور سمارٹ ٹیلرز سے کمبی نیشن پہن کر چھ فٹ قد کے ساتھ جس گھر میں داخل ہوتے تھے اس گھر کو اپنی لڑکیاں اور بیگمات بچانا مشکل ہوجاتا تھا۔ ایسے میں میرے جیسے ’’ لُلّ‘‘ کو کس نے رشتہ دینا تھا۔ اے بی اشرف صاحب نے میرے تبادلے کے لیے اس وقت کی ڈائریکٹر تعلیمات ملتان جو کسی ایم این اے کی بہن تھیں اور غیر شادی شدہ تھیں ۔ پہلی بار ملتان میں تعلیم کا ڈائریکٹوریٹ قائم ہوا تھا ۔ اے بی اشرف اس خاتون کی شخصیت سے بے حد متاثر تھے ۔ شاید خود شادی کرنا چاہتے تھے لیکن ’’لاوے‘‘ کے طور پر مجھے استعمال کرنا چاہتے تھے مطلب مجھے دکھا کے اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے مجھے ان سے ملوایا کہ اس وقت ’’امروز‘‘ میں میری پپو قسم کی تصویر ہر کالم میں چھپتی تھی ۔ ہمارا مقصد ٹرانسفر تھا ۔ وہ چھ فٹ کی جٹی، ہڈ کا ٹھ میں مجھے روند کے نکل جائے۔ اس خاتون کا نام نسیم اولکھ تھا ۔ میں نے اشرف صاحب کو دیکھا جو میرے رشتوں کے حوالوں سے مایوس ہوچکے تھے ۔ وہ چاہتے تھے میں ہاں کر دوں اور ساری چنڈال چوکٹری کا مستقبل روشن ہو جائے ۔ میں بھاگ گیا ۔ البتہ نسیم اولکھ نے میرے آرڈر ادھار کی بنیاد پر جاری کر دیئے ۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ میں ملتان کے کالج میں کام کروں گا اور تنخواہ لینے مظفر گڑھ جایا کروں گا ۔ آرڈر لے کر میں مظفر گڑھ کالج گیا تو پرنسپل نے کہا میں تمہیں دوسرے کالج کو دینے کے لئے انکار کرتا ہوں۔ مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔ اب میں واپسی ملتان آیا ۔ تو اشرف صاحب کو بتایا۔ اتفاق سے ملک مختار اعوان جو میرے بھی دوست تھے صوبائی وزیر مواصلات بھٹو کی حکومت میں ہو گئے تھے ۔ وہ سر کٹ ہائوس میں ٹھہرے تھے۔ میں سیدھا ان کے پاس گیا ۔ ظاہرہے میرے دوست تھے ۔ میں نے مسئلہ بتایا کہا فوراً فون ملائیں لینڈ لائن ملا دی گئی ۔ ملک مختار اعوان نے صرف اتنا کہا کہ منسٹر کمیونیکیشن بول رہا ہوں ۔ اصغر ندیم سید کو کل فارغ کر دیں۔ سنا ہے کہ جو لوگ وہاں بیٹھے تھے وہ بتاتے ہیں کہ نام آتے ہی پرنسپل سیٹ پر کھڑے ہوگئے اور کہا کہ ابھی ریلیو کر تا ہوں ۔ اس طرح میں ملتان میں آگیا ۔ اب اگلا مسئلہ یہ تھا کہ اپنے ہی کالج میں استاد بن کر آنے سے تمام اساتذہ میرے رفیق کا ر بن گئے ۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

