14 اگست کا دن ہم سب ہر سال بہت جوش و خروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ صبح سویرے اٹھ کر جھنڈے لہراتے ہیں، قومی ترانہ گاتے ہیں، اور دلوں میں خوشی کی لہر دوڑتی ہے۔ مگر ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں تو کیا ہمیں واقعی آزادی حاصل ہے؟ یا یہ صرف ایک دن کی خوشی ہے، جو ایک دن کے جشن کے بعد دوبارہ وہی بوجھ، وہی قرض، اور وہی اندھیری رات واپس آ جاتی ہے؟
ہمارے حکمران ہر سال یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایک آزاد ملک ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔ کیا آزادی صرف جھنڈے اٹھانے اور قومی ترانہ گانے سے حاصل ہوتی ہے؟ جب تک ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہماری عوام عالمی اداروں جیسے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اور چین کے قرضوں کے نیچے دبی ہوئی ہے، ہم کس طرح آزادی کا جشن منا سکتے ہیں؟
ہر سال ہم قرضوں کی قسطیں ادا کرتے ہیں اور ان قرضوں کے بدلے اپنے وسائل، اپنی صنعت، اور اپنے قدرتی وسائل بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعد، ہم سب کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ پیسہ چاہیے تو سب کچھ بیچ دو، چاہے وہ سلیمانوں کی جھیل ہو یا تھر کا ریت، سب کچھ بیچو اور قرض لو۔ اس قرض کا بوجھ ہم پر بڑھتا جاتا ہے، مگر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ ہمارا "عزت مند قرض” ہے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم ایک خودمختار ملک ہیں، مگر خودمختاری کا کیا فائدہ جب ہم کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں؟ چین کا قرض، قطر کا قرض، سعودی عرب کا قرض، دبئی کا قرض — ان سب کو ملاتے جائیں اور پھر دیکھیں کہ ہم کتنے آزاد ہیں۔ ہر قرض کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ہوتا ہے جس کے تحت ہمیں اپنے قدرتی وسائل یا زمینیں گروی رکھنا پڑتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کا پروٹوکول اور عیش و عشرت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم ہی ان قرض دینے والے ممالک کو قرض دے رہے ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب ہمارے وزیرِاعظم اور دیگر حکام بیرونِ ملک دوروں پر جاتے ہیں، تو ان کے ساتھ جاگتے ہوئے پروٹوکول، طیارے اور پانچ ستاروں کے ہوٹلوں میں رہنے کی قیمت کون ادا کرتا ہے؟ یہی وہ قرض ہیں جو ہم عوام پر مسلسل بڑھتے ہیں، اور اس کے بدلے ہمیں کیا ملتا ہے؟ ہر مہینے کی تنخواہ پر کٹوتی، روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور وہی مسائل جو ہر روز ہماری زندگیوں کا حصہ بنتے ہیں۔
14 اگست کا دن ایک روز کی خوشی ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی اس خوشی کے بعد کی رات کا بھی تصور کیا ہے؟ جب ہمیں یہ یاد آتا ہے کہ ہمارے معاشی فیصلے، ہماری توانائی کی پالیسی، ہماری تجارت اور ہماری ملکی سیاست کا ہر پہلو کسی دوسرے ملک یا عالمی ادارے کے ہاتھ میں ہے، تو وہ آزادی کا دن ہماری آنکھوں میں دھندلا سا نظر آتا ہے۔ ہر سال ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہم آزاد ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں، بلکہ ہم اپنے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
عیدِ آزادی کی تقریبات میں جب لوگ خوشی کے ساتھ رقص کرتے ہیں، تو یہ رقص ان قرضوں کا ہے جو ہم ہر سال ادا کرتے ہیں۔ جب ہم جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں، تو دراصل ہم اپنے قرضوں کی قسطیں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم پارکوں میں پکنک مناتے ہیں اور شربت پیتے ہیں، تو ہم اپنی آنکھوں میں موجود قرض کے بوجھ کو ڈھکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ وقتی خوشی ہے، جو حقیقت کے سامنے آتے ہی ماند پڑ جاتی ہے۔
اور پھر آتا ہے وہ لمحہ جب ہمیں یاد آتا ہے کہ یہ قرض صرف پیسے کا نہیں ہوتا، بلکہ ہماری خودمختاری، ہماری آزادی اور ہماری عزت کا قرض ہوتا ہے۔ ہم اپنے وسائل سے لے کر اپنے ملک کی سلامتی تک، سب کچھ گروی رکھ چکے ہیں۔ اور جو کچھ بچتا ہے، وہ ہماری تقدیر بن جاتی ہے۔
چند دن بعد جب جشنِ آزادی ختم ہو جائے گا، ہم پھر سے اسی روٹین میں واپس آ جائیں گے۔ وہی ٹیکسز، وہی مہنگائی، وہی لوڈشیڈنگ، اور وہی "آزادی” جو ہم ہر سال 14 اگست کو کچھ لمحوں کے لیے محسوس کرتے ہیں، وہ باقی دنوں میں صرف ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔
ہم آزاد ہیں… لیکن صرف 14 اگست کو، باقی سال قسطیں ادا کرنے میں گزرتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

