لاہور : پاکستان کے صوبے پنجاب میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 جولائی کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع میں بارشوں اور آندھی کی پیشگوئی ہے۔محکمے کے ترجمان کے مطابق راولپنڈی، مری گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، گجرات، جہلم اور گجرانوالہ میں بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جھنگ، سرگودھا اور میانوالی میں بھی بارشیں متوقع ہیں۔ ایسی ہی پیش گوئی ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ملتان کے حوالے سے بھی کی گئی ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق صوبے بھر کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق ’مون سون بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں و ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے سندھ میں تربیلا اور کالا باغ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔‘
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ ’ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں چشمہ کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ چشمہ کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جس کے پیشِ نظر انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔‘ 21 جولائی سے دریائے راوی جہلم ستلج اور جناب کے بہاؤ میں اضافے کا پر ی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیاکے مطابق ’ ریاؤں کے بالائی علاقوں میں مون سون بارشوں کے باعث پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ موسمی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔‘ بیان کے مطابق رواں سال مون سون سیزن مختلف حادثات میں 123 شہری جانبحق 462 زخمی ہوئے اور 150 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اموات آسمانی بجلی گرنے کرنٹ لگنے نہاتے ہوئے ڈوبنے اور مخدوش و بوسیدہ مکانات گرنے کے باعث ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق کسانوں کی فصلوں کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے گا۔ بارشوں و سیلاب سے متاثرہ فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

