ّعاصمہ شیرازیکالملکھاری

عاصمہ شیرازی کا کالم: خوابوں کی لُوٹ سیل

عکس ختم بھی ہو جائے تو اثر برقرار رہتا ہے، بلبلے ٹوٹ جاتے ہیں لیکن جاتے جاتے حلقہ ضرور بنا لیتے ہیں۔ ثبات کسی شے کو نہیں لیکن ثبوت کی جنگ زندگی کے لیے لازم قرار پاتی ہے۔ وقت اور حالات کس کو کس جگہ لے آئیں اس کا اندازہ نہ کبھی کسی کو ہوا نہ ہو پائے گا۔
وطنِ عزیز میں ہر گزرے دن کے ساتھ تقسیم بڑھ رہی ہے۔ رنگ، نسل اور مذہب کی تقسیم، قومیت کی بنیاد پر تقسیم، نظریے اور بیانیے کی تقسیم۔ یعنی معاشرہ جتنا آج منقسم ہے اس سے قبل کبھی نہ تھا۔ ملک اور قومیں ایک نظریے سے جُڑی رہتی ہیں، نظریہ اتحاد اور مقصد کو جنم دیتا ہے۔
گذشتہ دو آمریتوں نے نظریاتی تفریق پیدا کرنے، فرقہ واریت کو جنم دینے اور طبقاتی تقسیم میں جو اہم کردار ادا کیا ہے وہ کسی سیاسی جماعت نے نہیں کیا۔
بیرونی دباؤ کی مظہر خارجہ پالیسی اور ’سکیورٹی اسٹیٹ‘ بننے نے ہماری ترجیحات بدل ڈالیں، نہ ہم مکمل جمہوریت بن پائے نہ ہی مکمل آمریت۔ نتیجہ دھاک کے تین پات، ایک بے مقصد قوم اور ایک بے معنی سوچ کے حامل افراد کا ہجوم بڑھتا چلا گیا
موجودہ حالات کا درست جائزہ لینے کی کوشش بھی معتوب ٹھہرائی جا سکتی ہے تاہم وقت کا تقاضا یہی ہے کہ جو لکھا جائے سچ لکھا جائے۔ ایک طرف قدغنوں کا شکار میڈیا ہے تو دوسری جانب مصلحتوں کی شکار سیاسی جماعتیں، مختصر ہوتی سول سوسائٹی اور دبتی ہوئی جمہوری آوازیں۔
عدلیہ ماضی کے داغ دھونے کی کوشش کرتی ہے تو ایک بار پھر لاہور ہائی کورٹ کا غداری کیس میں مشرف کے حق میں فیصلہ اُسے متنازعہ بنا دیتا ہے۔ پارلیمان اپنا استحقاق عوام کی نظروں میں تقریباً کھو چکی ہے اور رہی سہی کسر آرمی ایکٹ میں ترمیم پر پارلیمانی جماعتوں کے کردار نے پوری کر دی ہے۔
بس ایک فوج کا مضبوط ادارہ ہی بچا ہے مگر ’بُوٹ تنازع‘ نے اُسے بھی ایسے ہوا دی ہے کہ نقصان کا اندازہ فی الحال لگایا نہیں جا سکتا۔
اداروں کی رٹ چیلنج ہو چکی، انتظامیہ پہلے ہی طرز حکمرانی پر ہدف تنقید ہے۔ مقننہ غیر اہم، میڈیا مشکوک جبکہ عدلیہ کو غیر مستند بنایا جا رہا ہے۔۔ یہ جانے بنا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا اور کیا اس بد اعتمادی سے مقتدر ادارہ بھی محفوظ رہ پائے گا؟
حکومت کی کارکردگی عوام میں بے چینی بڑھا رہی ہے اور اس کا ذمہ دار صرف حکومت کو نہیں ٹھہرایا جا رہا۔ کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ عوامی غم اور غصے کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں نہ صرف منظر نامے سے غائب ہیں بلکہ حقیقی حزب اختلاف کا کردار بھی ادا نہیں کر پا رہیں۔ کیا کسی نے سوچا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
منقسم معاشرے میں بھانت بھانت کی بولیاں شور تو پیدا کریں گی لیکن کانوں میں انگلیاں ڈال کر شور کو نظر اندا کیسے کیا جا سکتا ہے؟
گذشتہ دو سالوں سے سیاست کا انداز قطعی طور پر بدلا گیا ہے۔ مقتدر حلقوں سے ناراض قیادت جس نئے بیانیے کو متعارف کرا چکی ہے روز بروز اُسے تقویت مل رہی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں بی این پی مینگل ہو پی کے میپ، نیشنل پارٹی یا جے یو آئی ایف۔
خیبر پختونخواہ میں پی ٹی ایم کا ناراض نوجوان ہو یا اے این پی۔۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کا ورکر ہو یا پنجاب میں ن لیگ کا کارکن۔۔۔ ملک میں اس وقت ستر فی صد نوجوان ووٹرز ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کیا کسی نے سوچا ہے کہ نوجوانوں کی اکثریت اگر اس بیانیے کے ساتھ ہو گئی تو پھر کیا ہو گا؟
کیا موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی نہیں کہ نا صرف قومی مکالمے کا آغاز کیا جائے بلکہ نوجوانوں کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے۔ یوں بھی ملک بھر کے نوجوان طلبا یونینز کے حق میں متحرک ہو چکے ہیں۔ وقت ہے کہ اسے موقعے میں بدلا جائے تاکہ انتشار سے بچنے کی پیش بندی اور سیاسی سرگرمیوں کے پنپنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس کے لیے آزادانہ سیاسی ماحول کا دستیاب ہونا بھی ایک سوال ہے۔
موجودہ صورتحال میں اپوزیشن کیا۔۔۔ حکومتی اتحادی بھی آنکھیں دکھانے لگیں ہیں۔
کیا قلیل المدت حل محض حکمرانوں کی تبدیلی کی صورت نکالا جا سکتا ہے؟ کیا محض ان ہاؤس تبدیلی عوام کو مطمئن کر پائے گی؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاوا پک رہا ہے۔۔ خدا نہ کرے یہ لاوا پھٹے۔ اس سے پہلے کہ ستر فی صد نوجوان مایوسی کے سمندر میں ڈوب جائیں اُنہیں اُمید کی ضرورت ہے، ان کے خوابوں کو تعبیر کی ضرورت ہے۔۔ یا تو بڑے بڑے خواب نہ دکھائے جاتے یا اب اُنہیں مایوسی سے بچا یا جائے۔
امیدوں کی لوٹ سیل جاری ہے۔۔۔ مگر اب بھی وقت ہے۔۔۔مناسب یہی ہو گا کہ عوام سے خوابوں کی قیمت وصول نہ کی جائے۔۔۔ کیونکہ خواہشیں نا تو سیل پر دستیاب ہیں نہ ان کی حقیقت۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker