ملتان: عالمی شہرت یافتہ خطاط ، اور ڈیزائنر محمد راشد سیال کی آج پہلی برسی ہے ۔ ان کا 12 دسمبر 2024 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا تھا۔راشد سیال کا اصل نام محمد راشد حسین ہے لیکن وہ پوری دنیا میں راشد سیال کے نام سےجانے جاتے تھے ۔ 23 فروری 1971ء کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد عاشق حسین مکینیکل انجینئر تھے ۔ راشد نے پائیلٹ سکول سے 1985 میں میٹرک کیا اور اسی دوران پانچویں جماعت سے خطاطی شروع کر دی مکینیكل انجینئر تھے ۔ راشد نے پائیلٹ سکول سے 1985 میں میٹرک کیا اور اسی دوران
پانچویں جماعت سے ہی خوش نویسی شروع کر دی۔ وہ روز نامہ امروز سے منسلک ہوئے اور استاد ظہور احمد آزاد سے خوش نویسی کا فن سیکھا۔ اخبارات کے ساتھ را شد سیال کی وابستگی 1992 ء تک جاری رہی۔
اس کے بعد وہ کراچی چلے گئے اور وہاں اردو سافٹ ویئر پر کام کیا۔ کراچی میں دو سال قیام کے دوران ہی خط راشد کے نام سے ان کا خط کمپیوٹر سافٹ ویئر کا حصہ بن گیا۔ یہ کمپیوٹر کےاوائل کا زمانہ تھا۔
1994ء میں ملتان آکر انہوں نے اپنا ادارہ قائم کیا اور ٹائیٹل ڈیزائنگ کا کام شروع کر دیا ۔ وہ اب تک سینکڑوں کتابوں کے سرورق ڈیزائن کر چکے تھے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس خطے میں کمپیوٹر پر ٹائیٹل ڈیزائٹینگ کے بانی بھی راشد سیال ہیں ۔ راشد سیال نے ملتان میں بیٹھ کر خطاطی کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچان کرائی۔
راشد سیال کی برسی پر سوشل میڈیا پر ان کے دوستوں نے بڑی تعداد میں تعزیتی پیغامات اور ان کی تصاویر شائع کی ہیں معروف شاعر اور صحافی رضی الدین رضی نے اس موقع پر کہا کہ راشد سیال کے ساتھ میرا دیرینہ تعلق تھآ ۔۔ گردوپیش پبلی کیشنز کے تمام سرورق انہوں نے ہی ڈیزائن کیے ۔۔ گردوپیش ویب سائٹ اور یو ٹیوب کا لوگو بھی ان کا بنایا ہوا ہے ۔ہماری ویب سائٹ اور چینل ہمیں ہمیشہ ان کی یاد دلاتا رہے گا ۔
فیس بک کمینٹ

