پاکستان میں بناسپتی گھی کئی دہائیوں سے عوامی استعمال میں ہے اور خاص طور پر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے باورچی خانوں میں یہ دیسی گھی کا سستا متبادل سمجھا جاتا رہا ہے، مگر سائنسی تحقیق اور سرکاری رپورٹس یہ ثابت کر چکی ہیں کہ یہی سستا متبادل درحقیقت عوامی صحت کے لیے ایک خاموش قاتل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ بناسپتی گھی کی تیاری میں استعمال ہونے والا صنعتی طریقہ، جسے ہائیڈروجنیشن کہا جاتا ہے، اس میں ایسے ٹرانس فیٹی ایسڈز پیدا کرتا ہے جو عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دل، شریانوں اور میٹابولک نظام کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ تھی جس کی بنیاد پر پاکستان میں مختلف ادوار میں بناسپتی گھی پر پابندی لگانے کی سفارشات سامنے آتی رہیں، مگر آج بھی یہ گھی مارکیٹ میں دستیاب ہے اور اس پر مکمل عملدرآمد نہ ہو سکا۔
طبی ماہرین کے مطابق صنعتی طور پر پیدا ہونے والے ٹرانس فیٹس انسانی جسم میں خراب کولیسٹرول کی مقدار بڑھاتے ہیں جبکہ مفید کولیسٹرول کو کم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں دل کی شریانیں سکڑنے لگتی ہیں اور دل کے دورے، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت کی سفارش ہے کہ روزمرہ خوراک میں ٹرانس فیٹس کی مقدار کل توانائی کا ایک فیصد سے بھی کم ہونی چاہیے، مگر پاکستان میں کی گئی مختلف غذائی جانچ رپورٹس کے مطابق بناسپتی گھی میں یہ مقدار کئی گنا زیادہ پائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بناسپتی گھی کو صرف غیر صحت بخش ہی نہیں بلکہ طویل المدتی بیماریوں کا سبب قرار دیا گیا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر ریگولیٹری اداروں نے 2017 کے بعد متعدد بار اس بات کی تصدیق کی کہ مارکیٹ میں دستیاب کئی بنا سپتی گھی برانڈز مقررہ صحت معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ سرکاری ٹیسٹ رپورٹس میں ان گھیوں میں ٹرانس فیٹس کی مقدار 10 فیصد سے 40 فیصد تک ریکارڈ کی گئی، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ انہی رپورٹس کی بنیاد پر یہ سفارش سامنے آئی کہ بنا سپتی گھی کو مرحلہ وار ختم کیا جائے یا اسے ایسے صحت مند تیلوں میں تبدیل کیا جائے جن میں ٹرانس فیٹس نہ ہوں۔ تاہم یہ سفارشات عملی جامہ نہ پہن سکیں۔
عملدرآمد میں ناکامی کی ایک بڑی وجہ طاقتور گھی مل مالکان اور صنعت کاروں کا دباؤ ہے۔ پاکستان میں بنا سپتی گھی ایک بڑی صنعت کی صورت اختیار کر چکی ہے جس سے اربوں روپے کا کاروبار جڑا ہوا ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ملک میں سالانہ لاکھوں میٹرک ٹن بنا سپتی گھی تیار کی جاتی ہے اور حالیہ برسوں میں اس کی پیداوار نو لاکھ میٹرک ٹن سالانہ سے تجاوز کرتی رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 200 سے زائد چھوٹی بڑی ملیں خوردنی تیل اور بنا سپتی گھی تیار کر رہی ہیں، جن میں سے بڑی تعداد پنجاب اور سندھ میں قائم ہے۔ یہی ملیں حکومتی فیصلوں کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرتی رہیں، جس کے باعث پابندیوں کا نفاذ قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوتا چلا گیا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ بنا سپتی گھی کو مکمل طور پر بند کرنے کی صورت میں متبادل صحت مند تیل کی فراہمی اور قیمت کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے کہ اچانک پابندی سے کم آمدنی والے طبقے پر مالی بوجھ بڑھے گا، کیونکہ دیسی گھی یا دیگر صحت مند تیل بناسپتی گھی کے مقابلے میں مہنگے ہیں۔ اسی سوچ نے فیصلہ سازی کو کمزور رکھا اور عوامی صحت کو معاشی مصلحتوں پر قربان کیا جاتا رہا۔
وفاقی سطح پر پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے حالیہ برسوں میں ٹرانس فیٹس کے حوالے سے نئے معیارات متعارف کرائے ہیں، جن کے تحت تمام غذائی اشیا میں صنعتی ٹرانس فیٹس کی حد دو فیصد مقرر کی گئی ہے۔ بظاہر یہ ایک مثبت قدم ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ لیبارٹری نگرانی، مارکیٹ چیکنگ اور لیبلنگ کے نظام میں اب بھی سنگین خامیاں موجود ہیں۔ متعدد برانڈز لیبل پر ٹرانس فیٹس کی درست مقدار ظاہر نہیں کرتے یا جانچ کے نظام سے بچ نکلتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دل کے امراض پہلے ہی اموات کی بڑی وجہ بن چکے ہیں اور بناسپتی گھی جیسی اشیا اس بحران کو مزید گہرا کر رہی ہیں۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سال لاکھوں افراد قلبی امراض کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں بڑی تعداد درمیانی عمر کے افراد کی ہے۔ غذائی عادات، خصوصاً ناقص چکنائیوں کا استعمال، اس صورتحال کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب بناسپتی گھی کے نقصانات سائنسی طور پر ثابت ہو چکے ہیں، جب سرکاری رپورٹس اسے صحت کے لیے خطرناک قرار دے چکی ہیں، اور جب عالمی ادارے اس کے خاتمے پر زور دے رہے ہیں، تو پھر یہ گھی آج بھی ہماری پلیٹوں میں کیوں موجود ہے؟ اس کا جواب کمزور عملدرآمد، صنعتی دباؤ، قانونی پیچیدگیوں اور حکومتی عدم دلچسپی میں پوشیدہ ہے۔
جب تک عوامی صحت کو محض ایک انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی کا معاملہ نہیں بنایا جائے گا، اس وقت تک بنا سپتی گھی جیسے خاموش قاتل ہماری غذا کا حصہ بنتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت محض نوٹیفکیشن جاری کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ سخت نگرانی، شفاف لیبارٹری نظام، عوامی آگاہی اور صنعت کے لیے واضح ڈیڈ لائن کے ذریعے اس مسئلے کا مستقل حل نکالے، ورنہ آنے والی نسلیں اس غفلت کی قیمت اپنی صحت سے چکاتی رہیں گی۔
فیس بک کمینٹ

