میں آج پھر ایک کافی شاپ میں بیٹھا یہ کالم تحریر کر رہا ہوں۔ کافی دماغ کے سوئے ہوئے گوشوں کو بیدار کر دیتی ہے۔ میرے دماغ کے بھی کچھ گوشے کچھ عرصے سے سوئے ہوئے تھے جو دو دن کافی سے دور رہنے کے بعد ایک ہی گھونٹ بھرنے سے جاگ گئے۔ کافی اپنے عادی افراد میں شراب جیسا یوفوریا پیدا کرتی ہے اور کائنات کو اور بھی خوبصورت بنا دیتی ہے۔
لبرل اور مذہبی افراد ہمیشہ دنیا میں امن اور سلامتی کی باتیں کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ ہر طرح کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے اور یہ کہ ان کا مذہب صرف امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔ یہاں ہم مذہب کی بات ایک طرف رکھ دیتے ہیں کیونکہ ان کی طرف سے امن اور سلامتی کی باتیں کرنا تو ہے ہی مضحکہ خیز۔ اس لیے کہ امن کی باتیں کرنے والے یہ طوطے ہمیشہ اپنے عقائد اور تعلیمات بزور شمشیر عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن لبرلز یا روشن خیال افراد کے نظریات الگ ہیں۔ وہ تو انسانی آزادی کے قائل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر انسان کو اپنی زندگی اپنی پسند کے مطابق گزارنے کی آزادی ہے۔
مثلا ہم جنس پرست افراد کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کا انتخاب کریں۔اس کے علاوہ وہ خواتین کے تمام بنیادی حقوق کے محافظ بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چائلڈ ابیوز ہرگز نہیں ہونی چاہیے، بالکل درست۔ ہر شہری کو مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ہر مذہب کو مسترد کر کے دہریہ ہو جائے۔ کیا کہنے!!
لیکن ذرا ٹھہریے۔ لبرلز کی دی ہوئی تمام تر آزادیاں اس وقت ختم ہو جاتی ہیں جب ظالم سرمایہ دار حکمران کے مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔ یہاں لبرل مجھے ٹوکے گا کہ آپ سرمایہ دار کے خلاف سخت اور غیرمہذب زبان استعمال کر رہے ہیں، ذاتی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ سرمایہ دار حکمران کے خلاف تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔ آخر سرمایہ دار اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اس قابل ہوا ہے کہ عوام پر حکمرانی کر کے اپنے رزق میں اضافہ کر سکے۔ یہاں یک بیک مذہب بھی لبرلز کی مدد کو آن ٹپکے گا کہ کاروبار تو عین مذہبی ہے اور منافع حاصل کرنے میں قطعی کوئی مضائقہ نہیں ہے چاہے دس روپے کا ازاربند مولوی کا برانڈ بنا کر دس ہزار روپے میں ہی کیوں نہ بیچا جائے۔
ابھی انسٹاگرام پر معروف کمیونسٹ مصنفہ اروندھتی رائے کی گفتگو کا کلپ دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ گاندھی کے حامی ہمیشہ عدم تشدد کی بات کرتے ہیں۔ لیکن ایک ایسے علاقے میں عدم تشدد کی بات کیسے کی جا سکتی ہے جو مین روڈ سے چار سو کلومیٹر دور ہے!! جہاں فوجی اسلحہ لے کر کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں۔ وہ دیہات کو چھاؤنیوں میں بدل دیتے ہیں۔ وہ ان کے جانور اٹھا کر لے جاتے ہیں اور ان کی خواتین کا ریپ کر دیتے ہیں۔ اگر ان کی زیادتیوں پر عوام ہتھیار اٹھانے کی بجائے پُرامن احتجاج کریں تو ان کا احتجاج کہاں دکھایا جائے گا کیونکہ وہاں نہ ٹی وی ہے اور نہ رپورٹر۔ وہ کیسے بھوک ہڑتال کریں گے جب کہ وہ پہلے ہی بھوکے ہیں!! وہ کیسے اشیا کا بائیکاٹ کریں گے جب کہ ان کے پاس پہلے ہی اشیا موجود نہیں ہیں!! یہ اس اکثریتی محنت کش طبقے کی بات ہو رہی ہے جو نام نہاد "غربت کی لکیر” سے کہیں نیچے زندگی گزار رہا ہے۔ لبرلز کی طرف سے اس کو پرامن احتجاج کی آزادی دینے کی بات کرنا ایک گھٹیا مذاق ہے۔
پاکستان کے موجودہ سرمایہ دار حکمرانوں کے نظریات جنرل ضیاء الحق کی مذہبی انتہا پسندی اور جنرل پرویز مشرف کی روشن خیالی کا مرقع ہیں۔ یہ نظریات کا ہائیبرڈ ماڈل ہے۔ پاکستانی حکمران مذہب اور روشن خیالی دونوں نظریات کو وقت پڑنے پر اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں بدزبانی کو فروغ کیا دیا، عوام سے زبان استعمال کرنے کا حق ہی چھین لیا گیا۔ اب جو بھی بولتا ہے اسے بدزبانی کا الزام لگا کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بھوکے ننگے افراد کون سی تہذیب اوڑھ کر مہذب انداز میں احتجاج کریں۔ اور اگر وہ نرم لہجے میں کہیں کہ ہم بھوکے ہیں اور ہمیں دو وقت کی روٹی چاہیے تو کیا ان کی بات ٹی وی پر کی جائے گی یا سوشل میڈیا پر وائرل ہو گی؟
پچھلے دنوں ایک بزرگ نے وزیراعلی پنجاب اور فیلڈ مارشل کے خلاف بدزبانی کی تو ان کا سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا گیا۔ ابھی ایک بزرگ کا ویڈیو کلپ دیکھا جن سے اینکر نے سڑکوں پر کھڑے پانی کے بارے میں پوچھا، جس پر بزرگ نے کہا کہ وہ کچھ نہیں بولیں گے، ورنہ ان کا سوفٹویئر بھی اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔
آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ بقول ساحر لدھیانوی:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے, ٹپکے گا تو جم جائے گا
ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

