مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’آج میرا سر احساس شکر گزاری میں ہر بنگالی کے سامنے جھکا ہؤا ہے‘۔ لیکن درحقیقت ان کا سر بنگال کے تمام ہندو شہریوں کے سامنے فخر سے بلند ہؤا ہے کہ خالصتاً مذہبی انتہاپسندی کی بنیاد پر منظم کی گئی سیاسی مہم کامیاب ہوئی اور ریاست کی 27 فیصد مسلم آبادی کی ضرورتوں اور خواہشات کو مسترد کردیا گیا۔
بنگال میں بی جے پی کی جیت اس لحاظ سے تاریخی ہے ہی کہ پارٹی نے تاریخ میں پہلی بار اس ریاست کی اسمبلی میں دوتہائی سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہے۔ لیکن کامیابی کی یہ تفہیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک اس میں یہ عنصر بھی شامل نہ کیا جائے کہ یہ کامیابی بنگال کے شہریوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ہندو ووٹروں کی وجہ سے حاصل کی گئی ہے۔ بنگال میں بی جے پی کو ووٹ دینے والے ہر شخص کو معلوم تھا کہ وہ ایک ایسی پارٹی کو ووٹ دے رہا ہے جو ہندو ایجنڈے پر گامز ن ہے اور ریاست کی اہم اور بڑی اقلیت کو سو فیصد نظر انداز کرکے اکثریت کو حق حکمرانی دینے کا اصول تسلیم کرتا ہے۔ عقیدے کی بنیاد پر تقسیم اور نفرت کی یہ سیاست جمہوریت کے اس بنیادی اصول سے متصادم ہے جس میں سب شہریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی جاتی ہے۔ جمہوریت میں اکثریتی گروہ کبھی کسی خاص نسبت کی بنیاد پر ایک مخصوص گروہ کو علیحدہ کرکے تنہا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ تاہم بی جے پی اور مودی نے اتر پردیش کے بعد اب بنگال میں یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اسے اگرچہ جمہوریت کی کامیابی کہا جائے گا لیکن یہ کسی بھی ملک کے جمہوری سفر میں بڑی رکاوٹ حائل کرنے کے مترادف ہے۔
بی جے پی یہ اصول طے کروارہی ہے کہ بھارت کی اکثریت ہندو عقیدے پر عمل پیرا ہے اور انہیں اس بنیاد پر ہر ریاست اور ہر شعبہ میں بالادستی کا حق حاصل ہے۔ گویا اقلیتوں کویہ پیغام دیا جارہا ہے کہ انہیں ہندوستان میں رہنے کے لیے دوسرے درجے کا شہری بن کر رہنا ہوگا۔ آئینی و سماجی مجبوریوں کی وجہ سے ابھی بی جے پی مسلمان ووٹروں کو رائے دینے کے حق سے محروم کرنے کا اقدام کرنے سے گریز کررہی ہے لیکن وہ جس انداز میں بھارت کی سیاست کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہے اور لوگوں کو جیسے مذہبی بنیادوں پر صدیوں سے ساتھ رہنے والے ہمسایوں کے خلاف متحرک ہونے پر آمادہ کیا جارہا ہے، اس سے یہ زیادہ دور کی بات نہیں لگتی کہ ہندوستان میں صرف ہندوؤں ہی کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا اور باقی اقلیتیں محکوموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی۔ اس کے باوجود نریندر مودی جیسے لیڈر انتہائی ڈھٹائی اور بے شرمی سے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دینے کا اعلان کرتے رہیں گے۔ ہندو توا کا ایجنڈا کسی جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ وہ جمہوریت کو گروہی سیاست مسلط کرنے اور ہندوؤں کی طاقت و اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کو اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بنگال میں بی جے پی صرف ممتا بینر جی کی پارٹی ترنمول جانگرس ہی کو شکست نہیں دلوانا چاہتی تھی بلکہ اس کا اصل مقصد ریاست سے روشن خیالی اور انسان دوستی کے اصولوں کا جنازہ نکالنے پر استوار تھا۔ اس کے لیے سب سے پہلے ملک کے الیکشن کمیشن کو ایک خاص سیاسی ایجنڈے کے تحت کام کرنے پر مامور کیا گیا اوران انتخابات سے پہلے انتخابی فہرستوں کو جعلی ووٹروں سے پاک کرنے کے نام پر ان میں سے 27 لاکھ ووٹروں کے نام نکال دیے گئے۔ اور متاثرہ ووٹروں کو فیصلوں کے خلاف اپیل کا محدود حق ہی دیا گیا تاکہ قانون کی ’بالادستی‘ کا دعویٰ کیا جاسکے لیکن کسی متاثرہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تدارک نہ ہو۔ بی جے پی کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ نااہل قرار دیے گئے سب ووٹر ایسے عناصر پر مشتمل تھے جوروائیتی طور سے بی جے پی کی مخالف سیاسی پارٹیوں کوووٹ دیتے رہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے یہ ٹھوس اقدام کرکے کامیابی کا اسٹیج تیار کرلیا گیا تھا۔
ہندو ایجنڈے کو عوام اور سیاسی مبصرین کے اذہان میں راسخ کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا ارٹی نے ایک ایسی ریاست میں کسی مسلمان شخص کو پارٹی کے ٹکٹ پر امیدوار بننے کا موقع نہیں دیا جہاں کل آبادی کا 27 فیصد مسلمان ہیں۔ اس طرح 298 ارکان پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں بی جے پی نے جو 205 نشستیں جیتی ہیں، ان میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔ یہ حکمت عملی جان بوجھ کر ایک خاص مقصد سے اختیار کی گئی تھی۔ بھارتی جنتا پارٹی ہندوؤں کی پارٹی ہے اور ہندوستان کو ہندو ریاست بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ ہر ہتھکنڈا اور ہر بے قاعدگی اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترنمول کانگرس پارٹی نے ان انتخابی نتائج کو دھاندلی زدہ قرار دیا ہے اور ممتا بینر جی کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ایک سو سے زیادہ نشستیں دھاندلی اور دھونس سے جیتی ہیں۔ وہ اس کامیابی کو تسلیم نہیں کرتیں۔
بنگال میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح ہمیشہ ہی زیادہ رہی ہے لیکن اس بار اس شرح میں اچانک دس فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا۔ گزشتہ انتخابات میں تقریباً 82 فیصد ووٹروں نے رائے کا حق استعمال کیا تھا لیکن اس بار یہ تعداد 93 فیصد تھی۔ حیرت انگیز طور پر صرف ووٹ دینے والوں کی شرح ہی میں اضافہ نہیں ہؤا بلکہ اس اضافے سے بی جے پی کو غیر معمولی اکثریت بھی حاصل ہوئی۔ اس صورت حال میں یا تو جعلی ووٹ بھگتانے کا طریقہ اختیار کیا گیا اور بی جے پی کے لیے غیرمرئی ہاتھ کامیابی کا سبب بنے ۔ یا پھر بی جے پی کے زہریلے اور نفرت انگیز پروپیگنڈے سے ہندو ووٹر غیر روائیتی طور پر بہت بڑی تعداد میں باہر نکلے اور ایک خاص عقیدے کے لوگوں کی کامیابی یقینی بنائی۔ یہ کامیابی کسی بھی طرح کسی سیاسی پارٹی کے فلاحی سیاسی منشور کی کامیابی نہیں ہے بلکہ نفرت، انتہاپسندی اور مسلم نفرت کا شاخسانہ ہے۔
کانگرس ترنمول گزشتہ پندرہ سال سے مغربی بنگال میں حکومت کررہی ہے۔ اس دوران بدنظمی اور بدعنوانی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں اور بے روزگاری اور مشکل معاشی حالات نے بھی لوگوں کو اس پارٹی سے برگشتہ کیا ہے۔ یوں بھی کسی بھی جمہوری عمل میں طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والی پارٹیوں کو عام طور سے عوامی غم و غصے کا سامنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ممتا بینر جی کی ناکامی کی فطری وجوہات تلاش کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جب یہ ناکامی درحقیقت ہندو انتہا پسند بی جے پی کی کامیابی میں تبدیل ہوتی ہے تو سوال پیداہوتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ کیا بنگال کے باشعور اور روشن خیال ووٹروں کو دوسری ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں کی کارکردگی اور انتہاپسندانہ طریقے دکھائی نہیں دیتے؟ یا پھر بنگال کے ہندو ووٹروں کو ذہنی طور سے صرف عقیدہ کی بنیاد پر ووٹ دینے کے لیے تیار کرکے اصل مسائل کو فراموش کرنے پر مجبور کیا گیا؟
بنگال کے شہریوں کو عام طور سے باشعور اور ترقی پسند سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے بی جے پی کی مذہبی انتہاپسندی کو چیلنج کرنے والی ممتا بینر جی کامیابی سے بنگال میں حکومت کے ذریعے نریندر مودی کی غیر منصفانہ اور غیر معقول پالیسیوں کی سب سے بڑی ناقد رہی ہیں۔ البتہ ان انتخابات میں بنگالی ووٹروں نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ پانچ برس میں اگر بی جے پی معاشی بحالی میں کامیاب نہ ہوسکی تو ووٹروں کا رد عمل کیا ہوگا۔ ان اتخابات میں بی جے پی کی کامیابی البتہ بھارت کی قومی سیاست میں اس کی گرفت مضبوط کرنے کا سبب بنی ہے، علاقائی سیاسی پارٹیاں کمزور ہوئی ہیں اور نریندرمودی چوتھی بار وزیر اعظم بننے کا خواب پورا کرنےکی راہ ہموار کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

