پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے میں ایک دلہا اپنی دلہن کو کشتی کے ذریعے بیاہ لے آیا۔
دلہن کی رخصتی کی تصاویر اور ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں۔
شہزاد نامی نوجوان کی بارات کمالیہ کے علاقے کلیرا اڈا سے روانہ ہوئی جہاں زمینی راستوں کے سیلاب میں ڈوب جانے کے باعث کشتیوں کا سہارا لیا گیا۔ قریبی گاؤں خان دا چک میں نکاح کی تقریب منعقد ہوئی، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی کشتی میں دلہن کی رخصتی عمل میں آئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے ویڈیو کلپس میں دلہن کو لال جوڑے میں ملبوس، بازوؤں پر چوڑیاں اور ہاتھوں میں گجرے سجائے، پرس پکڑے ہوئے کشتی میں سوار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے جہاں ایک ریسکیو اہلکار انھیں لائف جیکٹ پہنا رہا ہے۔
ایک اور کلپ میں دلہا اور دلہن کے ساتھ ریسکیو اہلکار گروپ فوٹو بنواتے نظر آتے ہیں۔ سب سے دلچسپ منظر وہ ہے جہاں ایک شخص کشتی میں ڈھول بجا رہا اور شادی کا گیت گا رہا ہے۔
اس کشتی میں دلہن سمیت پانچ خواتین اور کچھ بچے بھی موجود تھے۔
کمالیہ، لاہور سے 218 کلومیٹر اور تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے، دریائے راوی کے طغیانی کے باعث یہ علاقہ شدید متاثر ہوا ہے۔ سیلاب نے ذرائع آمدورفت کو معطل کر رکھا ہے لیکن ریسکیو 1122 نے اس مشکل صورتحال میں شادی کی تقریب کو ممکن بنایا۔
ریسکیو 1122 کے اہلکار فیضان علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور بارات کو سیلابی ریلے سے گزار کر دلہن سمیت منزل مقصود تک پہنچایا۔‘
ریسکیو 1122 نے اپنے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا: ’سیلاب میں گھری بارات، ریسکیو 1122 کے اہلکار بنے سہاگ کے محافظ۔۔‘
انھوں نے لکھا ہے کہ دریائے راوی کی طغیانی نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی گاؤں خان دا چک سمیت درجنوں دیہات کو زیر آب کر دیا ہے۔
’اس مشکل صورتحال میں مسلم شیخ خاندان نے ہمت دکھائی اور شادی کی تقریب منعقد کی مگر جب زمینی راستے ڈوب گئے تو ہمارے اہلکاروں نے کشتیوں میں باراتیوں کا روپ دھارا۔ ڈھول کی تھاپ، شادی کے گیت، بچوں کی ہنسی اور بزرگوں کے مطمئن چہروں نے اس منظر کو یادگار بنا دیا۔‘
دلہا کے والد نے جذباتی انداز میں کہا ’ہمیں لگا تھا کہ شاید یہ خوشی کا دن مکمل نہیں ہو سکے گا لیکن ریسکیو 1122 کے اہلکار ہمارے رشتہ داروں سے بھی بڑھ کر نکلے۔ انھوں نے نہ صرف ہماری جانیں بچائیں بلکہ ہماری خوشیوں کے محافظ بھی بنے۔‘
یہ سیلابی شادی اس بات کا ثبوت ہے کہ مشکلات خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں، انسانیت کا جذبہ اور حوصلہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔
فیس بک کمینٹ

