شاکر حسین شاکرکالمکتب نمالکھاری

مستنصر حسین تارڑ، آوارگی کے 78 برس ۔۔ کہتا ہوں سچ / شاکر حسین شاکر

یکم مارچ 2017ء کو جناب مستنصر حسین تارڑ چشم بد دور خیر سے 78 برس کے ہو گئے۔ ملتان کے چند دوستوں نے اس موقع پر پروگرام بنایا کہ ملتان سے چند مداحین کا ٹولہ لاہور جا کر یکم مارچ کی سہ پہر کو چائے پیئے گا۔ ان کی سالگرہ کا کیک کاٹنے کا سیشن ہو گا، کچھ وقت اُردو کے مہان لکھاری کی باتیں سنیں گے اور پھر لوٹ کے ملتان گھر آ جائیں گے۔ 26 فروری کی شام مَیں نے برادرم افضال احمد سے رابطہ کیا ان کو لاہور آنے کی اطلاع دی اور ساتھ میں ان سے گزارش کی کہ وہ ایک مرتبہ پھر تارڑ صاحب سے دریافت کریں کہ ملتان کے دوست کتنے بجے ان کے گھر آ جائیں۔ اگلے دن افضال احمد فون پر بتایا کہ تارڑ صاحب کی طبیعت ناساز ہے۔ انہوں نے اپنی سالگرہ کے سلسلہ میں ہونے والی تمام تقریبات منسوخ کر دی ہیں اور دو ستوں کو پیغام دیا ہے کہ جیسے ہی ان کی طبیعت بحال ہو گی وہ خود ہی رابطہ کر کے مارچ کے کسی دن دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر کیک کاٹیں گے، گپ شپ میں گزرے لمحوں کو یاد کریں گے، مطلب یہ ہے کہ
یار زندہ صحبت باقی
یکم مارچ کو لاہور جانے کا پروگرام قیصر عباس صابر اور رضی الدین رضی نے ترتیب دیا، مجھ سے پوچھا کیا کہ یکم کو کوئی مصروفیت تو نہیں۔ مَیں نے جواب دیا یکم مارچ کو ایک کام ہے کہ لاہور میں جا کر مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینی ہے۔ ان سے ”لاہور آوارگی“ اور ”پیار کا پہلا پنجاب“ پر آٹوگراف لینے ہیں۔ یاد رہے کہ مَیں ان دنوں ”لاہور آوارگی“ کو اپنے اندر کشید کر رہا ہوں۔ ملتان کا باسی ہونے کے باوجود مجھے لاہور کے مسمار ہوتے ہوئے ”اُچے برج“ اچھے لگتے ہیں کہ اسی لاہور کی سرزمین میں میرے نانا ابو اور میرے چھوٹے ماموں کی قبریں ہیں۔ یہ وہی لہور ہے جہاں میرے بہت سے احباب رہتے ہیں جن کی شادابی کے لیے ہمیشہ دُعاگو رہتا ہوں۔
بات ہو رہی تھی جناب مستنصر حسین تارڑ کی سالگرہ کے متعلق یکم مارچ کو ان کی طبیعت ایسی تھی کہ شاکر علی میوزیم میں ان کی تین کتب کی رونمائی تھی وہاں بھی ان کی اہلیہ نے شرکت کی اور سدا کے ”آوارہ گرد“ گھر میں قید رہے۔ ملتان سے لے کر لاہور اور پوری دنیا کے مداحین مستنصر حسین تارڑ نے یکم مارچ 2017ءکو ان کی زندگی اور صحت کے لیے دُعائیں گیں۔ جو جس جگہ موجود تھا وہ ان کی درازی¿ عمر کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھا۔ ملتان میں جب ہم نے ملتان ٹی ہاؤس میں ان کی سالگرہ پر بڑی میز پر ان کی تمام کتابوں کو سجایا تو درمیان میں کیک رکھ کر سب سے پہلے خالد مسعود خان نے کہا کہ کیک کاٹنے سے قبل ان کی مکمل صحت یابی کے لیے دُعا مانگی جائے۔ یوں ملتان کے دوستوں نے تارڑ صاحب کو ان کی کتابوں کے درمیان غائبانہ طور پر محسوس کیا۔ یوں ہم نے ان کا یومِ پیدائش منایا۔
مستنصر حسین تارڑ کی 78ویں سالگرہ سے تقریباً ایک ماہ قبل ان کی دو کتب لاہور آوارگی اور پیار کا پہلا پنجاب شائع ہوئیں۔ لاہور آوارگی میں انہوں نے گمشدہ لاہور کو جس طرح تلاش کیا وہ انہی کا ہی خاصا ہے۔ مستنصر حسین تارڑ کی تحریر کی پہچان ان کے سفرنامے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں وہ اب پہاڑوں اور چوٹیوں کا رخ نہیں کرتے البتہ ان کے چاہنے والے انہیں پاکستان کی ان جگہوں کی سیر کرنے کی دعوت ضرورت دیتے ہیں جہاں پر وہ آسانی سے اپنے قدم رکھ سکتے ہیں۔ یہ جگہیں ایسی ہیں کہ ان کے میزبان تارڑ صاحب کو تھکنے نہیں دیتے۔ اب یار لوگ انہیں کانفرنس اور سیمینار کے نام پر گھر سے باہر لے آتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ اسی بہانے اپنے قلم کو رواں رکھتے ہیں۔ اسی لیے گزشتہ کئی برسوں سے شمالی علاقوں میں نہ جانے کے باوجود وہ ہر سال دو کتب لکھ کر اپنے مداحوں کو خوش کر دیتے ہیں کہ سدا کے آوارہ گرد کا قلم تو اب اتنے عروج پر ہے کہ اب جناب تارڑ صاحب جب کوئی نئی تحریر لکھ کر اسے فیس بک پر لگاتے ہیں تو مستنصر حسین تارڑ وہ واحد ادیب ہیں جن کی ہر تحریر کو سینکڑوں لوگ اپنی وال پر شیئر کرتے ہیں جبکہ پسند کرنے اور اس پر تبصرہ کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔
مستنصر حسین تارڑ ملتان ناصر محمود شیخ کی دعوت پر 1993ءمیں آئے تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مَیں نے ”کتاب میلہ“ لگایا۔ مستنصر حسین تارڑ ان دنوں صبح کی نشریات کے میزبان تھے۔ حسن آرکیڈ ملتان کینٹ میں سینکڑوں لوگ موجود تھے۔ ان کے ہاتھوں میں ان کی کتابیں تھیں۔ ان سے آٹوگراف لینے والے لائن میں یوں کھڑے تھے جیسے یکم مارچ کو لاہور والے پی۔ایس۔ایل کے فائنل میچ کی ٹکٹیں خریدنے کے لیے لائنوں میں لوگ کھڑے تھے۔ یہ وہ دور تھا جب ان کی بیسٹ سیلرز کتاب پیار کا پہلا شہر اور نکلے تری تلاش میں تھیں۔ مَیں نے ان سے کہا پیار کا پہلا شہر پڑھ کر مزا نہیں آیا۔ کہنے لگے لکھتے ہوئے مجھے بھی مزا نہیں آیا لیکن کیا کروں میرے کچن کا آدھا خرچہ تو اسی کتاب کی رائلٹی سے پورا ہوتا ہے۔ پھر کہنے لگے وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس ہو چلا ہے کہ دونوں کتب اس سے بہتر انداز میں لکھی جا سکتی تھیں۔ کبھی کبھی ان کتابوں کو پہلا پیار جان کر اگنور کر دیتا ہوں۔ لیکن اس کے بعد جو بھی لکھا بڑی محنت سے لکھا۔
اس میں کوئی شک نہیں تارڑ صاحب نے بہا¶، راکھ، خس و خاشاک زمانے میں جو تراکیب استعمال کیں وہ پیار کا پہلا شہر، جپسی اور دیس ہوئے پردیس سے بالکل مختلف تھیں۔ سفرناموں میں بھی انہوں نے بالکل نیا اسلوب متعارف کرایا۔ ”قربت مرگ میں محبت“ میں ان کی زندگی کے وہ رنگ ملتے ہیں جنہیں ہر شخص پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے لیکن تارڑ صاحب نے وہ سب کچھ بیان کر دیا اور بڑی جرا¿ت سے ”اے غزالِ شب“ میں وہ ان چالوں کو موضوع بنانے میں کامیاب ہوئے جو خاموشی سے ہمارے معاشرے میں سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی رویوں کا حصہ بن جاتی ہیں جس کے بعد عوام کے پاس صرف پچھتاوا رہ جاتا ہے۔
مستنصر حسین تارڑ کی تازہ کتب آج کل میرے سرہانے موجود ہیں۔ مَیں ملتان بیٹھ کر لاہور کی آوارگی کر رہا ہوں۔ لاہور آوارگی کے صفحہ 262 پر جب ملتان کا تذکرہ پڑھا تو معلوم ہوا کہ اس صفحہ پر مستنصر صاحب نے موسیقار خیام کے متعلق لکھ کر ان کو خوبصورت انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ تارڑ صاحب لکھتے ہیں:
”اگر موسیقی میں کوئی شخص ولی ہو سکتا ہے تو نوشاد، برمن، اتل بسواس، خورشید انور، ماسٹر عنایت حسین، ماسٹر عبداﷲ کے علاوہ خیام ہو سکتا ہے۔ خیام نے اپنی دُھنوں کو کبھی غیر ملکی سُروں سے آلودہ نہ کیا۔ اس دل کے ویرانے کو ہمیشہ کے لیے گیتوں سے آباد کر دینے والی دُھنیں خیام نے تخلیق کیں کسی اور موسیقار کے بخت میں یہ نہ ہوا۔
تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو
تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو
مَیں دیکھوں تو سہی دنیا تمہیں کیسے ستاتی ہے
کوئی دن کے لیے اپنی نگہبانی مجھے دے دو
لاہور آوارگی پڑھتے پڑھتے مَیں کدھر پہنچ گیا۔ یہ کتاب نہیں بلکہ خوبصورت مناظر سے سجی ایک ایسی لائبریری ہے جس کو صرف لاہور کے ہر گھر میں نہیں بلکہ پاکستان کے ہر اس گھر میں ہونا چاہیے کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ لاہور میں قدم رکھتے ہیں۔ پھر وہ قدم زمین پر نہیں رہتے بلکہ وہ قدم آسمان پر پہنچ جاتے ہیں۔
تارڑ صاحب بات آپ کی سالگرہ سے شروع ہوئی اور اختتام لاہور کی یادوں پر ہو رہا ہے کہ اب لاہور کی پہچان آپ بھی ہیں کہ لاہور والوں کو آپ کا ممنون ہونا چاہیے کہ وہ اس لاہور میں سانس لیتے ہیں جہاں مستنصر حسین تارڑ بھی سانس لیتے ہیں۔ باتیں کرتے ہیں، آوارگی کرتے ہیں اور اپنے قلم کا جادو دکھاتے ہیں۔
کس کو سنائیں حالِ دلِ زار اے ادا
آوارگی میں ہم نے زمانے کی سیر کی
کالم کا اختتام اس دُعا کے ساتھ کہ اﷲ تعالیٰ مستنصر حسین تارڑ کو تادیر آباد رکھے کہ ان کے آباد رہنے سے بہت دل ان کی تحریریں پڑھ کر شاد ہوتے ہیں لاہور والوں سے معذرت کے ساتھ یعنی جس نے تارڑ کو نہیں پڑھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا۔

(بشکریہ:روزنامہ ایکسپریس)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker