وہ درمیانی عمر کا ایک شخص تھا، زمانے کی کڑی دھوپ نے اس کے وجود پر اپنے نشان چھوڑ دیے تھے مگر بیمار بچوں کے ساتھ اس کا کام، جو روزانہ اپنی زندگی کی جنگ لڑتے تھے، اس کے دل کو نرم کرتا گیا۔ برسوں کی ذمہ داری نے اس کے چہرے پر سرد اور پھیکی لکیریں بنا دی تھیں، مگر اس کے سینے میں اب بھی ایک ایسا دل دھڑکتا تھا جو حرارت اور رنگت کی خواہش رکھتا تھا۔
وہ نوجوان تھی، اپنی زندگی کی دہلیز پر کھڑی۔ روشن، ذہین اور باصلاحیت۔ اس کے سامنے امکانات کے دروازے ابھی تک کھلے ہی نہیں تھے، اس کا پورا سفر ابھی باقی تھا، اس کا مستقبل ابھی شفاف اور ہر بوجھ سے آزاد تھا۔ اس کی موجودگی نے اُس شخص کے اندر اچانک ایک چنگاری روشن کی، وہ جذبات جو وہ برسوں سے دبا چکا تھا یک بیک بیدار ہو گئے۔ اس کی مسکراہٹ اور وقار میں اُس نے جوانی کی بھولی ہوئی موسیقی سن لی۔
اس نے اُسے دل سے چاہنا شروع کیا، خواہش کے ہنگامے کے بغیر، مگر اُس تڑپ کے ساتھ جو ایک دل کو دوبارہ جینے پر آمادہ کرتی ہے۔ اس کے نزدیک محبت سچائی تھی، ایک تحفہ۔ اُس نے دل میں ایک ایسا رشتہ سوچ لیا جس میں اخلاص، عمر کے فرق کو بھی پُر کر سکتا تھا۔ لیکن اُس کے لیے وہ شروع ہی سے مختلف تھا۔ اُس نے اُسے ہمیشہ احترام کے قابل سمجھا، ایک بزرگ کی طرح، تقریباً باپ جیسی حیثیت میں۔ جب اُس نے اپنے دل کی بات لکھی، ایک بلاگ کے ذریعے، اپنی روح کو کھول کر رکھ دیا، تو وہ اُسے محبت کے طور پر قبول نہ کر سکی۔ اس کے بجائے وہ بے چین اور زخمی ہوئی۔ اس کی سچائی اسے خوشی دینے کے بجائے اُس کی سوچ سے ٹکرا گئی۔
عمر کا فرق، دنیا کا فرق، ایک دوسرے کو سمجھنے کا فرق، سب مل کر ایک ناقابلِ عبور دیوار بن گئے۔ اُس نے نرمی مگر پُرعزم لہجے میں کہا کہ اُس کے نزدیک وہ ہمیشہ باپ کی مانند رہا ہے، اور اس سے آگے کوئی تعلق ممکن نہیں۔ اُس نے اُس کی بات ماننے کی کوشش کی، حتیٰ کہ اُسے بیٹی کہنے پر بھی آمادہ ہوا، لیکن تب تک رشتہ ٹوٹ چکا تھا۔ اُس نے خاموشی اور فاصلہ اختیار کر لیا۔
اُس شخص کے لیے یہ لمحہ تباہ کن تھا۔ جو محبت اُس نے سوچی تھی، وہ غلط سمجھی گئی۔ جو خلوص اُس نے دیا، وہ قبول نہ کیا گیا۔ کہانی اچانک ختم ہوگئی اور اُس کے ہاتھ صرف خاموشی رہ گئی۔ پھر بھی اُس نے اُسے بُرا نہ کہا۔ وہ اب بھی اُس کی جوانی، ذہانت اور روشن مستقبل کا معترف رہا۔ اُس نے خود کو تسلی دی کہ شاید یہی بہتر ہوا۔ شاید اُس کے ساتھ رہنا اُس کے لیے بوجھ بن جاتا۔ وہ اُس زندگی کی مستحق تھی جو وہ پہلے ہی بنا رہی تھی، امیدوں اور امکانات سے بھری ہوئی۔
یوں ان کی کہانی ختم ہوئی ، نفرت سے نہیں بلکہ درد سے۔ کسی کی سنگدلی سے نہیں بلکہ اس لیے کہ کبھی کبھی دل، چاہے کتنے ہی سچے کیوں نہ ہوں، ایک دوسرے کے ساتھ نہیں جُڑ پاتے۔ محبت اُس کی زندگی میں ایک شعلے کی طرح داخل ہوئی اور فوراً بجھ گئی، اپنے پیچھے زخم بھی چھوڑ گئی اور سبق بھی۔
وہ زخم اور حکمت ساتھ لے کر آگے بڑھا۔ یہ ایک ایسی محبت کی کہانی تھی جس کا انجام المیہ تھا، اور شاید ایسے قصوں کی اصل قیمت اُن کے پورا ہونے میں نہیں بلکہ اُن کے سبق میں چھپی ہوتی ہے: کہ ہر چنگاری آگ نہیں بن سکتی، اور ہر دل جسے ہم چاہیں، وہ ہمارا نصیب نہیں بنتا۔

