موجودہ حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا اعلان کیا جاتاہے۔ شروع میں تو ایک سو ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری لانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت اپنے کسی ارادے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ اب ترکیہ کے دورہ کے موقع پر وزیر اعظم نے ملک کے ممتاز کاروباری و صنعتی رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی دعوت دی ہے۔
تاہم کسی غیر ملک میں جاکر حکومتوں یا صنعتکاروں سے سرمایہ کاری کی بات کرنے والے وزیر اعظم نے کبھی سنجیدگی سے ان مسائل کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی جن کی وجہ سے سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی رکھنے کے باوجود اپنا سرمایہ یہاں لگانے کا حوصلہ نہیں کرتے۔ یہ وجوہات اتنی واضح اور نوشتہ دیوار کی مانند ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لیے کوئی بقراط ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینے والی حکومت کے سربراہ کو ان وجوہات پر غور کرنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ پاکستانی اشرافیہ ایک تو ملک کے عوام کو درپیش مسائل کا خود سامنا نہیں کرتی ۔ دوسرے حکومت ، وزیر اعظم اور فیصلے کرنے والے عناصر ’آؤٹ آف باکس‘ حل تلاش کرنے میں ناکام ہیں اور نہ ہی اس کا حوصلہ کرتے ہیں۔ پاکستان کے تہ دار مسائل صرف دعوے کرنے اور سیاسی بیان بازی سے اپنا قد اونچا کرنے کی خواہش سے حل نہیں ہوں گے۔
اس کا اندازہ ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بنیادی سوال پر گزشتہ دو دہائی کے دوران اقتدار سنبھالنے والی ہر حکومت کی ناکامی سے کیاجاسکتا ہے۔ آئی ایم ایف سے بار بار امدادی پیکیج لیتے ہوئے ہر بار یہی مطالبہ سننے میں آتا ہے کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا تاجر طبقہ ٹیکس ادا کرنے پر تیار نہیں ہے۔ سرکاری خزانے میں حصہ ڈالنے کی بات تو پھر بھی بعد میں آئے گی ، یہ لوگ تو ٹیکس دہندگان کے طور پر رجسٹریشن کرانا بھی گناہ سمجھتے ہیں۔ کیوں کہ ملکی تاجروں کے ذہن میں یہ بات پختہ ہوچکی ہے کہ ایک بار ٹیکس رجسٹریشن کے بعد ان کا انکم ٹیکس حکام سے جان چھڑانا مشکل ہوجائے گا۔ پھر کچھ ٹیکس دینے کے علاوہ سرکاری عمال کو رشوت کے طور پر زیادہ بڑی رقم ادا کرنا پڑے گی۔ ملک کے پیچیدہ ، مشکل اور ناقابل فہم ٹیکس نظام میں ہر ٹیکس دہندہ انکم ٹیکس آفس میں کام کرنے والے اہلکاروں اور افسروں کی ’نظر کرم‘ کا محتاج ہوتا ہے۔ کوئی تاجر جب تک ٹیکس دہندہ نہیں ہے ، وہ تھوڑے سے پیسے دے کر جان چھڑا لیتا ہے، لیکن ایک بار رجسٹریشن ہوجانے کے بعد یہ خوف لاحق ہوگا کہ اگر ٹیکس حکام کو ’راضی‘ نہ کیا گیا تو سرکاری واجبات کے نام پر اس پر اتنا ٹیکس لادا جاسکتا ہے کہ شاید متعلقہ تاجر کو اپنا کاروبار ہی سمیٹنا پڑے۔
اس صورت حال سے ملک کے عمومی انتظامی ڈھانچے میں بدانتظامی ، نااہلی اور کرپشن کی صورت حال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ملک میں اب تک یہی سمجھا جاتا ہے کہ ایک بار سرکاری نوکری مل گئی تو سارے دلدر دور ہوجائیں گے۔ یعنی ایک تو نوکری ’پکی‘ ہوگی اور اس سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ دوسرے بالائی آمدنی کی مد میں گھر تو ایک طرف قریبی عزیزوں کی ضرورتیں بھی پوری کرنے کا اہتمام ہوجائے گا۔ اگر ملک میں سرکاری نوکری سے مراد ہی یہ لی جائے کہ یہ رشوت کے حصول کا راستہ ہے تو اس نظام کی اصلاح یہ دعوے کرنے سے کیسے ہوسکتی ہے کہ حکومت نے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سرمایہ کاروں کے لیے شاندار مواقع پیدا کردیے ہیں۔ موجودہ حکومت ہی نے یہی نعرہ لگاتے ہوئے ’خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل‘ قائم کی تھی۔ اسی کا حوالہ دیتے ہوئے ترکیہ میں بھی وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ ’ سٹریٹجک سرمایہ کاروں کو ون ونڈو سہولت اور ادارہ جاتی معاونت فراہم کی جارہی ہے‘۔ اوّل تو یہ اسٹریٹجک سرمایہ کار کی تخصیص کا کیا مطلب ہے؟ کیا کسی سہولت کا فائدہ ہر قسم کے سرمایہ کار کو نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن اس کے باوجود ایک غیر ملک میں تاجروں و صنعتکاروں سے گفتگو میں شہباز شریف ایسی بے معنی گفتگو سے گریز نہیں کرتے۔
’خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل‘ ملک میں کوئی نئی سرمایہ کاری نہیں لاسکی۔ اس کا اندازہ متعلقہ اعداد و شمار، مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور برآمدات میں تنزلی سے لگایا جاسکتا ہے۔ درحقیقت جب کوئی حکومت کسی خاص طبقے کے لیے ’ون ونڈو آپریشن‘ کا دعویٰ کرتی ہے تو درحقیقت وہ یہ اعلان کررہی ہوتی ہے کہ وہ ملک کا نظام تو ٹھیک نہیں کرسکی لیکن بعض مخصوص لوگوں کے لیے ون ونڈو آپریشن کے ذریعے سہولت فراہم کی جائے گی۔ عملی طور سے یہ ون ونڈو آپریشن اسی نظام کا حصہ بن جاتا ہے جو دیمک زدہ اور ناقص ہے اور جس کے ساتھ وابستہ اہلکار بھی اس پر یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ بلکہ اس نظام کو ذاتی ہوس گیری کا آسان راستہ بنا لیا گیا ہے۔ ملکی انتظامی ڈھانچہ فعال و شفاف کیے بغیر حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ یہ مسئلہ صرف کسی دفتر سے فائل ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ عملی طور سے لیبر قوانین سے لے کر عدلیہ تک سب ہی ایک ناقص انتظام کا حصہ ہیں اور اسے تبدیل کرنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ یہ رکاوٹ دور نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملکی اشرافیہ اور حکومت کسی نہ کسی طرح اس نظام کا حصہ ہے یا اس سے استفادہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ یوں جن لوگوں کو اصلاحات لانی چاہئیں ، وہ خود ہی اصلاح دشمن رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔غیر فعال اور کرپٹ انتظامی ڈھانچہ کے علاوہ ملک میں بدامنی کی صورت حال بیرونی سرمایہ کاری کی راہ میں دوسری بڑی رکاوٹ ہے۔ چین نے گوادر منصوبے میں کثیر سرمایہ کی لیکن اسے مسلسل چینی ورکرز کے خلاف دہشت گردی سے پریشانی ہے۔ ملک کے دو صوبے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ یہ قیاس کرنا مشکل ہے کہ کوئی غیر ملکی اس ملک میں خود کو محفوظ محسوس کرسکتا ہے۔ ان حالات میں کون سا تاجر سرمایہ بھی لائے گاا ور اپنے عہدیداروں کی زندگیاں بھی خطرے میں ڈالے گا۔ دہشت گردی کی ساری ذمہ داری اگرچہ حکومت پر عائد نہیں کی جاسکتی لیکن اسے اس بات کا جوابدہ تو ہونا پڑے گا کہ اس معاملہ کے بیرونی عوامل پر توجہ مبذول کرنے کے علاوہ اس کے مقامی سیاسی پہلوؤں کو کیوں نظرانداز کیا جارہا ہے۔ حالانکہ بیشتر ماہرین اس بات سے متفق ہیں کہ ملک میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے سیاسی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے لیکن حکومت صرف طاقت کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تاہم ان تمام عملی مشکلات کے علاوہ پاکستان میں سرمایہ کاری نہ آنے کی ایک بنیادی وجہ اشرافیہ کا یہ رویہ بھی ہے کہ پاکستان کو اپنی ’خدمات‘ کے عوض امداد کے نام پر وسائل فراہم کردیے جائیں لیکن ایسے منصوبوں پر کام کی کوئی ضرورت محسوس نہ ہو جو ملکی معیشت کو اوپر اٹھا سکیں۔ اس کی مثال افغانستان کی پہلی اور دوسری جنگ کے دوران حالات میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں امریکی پالیسی کے نفاذ میں مدد کے عوض ’کثیر مالی معاونت ‘ فراہم ہوتی رہی۔ ان وسائل کو ویسے ہی صرف کردیا گیا جیسے یہ وصول ہوئے تھے۔ کسی اعلیٰ عہدے پر بیٹھے شخص نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ ان وسائل کو کہاں صرف کیا گیا اور عسکری امداد کے نام پر آنے والے اربوں ڈالر کہاں گئے؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے پاکستان میں خیرات کی ثقافت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ لوگ خیرات دے کر یا لے کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ کوئی یہ جاننا نہیں چاہتا کہ خیرات میں بانٹے جانے والے وسائل کو پیداواری سہولتوں میں صرف کرکے روزگار کے لاتعداد مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ سرکاری بجٹ میں ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ پروگرام اس خیرات ثقافت کی نمائیندہ مثال ہے۔ اسی طرح پاکستانی اشرافیہ بھی درحقیقت اسی ’خیرات کلچر‘ کا حصہ ہے۔ اسے سروس دینے اور اس کا معاوضہ وصول کرنے میں آسانی ہے۔ سرمایہ کاری، اس کی مینیجمنٹ اور ملکی معیشت کے سدھار کا بھاری پتھر اٹھانے کا حوصلہ نہیں کیاجاتا۔
جب کسی ملک میں سرکاری سطح پر پیداواری ذہنیت معدوم ہو تو اس کا وزیر اعظم کس بنیاد پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ملک میں وسائل لانے پر آمادہ کرسکتا ہے۔ یہ باتیں محض روٹین کا حصہ ہیں جیسے غیر ملکی دورے اب وزیر اعظم کے تقریباً روزمرہ کا حصہ بن چکے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

