سندھّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم : نئے پاکستان کی پرانی ہندو لڑکیاں

اگر محمد بن قاسم نہ ہوتے تو سندھ کی دھرتی کی بیٹیوں کا کیا حال ہوتا۔ یہاں سے ایک بیٹی روئی اور سمندر پار محمد بن قاسم گھوڑے کو ایڑھ لگاتے اپنی مسلمان بہن کو بچانے سندھ آ نکلے۔ راجا داہر کو باور کرایا کہ مسلمان اپنی عزتوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ اب خدا کی کرنی دیکھیے کہ سندھ میں کئی محمد بن قاسم جنم لے چکے ہیں اور کم عمر ہندو لڑکیوں کو دھڑا دھڑ مسلمان کر رہے ہیں۔ اب ایسے میں بھلا محمد بن قاسم کا کیا قصور؟ سندھ دھرتی پر میاں مٹھو جیسے روحانی پیشوا کے ہوتے ہوئے کم از کم اسلام کو کوئی خطرہ نہیں بلکہ اسلام محفوظ ترین ہاتھوں میں ہے۔ان کی درگاہ نوجوان اور کم عمر لڑکے، لڑکیوں سے ہمہ وقت بھری رہتی ہے اور جوق در جوق یہ کم سن مشرف بہ ایمان ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی اثرورسوخ کبھی کم نہیں ہوا۔ پہلے پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے لیکن ان کی قابلیت کے پیش نظر پی پی نے انتخابی ٹکٹ نہیں دیا اور پھر۔۔۔ تبدیلی ان کا کچھ نا کر سکی اور وہ تبدیلی کا کچھ نا کر سکے تو۔۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی طرف کھچے چلے آئے۔ سندھ میں ہندوؤں کی کافی تعداد موجود ہے جو پاکستان کے پرچم کے سفید رنگ کی بھر پور نمائندگی کرتے ہیں۔ مگر آئے روز ہندو کم سن لڑکیوں کے اغوا اور پھر اخباری اطلاعات کے مطابق صرف مخصوص درگاہوں پر ہی ان کی تبدیلی مذہب اور پھر اُن کے نکاح ایک معمول سا بن گئے ہیں۔
یہ کیا بات ہے کہ سندھ میں صرف کم سن اور خوبصورت لڑکیاں ہی اپنا مذہب چھوڑنا چاہتی ہیں۔۔ ایسا کیوں ہے؟ لڑکے اور خاص کر پختہ عمر کے افراد تبدیلی مذہب کی طرف نہیں آ رہے؟ یہ سوال ہندو کونسل کے سربراہ ڈاکٹر رمیش کمار مستقل اٹھا رہے ہیں ۔ حال ہی میں گھوٹکی کی دو بہنوں رینا اور روینا کے مبینہ اغوا اور جبری تبدیلی مذہب نے سندھ کی ہندو کمیونٹی میں غم اور غصے کی فضا پیدا کر دی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اخباری اطلاعات کے مطابق صرف عمر کوٹ میں ہی ہر ماہ لگ بھگ 25 جبری شادیاں رپورٹ ہوتی ہیں جبکہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں جبری تبدیلی مذہب کے واقعات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ اس حالیہ کیس میں گھوٹکی کی دونوں بہنوں کے باپ کی روتی پیٹتی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ بے بسی اور بے کسی نے سوشل میڈیا پر کئی ضمیروں کو جنجھوڑا ہے تاہم نہیں جنھنجوڑا تو اُن کو جومحض مذہب کی جبری تبدیلی کو اسلام کی بہت بڑی خدمت سمجھتے ہیں۔ یہ سوچنا ہو گا کہ آخر قیامِ پاکستان کے وقت 23 فی صد اقلیتیں سکڑ کر اب تقریباً 5 فی صد کیوں رہ گئی ہیں؟ سوچنا ہو گا کہ قومی پرچم کے سفید رنگ کا تناسب کم کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے؟ سوچنا ہوگا کہ ہم اقلیتوں کو اہم مقام اور تحفظ کیوں نہیں دے پا رہے؟ سندھ میں قانون کے مطابق عمر اٹھارہ سال کم سنی کہلاتی ہے جس کے باعث شادی بھی غیر قانونی تصور ہوتی ہے لہٰذا یہ دونوں بہنیں پنجاب لائی گئیں جہاں ان کے نکاح ہوئے۔ یاد رہے کہ سندھ میں دو سال قبل مذہب کی جبری تبدیلی کی روک تھام کا بل بھی منظور ہوا تاہم بے پناہ مخالفت کے باعث وہ بل گورنر صاحب کی اوطاق میں ہی پڑا رہ گیا۔ پیپلز پارٹی دوبارہ بل لانے کی جرات کرے گی یا نہیں اور کیا قومی اسمبلی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت کرے گی ؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ ہم ایسے منافقانہ رویوں کا شکار ہیں کہ جس کی مثال نہیں ملتی۔ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہم جیسی ہو جائے مگر ہم دنیا جیسے نہ ہوں۔
‘لا اکراہ فی الدین’ یعنی دین میں کوئی جبر نہیں، اسلام کا بنیادی اصول ٹھہرا جو اس بات کا غماز ہے کہ زبردستی تبدیلی مذہب سے کم از کم اسلام کی خدمت تو قطعی نہیں ہو رہی۔ حال ہی میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے بعد جو اقدامات وہاں کی حکومت اور وزیراعظم نے کیے، صبح و شام رطب اللسان اپنے ملک میں ایسی مثالیں بنائے جانے پر معذرت خواہ نظر آتے ہیں۔
حال ہی میں نیوزی لینڈ میں مسجد پر حملے کے بعد ملک کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن کے اقدامات کی دنیا بھر میں پذیرائی ہوئی ۔ حجاب اوڑھنے، اذان نشر کرانے جیسے اقدامات کی تعریف کرنے والوں سے محض ایک سوال کر لیں کہ کیا ہم اپنے ایوانوں میں عیسائی، ہندو یا احمدیوں کے ساتھ صرف یک جہتی ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔آوازیں بند ہو جائیں گی اور زبانیں گھگھیانا شروع کر دیں گی۔ اعمال کا دارومدار نیتوں پر کا پرچار کرنے والے آسان مذہب کو ہم اپنی کم فہمی سے مشکل بنا رہے ہیں، یہ جانتے بوجھتے کہ دلوں کو فتح کرنے والا مذہب کس طرح جبر کو جائز قرار دے سکتا ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کی روک تھام اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے تا کہ پاکستان واقعی ایک نیا نکور پاکستان بن جائے۔ ایسا پاکستان جہاں سب کی جان، مال اور عزتوں کی پاسدار ی ہو۔ ہندو ہوں یا مسلم، کسی بھی مذہب اور فرقے کے ہوں اپنے عقائد کے مطابق جی سکیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker