آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم: مبینہ اغوا، مصدقہ اغوا

چند روز پہلے اطلاع ملی کہ مطیع اللہ جان غائب ہو گئے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد سی سی ٹی وی فوٹیج کی بدولت سب نے دیکھا کہ وہ غائب نہیں ہوئے، پولیس کی وردیاں پہنے کچھ افراد نے جن کے چہرے صاف دیکھے اور شناخت کیے جا سکتے ہیں، انھیں ایک گاڑی میں ڈالا اور کہیں روانہ ہو گئے۔ اس کارروائی میں ایک سفید ڈبل کیبن تھی جس پر پولیس کی مخصوص بتیاں لگی ہوئی تھیں اور ساتھ میں ایک ایمبولنس بھی تھی۔
یہ واقعہ دیکھنے میں اغوا نہیں لگ رہا تھا۔ اس قسم کی کارروائی اگر کسی فلم میں نظر آئے تو خواہ وہ خاموش فلم ہو، دیکھنے والا یہ ہی سمجھے گا کہ کسی ملزم کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ وہاں وہ چلا چلا کے اپنے ادارے اور علاقے کا نام لے رہے ہوتے ہیں یہاں فقط وہ فون مانگا گیا جو جانے مطیع اللہ جان نے کیوں پھینکا تھا۔
لیکن یہ گرفتاری نہ تھی۔ جی یہ اغوا تھا بلکہ ’مبینہ اغوا۔‘ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ ’مبینہ اغوا‘، ’اغوا‘ اور ’گرفتاری‘ آپس میں کیونکر ایسے گتھے کہ توام بچوں کی طرح انھیں الگ کرنا ناممکن ہو گیا؟
بات یہ ہے کہ گرفتاری، فرسٹ انفارمیشن رپورٹ کے اندراج اور وارنٹ حاصل کرنے کے بعد پولیس کے کسی ملزم کو باضابطہ طور پر لے کر جانے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔ خواہ اس کے بعد اس پر لگایا گیا الزام ثابت ہو کہ نہ ہو۔ پولیس کے ادارے کا بس یہ ہی کام ہوتا ہے۔ ملزم سے ان کی ذاتی رنجش نہیں ہوتی۔
اب آجاتے ہیں اغوا کی طرف۔ اغوا ایک مجرمانہ فعل ہے اور عام طور پر یہ کام کسی سے تاوان وصول کرنے، انسانی تجارت یا کسی کو دھمکانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ غیر آئینی اور غیر قانونی حرکت ہے، اس لیے اسے لغوی، قانونی، اور اخلاقی، غرض ہر لحاظ سے جرم ہی سمجھا جاتا ہے۔
اغوا عام طور پر غنڈے کیا کرتے تھے لیکن پھر یہ کام کچھ سرکاری اداروں نے اسی طرح کرنا شروع کردیا جیسے قتل مجرم کرتے ہیں لیکن ’مبینہ پولیس مقابلہ‘ پولیس والے کرتے ہیں، اس قسم کے اغوا کو ’اٹھا لیا جانا‘ یا ’لے جانا‘ بھی کہتے ہیں۔
جس طرح ’مبینہ پولیس مقابلے‘ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور سب جانتے ہیں کہ یہ ماورائے عدالت قتل ہے مگر سب اسے جرم و سزا کا ایک ضروری باب سمجھ کر خاموش ہیں، اسی طرح یہ اغوا بھی کوئی راز نہیں۔
یہ ’مبینہ پولیس مقابلے‘ اور ’مبینہ اغوا‘ آخر ہوتے کیوں ہیں؟ صاف اور سیدھا جواب یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی جانتے ہیں کہ موجودہ نظام انصاف میں موجود سقم انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں، اس لیے ’سستا اور فوری انصاف‘ وہ ’مبینہ طور پر‘ خود ہی فراہم کر دیتے ہیں۔ اس فراہمی کی راہ کیسے بنائی جاتی ہے یہ جاننا آپ کے لیے چنداں ضروری نہیں۔
ان دو اصطلاحات کے علاوہ مبینہ اغوا ایک اور معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ پڑھنے والے بھی سٹپٹا رہے ہوں گے کہ ایک ہی لفظ کے دو معانی کیسے؟ تو بھئی بڑی قوموں کی زبانیں بھی بڑی ہوتی ہیں، ایک ایک لفظ کے دس دس مطالب بھی ہو سکتے ہیں۔
خیر اس معاملے میں ’مبینہ اغوا‘ سے مراد وہ اغوا ہے جس میں مغوی کی رضا شامل ہوتی ہے۔ ’خود کو خود ہی اغوا کروانے‘ کے پیچھے ’مبینہ طور پر‘ مغربی ممالک کی شہریت حاصل کرنا، شُہرت حاصل کرنا اور دیگر اسی قسم کے مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔
اچھا اب ’مبینہ اغوا‘ کی یہ اصطلاح اور نئی تعریف سامنے آنے سے ہوا یہ کہ پرانی تعریف کچھ بدلنی پڑی۔ اب ہمارے سامنے دو طرح کے اغوا آگئے، ’مبینہ اغوا‘: جو مغوی کی رضا سے ہوتا ہے، اور ’مصدقہ اغوا‘: جو مغوی کی رضا کے بغیر ہوتا ہے۔
جان کی امان پا کر کہنا چاہوں گی کہ ہم نے مانا یہ ’مبینہ اغوا‘ تھا کیونکہ اس میں مغوی ثابت سلامت 12 گھنٹے بعد ہی ہمارے سامنے تھا تو وہ ’مصدقہ اغوا‘ جس میں مغوی کا مار مار کے بھرتا بنا دیا جاتا ہے، اور کبھی سالوں بعد اور کبھی سالوں بعد بھی برآمد نہیں ہوتے ،وہ اغوا بھی تو اغوا ہے۔
اس اغوا کے شکار آخر ایسا کون سا جرم کر رہے ہیں کہ نہ ان کی ایف آئی آر کاٹی جا سکتی ہے اور نہ ہی ان کے وارنٹ نکلوائے جا سکتے ہیں؟ جرم کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو، سامنے آنا چاہییے۔ ملزم کیسا ہی برا کیوں نہ ہو، عدالت میں پیش ہونا چاہیے۔ ماورائے عدالت سزائیں، سزائیں نہیں رہ جاتیں، حماقتیں بن جاتی ہیں جنھیں آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔
آپ سے زیادہ کون جانتا ہو گا کہ اغوا جرم ہے اور کسی بھی انسان کو بغیر ایف آئی آر، بغیر وارنٹ گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا جاتا ہے، تو جناب، اس ’مبینہ اغوا‘ کو بے شک بھول جائیے مگر ان ’مصدقہ مغویوں‘ کو تو بازیاب کروا لیجیے جن کے جرائم ’مبینہ طور‘ پر بھی ہمیں معلوم نہیں۔
اللہ آپ کا شملہ اونچا رکھے، ہم کیڑے مکوڑے تو درخواست ہی کر سکتے ہیں، سو کرتے رہیں گے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker