قیصر عباس صابرکالملکھاری

جمہوری دھند میں حد نگاہ صفر : صدائے عدل / قیصر عباس صابر

دھند نے صرف ہمارے ماحول کو ہی نہیں ہماری خود داری اور غیرت کو بھی اپنے مسلسل حصار میں لے رکھا ہے۔حد نظر صفر ہونے کے باوجود سفر جاری ہے مگر منزل کوئی نہیں۔ ہم گونگے تو تھے ہی اب اندھے ہونے کے قریب ہیں ، ہماری زبانوں کو اپنی اپنی معاشی مجبوریوں اور بھوک نے گنگ کردیا اور اب گزشتہ دو ماہ سے دھند ہی دھند ہے جس میں جو طاقتور ہے وہ من مرضی کرتے چلے جارہا ہے اور ہرمن مرضی کو یک زبان تسلیم کیا جارہا ہے۔ فرعون کے زمانے میں بھی کچھ نہ کچھ مزاحمت تھی، اظہار رائے کی دراڑ یں پڑتی تھیں ، کہیں کوئی موسیٰ ؑ بھی تھے مگر اس دھند نے شائد مزاحمت اور ردعمل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، ہر موسیٰ کی زبان آگ کے کوئلوں سے جل چکی ہے۔
کوئی بچہ بھی تو نہیں جو اپنے بھولپن کا فائدہ اٹھائے اور فرعون کی داڑھی نوچ لے پھر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے ایک طشت میں رکھے لعل و جواہر کو نظر انداز کرکے دہکتے انگارے اپنی زبان پر رکھ لے مگر کچھ مزاحمت تو کرے۔غیرت کے ساتھ ساتھ قوتِ گویائی کون لے گیا؟
وہ جو چند لمحوں کے نظریاتی تھے وہ ان چند لمحوں میں ہی کتنے دلوں کو فتح کرگئے ۔ ہم سمجھے کہ عمر بھر مفادات کی موٹروے پر دوڑنے والے واقعی نظریاتی ہوچکے مگر یہ بھی دھند کا کمال تھا جس میں حدنگاہ صفر تھی اس لئے ہم نے انہی پر اپنی توقعات وابستہ کرلیں ۔ لاﺅڈ سپیکرز پر انقلاب کا نعرہ لگانے والے ، نظریے کا پرچار کرنے والے، سرخ ہے سرخ ہے کے راگ الاپنے والے، ”جان بھی حاضر ہے“ کا چکمہ دینے والے، ”میں ہر حال میں آپ کے ساتھ ہوں“ کا وعدہ کرنے والے فصلی بٹیرے تھے ، موسمی مینڈک تھے یا فصلِ بہار کی کوئلیں تھیں، سوکھے ہوئے تالاب میں بیٹھے ہوئے ہنس نہ تھے جو اس قدر نظریاتی ہوچکے ہوتے ہیں جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مرجاتے ہیں۔
جب ہماری امیدیں ان سے وابستہ ہوگئیں تو پھر کچھ لمحات کےلئے دھند چھٹی اور نظر آیا کہ یہ سب دھوکا تھا، فریبِ نظر تھا یا پھر ہماری سماعتوں کے دریچوں پر جدید دور کے ” وائس چینجر “ نصب تھے جو گدھے کی آواز کو بھی راگ میں تبدیل کررہے تھے۔
اس دھند میں ہماری سیاسی اکائیاں وحدت کی قائل نظر آئیں ، پارلیمنٹ میں تاریخی دلچسپی نظر آئی اور برق رفتاری سے بغیر بحث کے بل پاس کئے گئے ۔ ملکی سا لمیت بارے بھی اس قدر یکسوئی نہیں دیکھی گئی جو اس ”واردات جمہور“ میں پائی گئی۔ اس پھیل چکی دھند میں کسی کی کوئی دشمنی نہ رہی، کوئی انا نہ رہی ، کہیں اختلافات نہ رہے ”تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے“۔
اس دھند نے نہ جانے کتنے حادثات اور برپا کرنے ہیں پہلے ہی آئینی ایمرجنسی میں بیڈز کم پڑچکے ہیں ، عام امراض میں مبتلا غریب غربا کو چھٹی دے کر گھروں میں نسخے استعمال کرنے کی ہدایات کردی گئی ہیں ۔ سگنل فری موٹروے، شاہرائے دستور، جمہوری رنگ روڈ ، عسکری کالونی کے سب چوراہے دھند کی لپیٹ میں ہونے کی وجہ سے مقتل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ وقفہ سوالات کی بھی مہلت نہیں ۔ ہمارے وطن عزیز کے بظاہر حاکم بھی دھند میں کچھ نظر نہ آنے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں مگر اس شدید دھند میں ان کے شکوہ زدہ چہرے بھی نہیں دیکھے جارہے ہیں۔
دھند تو ہمیشہ سے ہی تھی مگر کچھ نہ کچھ نظر آہی جاتا تھا ، موقع پر نہ سہی بعد میں زبانِ خنجر قاتل کا نام اگل دیتی تھی، نہ اگلتی تھی تو آستیں کا لہو پکار اٹھتا تھا مگر اب خنجر کی زباں اور آستیں کا لہو بھی دھند کی لپیٹ میں ہے۔ دھند کی اندھا دھند لپیٹ میں آنکھوں کو تو بے بس ہونا ہی ہوتا ہے خبر نہیں زبانیں کیوں چپ ہیں۔ کوئی تو ہو جو نعرہ مستانہ بلند کرے اور اس حصار کو توڑ ڈالے جس کی بلند دیواروں نے ہماری انا، غیرت اور سوچ کو بھی خوف اور دہشت کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے، ایک ایک فرد جو سوچ سکتا تھا اب نفسیاتی مریض بن چکا اور جو دیکھ سکتا تھا وہ بھلا حد نگاہ صفر میں کیا دیکھے؟جو بول سکتا تھا اس کی زبان پر انگاروں کے زخموں کی جلن پھر تازہ ہوچکی ہے کہ اگر وہ اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے فرعون کے طشت میں رکھے ہوئے لعل و جواہر کو چھولیتا تو قتل کردیا جاتا، انگاروں کو منہ میں ڈال کر گنگ ہونے والے ہر ”موسیؑ“ نے صرف اپنی جان بچائی ہے۔
دھند کی لپیٹ میں سبھی اداروں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے فوگ لائٹس استعمال کرتے ہوئے فائدے اٹھائے اور آئین ، قانون، روایات اور سیاسی کلچر کو پس پشت ڈالا جہاں مفادات پر زد پڑتی تھی وہاں دھند نے حد نگاہ صفر کا بہانہ بنا کر شور مچانا شروع کردیا ۔ ہم دھند چھٹنے تک انتظار کریں گے کہ رات جتنی بھی طویل ہو صبح ضرور ہوتی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker