اندھا پانی اس وقت ملک کے طول و عرض میں بربادی کی ایک ایسی کہانی رقم کر رہا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دریا اپنی حدوں کو پھلانگ کر انسانی آبادیوں پر ٹوٹ پڑے ہیں، برساتی نالے ابل ابل کر بستیوں کو بہا لے جا رہے ہیں اور بارشوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ پانی کی یہ اندھی یلغار نہ صرف کچے گھروں کو بہا لے گئی ہے بلکہ پکے مکان بھی زمین بوس ہو گئے ہیں۔ پورے پاکستان میں اس کی تباہ کاریاں پھیلی ہوئی ہیں مگر جنوبی پنجاب میں یہ قیامت ٹوٹنے کا منظر ہے۔ یہاں کی زمین نسبتاً نشیبی ہے، دریا قریب ہیں اور ندی نالوں کا جال بچھا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ سیلاب کی شدت سب سے زیادہ اسی خطے نے برداشت کی ہے۔
ملتان شہر کی متعدد بستیاں ڈوبی ہوئی ہیں ہیڈ محمد والا کے قریب ایک سو اڑتیس مواضعات پانی سے شدید متاثر ہوئے ہیں اور تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ وہ گلیاں جہاں کبھی بچوں کے قہقہے گونجتے تھے، اب کشتیاں چل رہی ہیں۔ گھروں کی چھتوں پر لوگ کھڑے ہیں کہ شاید کوئی امدادی کشتی آ نکلے۔ جھنگ کے دیہات میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہے اور لوگ اپنے مال مویشیوں کو چھوڑ کر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے پر مجبور ہیں۔ خانیوال کے کھیت، جہاں کپاس اور مکئی کی فصل لہلہا رہی تھی، اب جھیل کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ مظفر گڑھ میں دریائے چناب اور اس کے نالوں نے سیکڑوں گاؤں اجاڑ دیے ہیں۔ شجاع آباد اور جلال پور کے علاقے مکمل طور پر زیرِ آب ہیں اور لوگ سڑکوں کے کنارے بے سروسامانی کے عالم میں بیٹھے ہیں۔ علی پور اور ہیڈ پجند کے گرد و نواح میں پانی کی یلغار نے کھڑی فصلوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ بہاولپور، حاصل پور اور احمد پور شرقیہ بھی اس اندھے پانی کی لپیٹ میں آئے ہیں، جہاں کھیت برباد ہو گئے، بستیاں ڈوب گئیں اور لوگ اپنی زندگی کی جمع پونجی کھو بیٹھے۔ یہ وہ منظر ہے جہاں لاکھوں انسان متاثر ہوئے ہیں، ہزاروں مکانات منہدم ہو چکے ہیں اور کھیت کھلیان غرق ہو گئے ہیں۔
اندھے پانی نے انسانوں کے ساتھ ساتھ مال مویشیوں کو بھی نگل لیا ہے۔ بھینسیں، گائیں، بکریاں اور بھیڑیں پانی کے ریلوں میں بہہ گئیں۔ یہ جانور کسانوں کی جمع پونجی ہوتے ہیں، مگر ان کی ہلاکت نے غربت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ہزاروں خاندان اس وقت کھلے آسمان تلے، بچوں کو گود میں لیے ہوئے، سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ ان کے پاس نہ کھانے کو کچھ ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی سر چھپانے کے لیے کوئی چھت۔
فصلوں کی تباہی نے کسانوں کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں۔ کپاس، مکئی، گنا، چاول اور سبزیاں سب پانی کی نذر ہو گئیں۔ یہ وہ فصلیں تھیں جن پر پورے سال کی محنت اور سرمایہ لگا تھا۔ اب کسانوں کے ہاتھ کچھ نہیں رہا۔ گندم کی آئندہ کاشت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ زمین میں نمی اور مٹی کا توازن بگڑ چکا ہے۔ زرعی معیشت کو اس نقصان نے ناقابلِ تلافی دھچکا پہنچایا ہے اور یہ اثرات آنے والے کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
یہ منظر صرف پانی کی تباہی کا نہیں بلکہ انتظامیہ کی نااہلی کا بھی ہے۔ اگر پانی اندھا ہے تو انتظامیہ بھی اندھی نظر آتی ہے۔ لوگوں کو بروقت آگاہ نہیں کیا گیا، حفاظتی پشتے مضبوط نہیں کیے گئے اور متاثرین کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کوئی مؤثر انتظام نہیں تھا۔ اب جب تباہی چھا گئی ہے تو ریلیف کیمپ قائم کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، مگر ان کی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نہ خیمے ہیں، نہ مناسب خوراک، نہ طبی امداد۔ امدادی سامان کے نام پر جو کچھ بانٹا جا رہا ہے وہ ناکافی اور ناقص ہے۔ عوام پانی اور انتظامیہ دونوں کے ہاتھوں بیک وقت پس رہے ہیں۔
یہ المیہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جب پانی اندھا ہو تو انسانوں کو آنکھیں کھولنی چاہئیں، مگر ہمارے ہاں معاملہ الٹ ہے۔ پانی اندھا ہے اور انتظامیہ بھی اندھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو گئے ہیں، لاکھوں ایکڑ زمین اجڑ گئی ہے، مال مویشی بہہ گئے ہیں، کھیت برباد ہو گئے ہیں اور مستقبل اندھیروں میں ڈوب گیا ہے۔
اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ اندھا پانی اور بھی خوفناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم وقتی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ ڈیموں کی تعمیر، بندوں کی مضبوطی، لوگوں کی بروقت منتقلی، متاثرین کی بحالی اور طویل المدتی منصوبہ بندی ہی وہ اقدامات ہیں جو ہمیں مستقل تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر ہر سال یہی اندھا پانی اور یہی اندھی انتظامیہ ہمارے سامنے ایک نئی قیامت برپا کرے گی۔
فیس بک کمینٹ

