ادبلکھاری

گجروں سے منسوب شہر وں اور مال مویشی کا احوال ۔۔عبدالخالق بٹ

ہم ہسپتال کی کینٹین میں داخل ہوئے تو دیکھا ڈاکٹر ظفر اقبال ایک ہاتھ سے اخبار اور دوسرے سے سر پکڑے بیٹھے ہیں اور زبان پر شعر ہے:
چلی جو بات تو انڈوں سے گائے تک پہنچی
اسی کو کہتے ہیں منصوبہ ہائے شیخ چِلی
’ڈاکٹر صاحب! اتنی اداسی کس لیے؟۔۔۔ ہم نے پوچھا
جواباً انہوں نے اخبار تھما دیا، جس کی سرخی تھی۔۔۔’خواتین کو گائے، بھینس، بکریاں دیں گے: وزیراعظم‘
بولے:’معیشت پہلے ہی دڑبے میں بند ہے اور اب سرکار گائے بھینسوں کی باتیں کر رہی ہے۔‘
چونکہ ڈاکٹر صاحب کا ’موڈ آف‘ تھا ایسے میں ہم نے مزاج کی تبدیلی کے لیے پوچھا: ’ڈاکٹر صاحب یہ مال مویشی زیادہ تر ’گجر‘ ہی کیوں پالتے ہیں؟‘
یک دم کِھل اٹھے اور ایک ماہر نیورو سرجن میں سے ماہرِ لسانیات برآمد ہو گیا۔ بولے: ’مؤرخین کہتے ہیں انسان کا سب سے قدیم پیشہ ’گلہ بانی‘ ہے۔ میدانی علاقے ہوں یا پہاڑی آپ کو ’گلہ بان‘ اپنے ریوڑ کے ساتھ ہر جگہ نظر آئیں گے۔ اس پیشے سے وابستہ لوگ ’گجر‘ کہلاتے ہیں۔‘
گُجر کیوں کہلاتے ہیں؟‘ ۔۔۔ ہم نے پوچھا
جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں ’گُجر‘ اصل میں لفظ ’ گوجر‘ کی تخفیفی صورت ہے۔ بعض لوگ ’گوجر‘ کو فارسی لفظ ’گؤچر‘ یعنی گائے چرانے والا بتاتے ہیں۔ یہ بات درست نہ بھی ہو تو بھی دل کو لگتی ہے۔ ویسے پاکستان اور انڈیا کے شمالی علاقوں میں ’گجروں‘ کو ’بکروال‘ بھی کہا جاتا ہے۔‘
گجر پاکستان میں کہاں کہاں آباد ہیں؟
بولے: ’پاکستان! ۔۔۔ بھائی پاک و ہند کے کتنے ہی شہر گُجروں سے منسوب ہیں۔
مثلاً ؟۔۔۔ ہم نے پوچھا
بولے: مثلاً ضلع راولپنڈی کی تحصیل ’گوجرخان‘، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل ’گوجرہ‘، پھر پنجاب ہی کے مشہور اضلاع اور صنعتی شہر’گجرات‘ اور ’گجرانوالہ‘ معروف مقامات ہیں۔ یہ تو پاکستان کی بات تھی، دوسری طرف انڈین ’گجرات‘ سے کون واقف نہیں۔ یہ سب مقامات کم سے کم نام کی حد تک ’گجروں‘ سے نسبت رکھتے ہیں۔
اتنا کہہ کر پانی کا بڑا سا گھونٹ بھرا اور گنگنانے لگے: ’اُچیاں لمیّاں ٹاہلیاں تے، وِچ گُجری دی پینگ وے ماہیا۔‘
ہم نے بات آگے بڑھائی،۔۔۔ ’ڈاکٹر صاحب! گُجروں کا بیان ہو گیا اب کچھ بات ان کے ’مال مویشی‘ پر بھی ہو جائے۔‘
بولے: ’مال مویشی‘ کی ترکیب عربی کے دو لفظوں پر مشتمل ہے۔ اول لفظ ’مال‘ کثیر المعنی ہے اور ان میں سے بیشتر معنوں کا مشترکہ مفہوم ’دھن دولت‘ بنتا ہے۔ یوں اس ’مال‘ میں ’گائے، بھینسیں، بکریاں اور اونٹ‘ بھی داخل ہیں۔ جہاں تک ’مویشی‘ کی بات ہے تو اردو کا ’مویشی‘ اصلاً عربی کے ’مواشی‘ کی بدلی ہوئی صورت ہے۔
ہم نے کہا: ’اس وضاحت کے بعد دو سوال بنتے ہیں۔ ایک یہ کہ جب ’مال‘ اور ’مویشی‘ ہم معنی ہیں تو پھر اس ترکیب میں دو الفاظ کیوں آئے ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ عربی کا ’مواشی‘ اردو میں’مویشی‘ کیسے ہو گیا؟
سوال سن کر مسکرائے، گلے میں جھولتا stethoscope اتار کر میز پر رکھا اور گلاس میں موجود باقی پانی غٹاغٹ پینے کے بعد بولے: ’یہ اعتراض صرف ’مال مویشی‘ تک محدود نہیں اس کی زد میں ’بلند و بالا‘، ’لمبا تڑنگا‘، ’گورا چٹا‘ اور’کالا سیاہ‘ وغیرہ بہت سے الفاظ آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ترکیب میں ہم معنی الفاظ آئے ہیں۔ بات یہ کہ یہ ہم معنی دوہرے الفاظ ’تاکید معنوی‘ کی تعریف میں داخل ہیں۔ دوسرا ہم معنی لفظ پہلے لفظ کو پختہ کرنے اور سننے والے کا شک دور کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔‘
اب آ جاؤ دوسرے سوال پر کہ ’مواشی‘ اردو میں ’مویشی‘ کیسے ہوگیا، تو عرض ہے کہ اس باب میں ’مواشی‘ تنہا نہیں ہے۔ اس بات کو معروف محقق اور عالم ’ڈاکٹر ف۔عبدالرحیم‘ کے الفاظ میں سمجھو:
’عربی کے بعض الفاظ میں ’الف‘ کو ’ے‘ پڑھا جاتا ہے۔ اس کو نحو کی اصطلاح میں ’امالہ‘ کہتے ہیں، جیسے ’ناس‘ کو ’نیس‘، ’جاء‘ کو ’جے‘۔ عربی کے بعض الفاظ اردو میں امالہ کے ساتھ داخل ہوئے ہیں، جیسے: ’توراۃ‘ سے ’توریت‘، ’لٰکن‘ سے ’لیکن‘، ’مواشی‘ سے ’مویشی‘، ’جہاز‘ بھی اسی امالہ کا شکار بن کر ’جہیز‘ بنا ہے۔‘
’کچھ روشنی ’گائے بھینس‘ پر بھی ڈال دیں‘۔ ہم نے اگلا سوال جڑ دیا
اپنے موبائل میں عینک کے اوپر سے جھانکتے ہوئے بولے: سنسکرت میں گائے کے کئی ایک نام ہیں جن میں ’گاؤ‘ गाव) ( بھی شامل ہے۔ ہندی اور اردو میں یہ لفظ ’گاؤ، گائے، گؤ اور گو‘ کی صورت میں رائج ہے۔ اسی سے ترکیب ’گوالا‘ یعنی ’گائے والا‘ اور گوپال یعنی ’گائے پالنے والا‘ ہے۔ اس کے علاوہ ہندی اور اردو میں دسیوں محاورے اسی گائے پر پل رہے ہیں۔ سنسکرت کی نسبت سے یہ فارسی میں بھی ’گاؤ‘ ہے۔ چونکہ حرف ’گاف‘ اور’کاف‘ ایک دوسرے سے بدل جاتے ہیں نتیجتاً گاؤ انگریزی میں ’کاؤ‘ (Cow) ہے۔ یہ لفظ لہجے کے فرق کے ساتھ یورپ کی دیگر زبانوں میں بھی موجود ہے، مثلاً جرمن زبان میں کُہ (Kuh)، ڈینش میں ’کو(ko) ‘، ڈچ میں ’کو(koe) اور ناروجیئن میں ’کیو‘ (ku) ہے۔
یہاں تک پہنچ کر ڈاکٹر صاحب نے داد طلب نگاہوں سے ہمیں دیکھا، ہماری جانب سے مثبت جواب ملا تو آگے بڑھے:
تمہیں ایک دلچسپ بات بتاؤں، سنسکرت میں گائے کے دیگر ناموں میں سے ایک ’مھا‘ महा بھی ہے، اور عربی زبان میں ’مھا‘ نیل گائے کو کہتے ہیں۔ ’مھا‘ کا لفظ ہند سے عرب گیا یا عرب سے ہند پہنچا، اپنی جگہ ان دونوں باتوں کا امکان موجود ہے۔‘
اور بھینس؟ ۔۔۔ ہم نے توجہ دلائی۔
بولے: پاک و ہند میں جو بھینس پائی جاتی ہے اسے ’water buffalo‘ کہتے ہیں۔ یہ ایک بار پانی میں اتر جائے تو اپنی مرضی ہی سے باہر آتی ہے۔ بھینس کی اسی ادا کے طفیل محاورہ ’گئی بھینس پانی‘، میں وجود میں آیا ہے۔ محاورہ نسبتاً نیا ہے، یہ تب برتا جاتا ہے جب کوئی کام ایسے شخص کو سونپ دیا جائے جو بے پروا اور غیر ذمہ دار ہو۔
لفظ ’بھینس‘ بھی سنسکرت سے متعلق ہے۔ سنسکرت میں بھینس کو ’مھیس‘ महिषी اور بھینسے کو ’مھیسا‘ महिष کہتے ہیں۔ ’مھیس‘ بنگالی میں ’مھیش‘ মহিষ ہے۔ جبکہ ہندی اور اردو میں ’میم‘ حرف ’ب‘ سے بدلنے اور ’نون غناں‘ کی آواز شامل ہونے پر مھیس اور مھیسا بالترتیب بھینس اور بھینسا بن گئے ہیں۔
بھینس فارسی میں’گاؤ‘ کے سابقے کے ساتھ ’گاؤ میش‘ کہلاتی ہے۔ اسے ’گاؤ میش‘ کہنے کی دو وجوہات ہیں، پہلی یہ کہ ’میش‘ فارسی میں ’بھیڑ‘ کو کہتے ہیں دوسری یہ کہ بھینس اپنے بہت سے خواص کی وجہ سے ’گائے‘ سے قریب ہے اس لیے الجھن سے بچنے کے لیے اس کے ساتھ ’گاؤ‘ کا سابقہ لگا کر اسے ’گاؤ میش‘ بنا دیا گیا۔
فارسی کا ’گاؤ میش‘ صوتی تبادل کے بعد عربی زبان میں ’جاموس‘ ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ فارسی زبان کا ’میش‘ فرانسیسی زبان میں ’ویش‘ (vache) کی صورت میں داخل ہوا، مگر وہاں یہ بھینس کے بجائے گائے کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔
چوںکہ ’لنچ ٹائم‘ ختم ہو چلا تھا اس لیے ہم نے ڈاکٹر صاحب سے اجازت طلب کی اور معلومات کی پوٹلی بغل میں دابے ڈیوٹی پر لوٹ آئے۔
( بشکریہ : اردو نیوز )

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker