تجزیےحبیب خواجہلکھاری

ممکنہ برطانوی ردعمل اور متوقع سیاسی ، سفارتی و صحافتی سرگوشیاں۔۔حبیب خواجہ

پنجاب حکومت کی سفارش پر پاکستان کی وزارت خارجہ کیطرف سے برطانیہ بھیجے گئے مراسلے میں کی گئی ملزم حوالگی کی استدعا کو برطانوی حکومت اور محکمہ انصاف کیطرف سے قطعی طور پر رد کر دیا گیا ہے . برطانیہ سے موصولہ اطلاعات کیمطابق برطانوی حکومت کیطرف سے موقف اختیار کیا گیا ہیکہ مزکورہ ملزم کیخلاف تمام کیسز سیاسی اور معاندانہ قسم کے ہیں ، جو برطانوی انصاف کی اساس اور یونائیٹڈ نیشن کے چارٹر میں انسانی حقوق سے بھی متصادم ہیں . وکلاء ، قانوندانوں اور سیاستدانوں کیجانب سے ردعمل میں موقف اختیار کیا گیا ہیکہ حکومت برطانیہ کا یہ فیصلہ اور جواب انتہائی صائب اور قرین انصاف کے عین مطابق ہے .
لندن کے صحافتی حلقوں میں سرگوشیاں سنی جا رہی ہیں کہ ملزم کو اپنے ملک میں ٹارگٹ کر کے سیاسی کردار کشی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے . اسکی سیاسی ساکھ کو بے پناہ نقصان پہنچایا جا چکا ہے . پاکستانی امور کے ماہر اور ایک کہنہ مشق برطانوی صحافی نے پاکستانی درخواست رد کئے جانے کے اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہیکہ ماضی میں ہر بڑے سیاستدان پر غیر سیاسی حکومتیں ایسے بوگس کیسز بناتی رہی ہیں . ایک مقبول و موقر برطانوی روزنامے نے پاکستان کے روایتی سیاسی کیسز پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے ادارئیے میں لکھا ہیکہ ایک فوجی مطلق العنان کے دور میں مقبول عوامی وزیراعظم کو پھانسی دینے والے ایک جج نے بعدازاں خود بھی کیس پر غیر منصفانہ دباؤ کی تصدیق کی تھی . ایک دوسری خاتون وزیر اعظم “جج جرنیل گٹھ جوڑ” کو خاص طور ہر نشانہ بناتی رہی تھیں . وہ ایسے سیاسی فیصلے سنانے والی کورٹس کو کینگرو کورٹس پکارتی رہیں . مزکورہ خاتون وزیراعظم کو بعدازاں ایک دوسرے ڈکٹیٹر کے دور میں اسوقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ ایک بھرے جلسے سے خطاب کرنے کی بعد رخصت ہو رہی تھیں . ادارئیے کے اختتام پر اخبار لکھتا ہے کہ اپنی المناک موت سے قبل مرحومہ نے اپنے ممکنہ قتل کا سارا الزام ڈکٹیٹر اور اسکے سیاسی رفقاء کار پر لگایا تھا .
دوسری طرف ایک سینئر ترین برطانوی بیرسٹر کیمطابق ملزم نہ صرف برطانوی شہریوں کے والد ہیں اور انہیں حکومت پاکستان کی مرضی اور عدالت کے حکم پر سہولت دی گئی تھی . اور یہ کہ برطانیہ آنے سے قبل بھی وہ اس عارضی سہولت سے مستفید ہو رہے تھے . اور اب جبکہ تاحال انکا علاج بھی مکمل نہیں ہو پایا ، ایسے میں حکومت پاکستان کا یہ سفارتی اقدام سمجھ سے بالاتر ہے . خاص طور پر جب عدالت کیطرف سے حکومت پنجاب کو پابند بنایا گیا ہیکہ علاج کیلیے دی گئی عارضی سہولت میں اضافے کیلیے لندن میں موجود پاکستانی سفارتکاروں سے علاج معالجے کی پیشرفت کی روشنی میں خود فیصلہ کرے . حکومت پنجاب اور پاکستان کے برطانیہ میں موجود سفارتی مشن کے درمیان کسی ایسے رابطے کا زکر پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے مراسلے میں نہیں کیا کہ جس میں علاج کے مکمل ہونے کا زکر ہو اور یہ کہ ملزم علاج مکمل ہونے کے باوجود سزا سے فرار کیلیے ملک واپسی سے انکاری ہو اور جسکی بنیاد پر پنجاب حکومت نے سہولت میں توسیع سے انکار کیا ہو .
برطانوی ، یورپی اور عالمی قوانین سے باخبر پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک معروف برطانوی سیاستدان نے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان پولیس کسٹڈی میں بھی انہیں علاج معالجے کیلیے لندن بھیجتی تو تب بھی ملزم ایک درخواست میں اپنے ملک میں خود سے روا رکھے گئے معاندانہ سیاسی برتاؤ کو بنیاد بنا کر پیٹیشن دائر کر سکتا تھا ، جسکا انسانی حقوق کی بنیاد پر جائزہ لینا برطانوی محکمہ انصاف کیلیے ضروری ہوتا .
ایک جائزے کیمطابق انکا علاج جاری ہے اور یہ کہ اگر علاج مکمل ہو بھی چکا ہو تو پھر بھی برطانیہ کسی ایسی درخواست کو قابل اعتنا نہیں سمجھتا کیونکہ پاکستان میں انہیں انصاف کی توقع نہیں ہے . بلکہ انکی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں . ایک معروف سینئر وکیل کیمطابق اگر حکومت برطانیہ ملزم حوالگی کا عندیہ دیتی بھی ہے تو ملزم خود یا اسکے لواحقین پیٹیشن دائر کر سکتے ہیں ، جسکی بنیاد پر انتظامیہ کیجانب سے عین جہاز میں بٹھائے جانے اور جہاز کے اڑان بھرنے تک عدالت انتظامیہ کو ملزم جہاز سے اتارنے کا حکم دے سکتی ہے ، اور ایسا بیشتر بار برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک میں ہو چکا ہے .
انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماہرین اور قانون دانوں کیمطابق ملزم کو معاندانہ سیاسی عدم انصاف کا معاملہ ہو تو انٹرول کے زریعے بھی ایسی حوالگی بعید از امکان ہے . اس سے قبل حال ہی میں حکومت پاکستان کیطرف سے ایک اور سیاستدان اور سابق وزیر کی حوالگی کیلیے انٹرہول کی درخواست رد کی جا چکی ہے .
چند روز ، ایک دو ہفتوں یا مہینوں میں حکومت پاکستان کے نام موصول ہونے والے جوابی برطانوی مراسلے کا ممکنہ متن اور اس پر لندن اور اسلام آباد کے سیاسی ، سفارتی و صحافتی حلقوں میں متوقع چہ مگوئیاں اور سرگوشیاں …

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker