عبدالرشید شکورکالمکھیللکھاری

عبدالرشید شکورکاکالم:کامن ویلتھ گیمز 2022: میرے اس گولڈ میڈل پر سب سے زیادہ خوش والد ہوں گے، محمد نوح

یہ چار سال پہلے کا واقعہ ہے جب آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں منعقدہ کامن ویلتھ گیمز کے ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پاکستان کے ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ تمام تر تیاریوں کے باوجود گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے تھے اور انھیں کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا تھا جس پر ان کے والد کو اتنی زیادہ مایوسی ہوئی تھی کہ انھوں نے نوح سے بات نہیں کی تھی۔
نوح دستگیر بٹ کو اب اس بات کی بہت زیادہ خوشی ہے کہ برمنگھم میں ان کے گولڈ میڈل جیتنے کے بعد چار سال پہلے جیسی صورتحال نہیں ہوگی اور ان کے اس گولڈ میڈل جیتنے کی سب سے زیادہ خوشی ان کے والد کو ہوگی۔
24 سالہ ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ نے برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں نیا باب رقم کیا ہے۔
انھوں نے 109 ویٹ کیٹگری میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھایا۔
انھوں نے اسنیچ میں 173جبکہ کلین اینڈ جرک میں 232کلوگرام وزن اٹھایا جو 109 ویٹ کیٹگری میں کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ ہے۔
نوح دستگیر بٹ نے اپنی کامیابی کے بعد برمنگھم سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ʹمیں چار سال قبل بھی گولڈ میڈل کے قریب آچکا تھا لیکن بدقسمتی سے میں آخری ٹرائی میں کامیاب نہ ہوسکا تھا جس کا مجھے بہت دکھ تھا اور میں اس بار اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ خوشی میرے والد کو ہوئی ہے۔‘
نوح دستگیر بٹ کا تعلق ویٹ لفٹنگ کی مشہور فیملی سے ہے۔ان کے کیریئر پر ان کے والد کا گہرا اثر رہا ہے۔
وہ کہتے ہیںʹمیرے والد غلام دستگیر بٹ نے ایشیائی مقابلوں میں تمغے جیتے ہیں۔ وہ ساؤتھ ایشین گیمز میں چار مرتبہ گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ وہ 19 مرتبہ قومی چیمپئن رہے ہیں۔ میں انہی کی نگرانی میں ٹریننگ کرتا ہوں۔‘
نوح دستگیر بٹ کے چھوٹے بھائی ہنزلہ دستگیر بٹ بھی انہی کے قدم پر چل رہے ہیں اور انھوں نے برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
کامن ویلتھ گیمز سے قبل پاکستان کی ویٹ لفٹنگ کو اس وقت زبردست دھچکہ پہنچا تھا جب متعدد ویٹ لفٹرز جن میں اولمپک ویٹ لفٹر طلحہ طالب بھی شامل ہیں ڈوپنگ کی وجہ سے پابندی کی زد میں آ گئے تھے تاہم نوح دستگیر بٹ نے اس کا اپنے اوپر کوئی اثر نہیں لیا۔
نوح دستگیر بٹ کہتے ہیں ʹمیں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی تھی کیونکہ یہ ان ویٹ لفٹرز اور فیڈریشن کا معاملہ تھا۔ میں اپنی ٹریننگ پر بہت زیادہ توجہ رکھے ہوئے تھا اور مجھے خوشی ہے کہ میری محنت رائیگاں نہیں گئی۔‘
سرکاری پذیرائی کے منتظر
نوح دستگیر بٹ بھی ان کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں جو اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک کے لیے جو کچھ کیا ہے انہیں ارباب اختیار کی طرف سے وہ پذیرائی نہیں ملی ہے جس کے وہ حقدار ہیں۔
نوح دستگیر بٹ نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے سے قبل 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
انھوں نے 2017 اور 2021 میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغے جیتے۔ وہ دو مرتبہ کامن ویلتھ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں بھی کانسی کے تمغے جیت چکے ہیں۔
نوح کی اس شاندار کامیابی کا جشن پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی منا رہے ہیں۔ ٹویٹر پر اس وقت ٹاپ ٹرینڈز میں ان کا نام دکھائی دے رہا ہے۔
نسیم راجپوت نے لکھا بہت عرصے بعد اولمپک سپورٹس کے گراونڈ سے پاکستانی ترانہ سننے کو ملا ہے مزہ آ گیا۔ شکریہ نوح۔
کرکٹ سٹار محمد حفیظ نے محمد نوح کو کامیابی پر مبارکباد دی اور لکھا ` نوح بٹ اور پاکستان کو کامن ویلتھ گیم میں پہلا گولڈ میڈل جیتنے پر مبارک ہو، تم پر فخر ہے۔
صحافی عبدالغفار ان افراد میں شامل ہیں جن کی پروفائل پکچر پر اب محمد نوح کی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔
انھوں نے لکھا `خوشی کے آنسو کے ساتھ پاکستان زندہ باد، شکریہ نوح دستگیر بٹ صاحب۔‘
عثمان نے لکھا `اس نے یہ کر دکھایا۔ شاباش نوح دستگیر۔‘
بہت سے صارفین گذشتہ بار نوح کی سونے کا تمغہ حاصل کرنے پر ناکامی اور والد کی ناراضگی کا ذکر بھی کر رہے ہیں۔
روحا ندیم نے نوح کی جانب سے پاکستان کے لیے پہلے گولڈ میڈیل جیتنے کو ناقابل یقین کامیابی کہا۔
ٹوئٹر پر گوجرانوالا اور گولڈ بھی ٹرینڈ کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ گوجرانوالا کا ذکر بھی محمد نوح کی کامیابی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیونکہ ان کا تعلق اسی شہر سے ہے۔
باسط سبحانی نے لکھا `گوجرانوالا کے شیر نے آپ کو گولڈ میڈل دیا۔‘
ڈاکٹر حرا نے لکھا مبارکباد، ہم تم پر فخر ہے۔
عبدالرحمان نے نوح کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا اسی لیے گوجرانوالا کو پہلوانوں کا شہر کہتے ہیں۔
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker