اختصارئےعامر اعوانلکھاری

ماں تو رہے گی ۔۔ عامر اعوان

شعبہ وکالت کی بہت سی اچھی روایات میں ایک روایت یہ ہے کہ اکثر سینئر وکیل اپنے شاگردوں کو وکالت کا سبق دینے کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے اچھے سبق بھی دیتے ہیں، استاد اقبال بھی ایسے ہی سینئرز میں سے ایک ہیں ، معمول کے مطابق ایک کیس کے متعلق رہنمائی لینے گیا ، گڑ والی چائے جو استاد جی اپنے ہاتھ سے بنا کر پلاتےہیں مجھے بہت پسند ہے۔ چائے کے دوران میں نے سوال کیا کہ ا ستاد جی اپنی زندگی کا نچوڑ بتائیں، قلم رکھ کر کرسی کی ٹیک دیوار کے ساتھ لگا کر کہنے لگے کہ“ بیٹا ہر حال میں اپنے والدین کی خدمت کرو، ان کی ہر بات پر سر تسلیم خم کرو،کوئی بات بری بھی لگے تو طریقے اور احترام سے بات کرو۔ میں تمہیں ایک واقعہ سناتا ہوں۔۔۔۔
میرا معمول تھا کہ کورٹ سے فارغ ہو کر سیدھا ماں کے پاس جاتا اور ان کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنے کے بعد اپنے گھر جو کہ ماں کے گھر سے متصل ہے، اپنے بیوی بچوں کے پاس آ جاتا۔ گو کہ ہمارے گھر الگ الگ تھے مگر آنا جانا لگا ہی رہتا تھا۔ میری بچیاں پورا دن ماں جی کے پاس ہی رہتیں اور جب بچیاں نہ جا سکتیں تو ماں جی خود ہمارے پاس آ جاتیں اور جب تک مجھ سے ڈھیر باتیں نہ کر لیتیں ان کو سکون نہ ملتا۔ ایک دن میں کورٹ میں اتنا مصروف رہا کہ گھر کی خبر ہی نہ لے پایا۔تھکن سے برا حال تھا اور پچھلی رات دیر تک کام کرتے رہنے کے باعث آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں اور ہمت بالکل جواب دے چکی تھی۔ پہلے سوچا کہ سیدھا گھر ہی جاﺅں اور سیدھا بستر پر گر کر تھکاوٹ اتار لوں۔ ماں جی سے اگلے دن ملاقات ہو جائے گی پھر ان کا بے انتہاخیال آیا کہ وہ میری راہ تکتی ہوں گی۔ یہی سوچ کر سکوٹر سیدھا ان کے دروازے پر روکا۔ ابھی بمشکل دروازہ بھی نہ بند کرنے پایا تھا کہ ماں جی کو پریشانی کے عالم میں باہر آتا دیکھا۔ خلافِ معمول ان کے چہرے پر خوشی کی بجائے تشویش، آنکھوں میں لالی اور چال میں پہلے جیسے خود اعتمادی نہیں تھی۔ میں کچھ ڈرا اور جیسے ہی ان کو سلام کرنے آگے بڑھا تو مجھے دیکھ کر ان کی آنکھوں سے جیسے بے اختیار موتی ٹپکنے لگے۔ ہمیں غصہ قابو میں رکھنے کی تلقین دینے والی ماں جی آج خود ہاری بیٹھی تھیں۔ پھر کچھ سنبھل کر گویا ہوئیں، ”کیا میں ماں نہیں ہوں تمہاری؟“ میں نے مودبانہ جواب دیا، ”کیوں نہیں، ماں جی اس میں کوئی شک ہے کیا۔“
میرے جواب دینے کی دیر تھی کہ ماں جی کے گال لال ہونے لگے اور انہوں نے اونچی آواز میں کہنا شروع کر دیا تو پھر آج فیصلہ ہو گا، آج ہی فیصلہ ہو گا‘ ۔میں پہلے کچھ ٹھٹھکا اور پھر یاد آیا کہ یہ ساس بہو میں چلنے والی پرانی چپقلش کا شاخسانہ ہے۔میرے استفسار پر غصے میں بولیں کہ آج فیصلہ ہو کر ہی رہے گا یا ماں رہے گی یا بیوی میں نے ماں کے یہ تیور پہلے کبھی نہ دیکھے تھے۔ عام نوک جھونک تو چلتی ہی رہتی تھی مگر اس نہج پر ماں جی پہلے کبھی نہ گئی تھیں۔ اور انہوں نے کبھی کسی قسم کی خفگی کا ذکر تک نہ کیا تھا۔ یہ سوچتے ہی میں نے ان کو کچھ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، مگر وہ تو اعلانِ جنگ کر کے کشتیاں جلائے بیٹھی تھیں میں نے بات رفع دفع کرنے کی بہتیرا کوشش کی مگر ایک وقت آیا کہ تمام کوششیں بے سود معلوم ہونے لگیں کیونکہ جب بھی میں کچھ کہنا چاہتا ماں جی مزید بھڑک اٹھتیں۔ پھر ماں جی نے دوبارہ کہا کہ آج اور ابھی فیصلہ کرو ماں رکھنی ہے یا بیوی، میں نے فوراً جواب دیا کہ ماں جی فیصلہ تو ایک ہی ہے کہ بلاشبہ ماں ہی رہے گی۔ ماں نے بے یقینی کی سی کیفیت میں پہلے مجھے دیکھا اور میری طرف دیکھتے ہوئے جذباتی انداز میں بولیں،”نہیں!مجھے یقین نہیں ہے،لکھ کر دو۔ آج فیصلہ ہونا چاہئے۔“ میں معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے دو ٹوک انداز میں اٹھ کر بولا ”میرا فیصلہ ایک ہی ہے جہاں مرضی لکھوا لیں۔ “غرض کاغذ قلم منگوایا گیا اور اس پر باقاعدہ چار الفاظ دو مرتبہ لکھے گئے کہ ”ماں رکھی جائے گی، ماں رکھی جائے گی“۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد میرے اس طرح کاغذ پر ماں کی مرضی کے الفاظ لکھ کر دینے سے گھر کی گھٹی ہوئی فضا میں کچھ کمی محسوس ہونے لگی۔ لیکن ماں کا غصہ بالکل بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا وہ دوبارہ تھوڑے تذبذب سے بولیں ”اب بیوی کو طلاق بھی لکھو۔“ ان کی آنکھوں میں ابھی بھی پریشانی اور آواز میں عدم اعتماد تھا۔ وہ بضد تھیں کہ میں ان کی بات مانوں جو کہ میری زندگی کا شاید ایک اہم امتحان تھا۔ میں تھوڑی دیر چپ بیٹھنے کے بعد اٹھا، اپنی بچیوں کی دیوار پر لٹکی تصویر کو دیکھا اور پھر ماں کی طرف دیکھ کر بہت پیار سے گویا ہوا” ماں جی، جیسا فیصلہ آپ نے چاہا تھا بالکل ویسا ہی ہوا ہے۔ ماں رکھنے کا فیصلہ ہوا تھا نا، اس میں طلاق کی تو بات ہی نہ تھی۔ آپ میری ماں ہیں، میری بیوی بھی میری تین بچیوں کی ماں ہے اور فیصلہ بھی یہی ہوا ہے کہ ماں رہے گی۔“ ماں جی میری بات سن کر پہلے کچھ حیران سی ہوئیں، اب ان کی آنکھوں میں غصہ نہیں پریشانی تھی اور وہ میری جانب غیر ارادی طور پر دیکھے جا رہی تھیں۔ اب میری بچیوں کی جانب متوجہ ہوئیں پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنی سب سے چھوٹی پوتی کو گود میں لیا اور میری بیوی کے پاس گئیں۔ اسے برا بھلا کہہ کر خبردار کیا کہ دوبارہ ان سے نہ الجھے اور نہ فالتو بات کرے۔ اس دن کے بعد ماں جی جب تک زندہ رہیں ہمارے گھر کبھی پلٹ کر ساس بہو کی لڑائی نہ ہوئی۔ بلکہ جب بھی کوئی طلاق کا نام لیتا ماں جی اس سے خود لڑ پڑتیں کہ خبردار کسی نے ایسی بات کی تو ماں ہر صورت رکھی جائے گی!

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker