اختصارئےادبعدیل الرحمٰنلکھاری

مسعود کاظمی اور زندہ دلانِ ملتان ۔۔ عدیل الرحمٰن

معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی کج روی پر پارسائی کا لبادہ اوڑھ کر ہر وقت خود کو معزز ثابت کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔ اُن کی اس جہدِ پیہم کے پیچھے بلا کی اداکاری ہوتی ہے ۔ جنہیں اداکار ہونا چاہیئے تھا وہ معزز بنے بیٹھے ہیں جس سے اُن کا تو نہیں مگر پاکستان کی فلم انڈسٹری کا نقصان ضرور ہوا ہے کہ وہ ایک بُلند پایہ کا اداکار کھو دیتی ہے ۔۔۔۔ افسوس صد افسوس
آپ سوچ رہے ہوں گے مجھے یہ سب باتیں مسعود کاظمی صاحب پر مضمون لکھتےہوئے نوکِ قلم پر لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے اپنی عملی زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو خود کو یہ کہتے سُنا کہ میں ایک آوارہ ہوں، عمر بھر آوارہ گردی کی، دُنیا کی سختیاں جھیلیں، اور جیلیں کاٹیں۔ یہ سب باتیں میں نے مسعود کاظمی صاحب کی زبان سے سُنیں تو انگشت بدنداں رہ گیا۔ ایک شخص خود کو آوارہ گرد کہتا ہے۔ اور وہ بھی اس خود نمائی کے دور میں کہ جب منافق کھرا اور سچا کہلوانا پسند کرتا ہے اور شرم و حیاء کا درس دینے والے تبلیغ کے نام پر اداکاراؤں سے لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب نیکی کا ذکر ہوتا ہے تو بدی بھی یاد آ جاتی ہے۔ اسی لیے میں نے جب مسعود کاظمی جیسے کتاب صفت انسان کی زندگی کا فقط ایک صفحہ سرسری نظر سے دیکھا تو اُن کے کھرے اورسچے پن کے ساتھ ساتھ مجھے منافق، اداکار اور شرم و حیاء کا درس دینے والے ریاکار بھی یاد آ گئے۔کاظمی صاحب کی حب الوطنی کی عکاسی اُن کی کُتب اور تصانیف سے ہوتی ہے۔ اس بارے میں شاید لوگ علم نہ رکھتے ہوں کہ وہ انت کے زندہ دل بھی ہیں۔ مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں کہ میں نے اُنہیں پہلی مرتبہ کب دیکھا یا اُن سے میری پہلی مُلاقات کب ہوئی۔ یہی کوئی دو ماہ قبل میری اُن سے پہلی باقاعدہ مُلاقات ہوئی۔ میں اور میرا دوست عبداللہ شان علی اُن کے گھر اُن سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے گئے۔ہم نے اُن کے دروازے پر دستک دی اور وہ ہمیں لینے آ گئے۔اُنہوں نے دروازہ کھولا اور ہمیں بڑی خندہ پیشانی سے ملے۔ ہمیں اپنے ساتھ اندر آنے کو کہا اور ہم چل دیئے ہمیں برآمدے میں کُرسیوں پر بٹھا دیا اور اُنہوں نے اپنی اہلیہ کو چائے بنانے کا کہا۔ کچھ دیر بعد چائے آ گئی اور ہم لوگ چائے سے لطف اندوز ہو نے لگے۔ وہ جس کُر سی پر بیٹھے تھے اس کے سامنے کونے میں ایک میز تھا۔ جس پر بہت سی کتب بکھری ہوئی تھیں۔ اسی دوران اُنہوں نے میز سے ایک کتاب اُٹھانے کی کوشش کی مگر اُنہیں بہت دقت ہوئی۔ میں نے یہ دیکھ کر کہا کہ میں اُٹھا دیتا ہوں آپ کیوں تکلیف کر رہے ہیں، ساتھ ہی غلطی سے کہہ دیا کہ اب آپ بزرگ ہو چُکے ہیں۔میری اس بات کا انہوں نے بہت خوبصورت جواب دیا۔ اور یہ بات چاہوں بھی تو زندگی میں کبھی بھلا نہیں سکتا۔ اُنہوں نے کہا میں ابھی بزرگ نہیں ہوا بس بیماری کے سبب یہ حالت ہو گئی ہے، ورنہ میری عمر کا شخص تو سولہ سال کی لڑکی اپنی گود میں بٹھا سکتا ہے اور لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ میں اس بات سے بہت متاثر ہوا اور پھر مجھے اندازہ ہوا کہ سر سید احمد خان اگر آج زندہ ہوتے جیسے اُنہوں نے اُنیسویں صدی میں لاہوریوں کو زندہ دل قرار دیا تھا تو آج وہ ملتانیوں کو ضرور زندہ دل کے لقب سے نوازتے۔میں اور عبداللہ دونوں ان کی اس بات سے بہت محظوظ ہوئے۔ میں اکثر تنہا بیٹھ کر جب یہ بات سوچتا ہوں تو میرے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آ جاتی ہے، کانوں میں‌ کاظمی صاحب کی آواز گونجتی ہے اور نظروں کے سامنے ان کا مسکراتا چہرہ بھی آ جاتا ہے۔ میں شاید صرف اُن کے مُلاقاتیوں میں سے ہوں۔ مگر ایک مُلاقات نے اُن سے میرا ایک نہ ٹوٹنے وال تعلق پیدا کر دیا۔ اُس روز ہم نے اُن کے ساتھ بہت باتیں کیں وہ ہمارے آنے سے پہلے قائدِ اعظم کے بارے میں کسی کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ ہمیں اُنہوں نے قائدِ اعظم کی ازدواجی زندگی کے بارے میں وہ معلومات دیں جو اس سے قبل ہمارے علم میں نہیں تھیں۔ اُس کے بعد ہم نے اُن سے اجازت لی اور اُن کے گھر سے اپنی اپنی منزل کی طرف گامزن ہو گئے۔ میں نے سُنا ہے کہ آج کل وہ بہت علیل ہیں۔ میں سوچتا رہا کہ اس کیفیت میں دعا کے علاوہ بھلا میں ان کے لئے کیا کر سکتا ہوں۔ کچھ نہ کچھ لکھوں گا ۔دعا تو میں‌کرتا ہی رہتا ہوں لیکن اپنے جذبات کو تحریر کی صورت میں‌بھی لا رہا ہوں ۔ یہ تحریر جب کاظمی صاحب پڑھیں گے تو مجھے یقین ہے کہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ بھی ضرور آئے گی۔ اُمید کرتا ہوں کہ وہ پھر سے مجھے کوئی ایسی بات سُنائیں گے اور پھر میں تنہائی میں اُن کی وہ بات سوچ کر مُسکرایا کروں گا۔ اور اس مرتبہ جب میں انہیں‌ملنے جاؤں گا تو وہ اسی میز کے کونے سے وہ کتاب کسی دقت کے بغیر خود اٹھائیں گے اور پھر مجھے دیکھ کر کہیں‌گے ، تم نے ہی کہا تھا نا کہ میں بزرگ ہو گیا ہوں دیکھ لیا نا میں‌اب بھی ۔۔ کاظمی صاحب آپ کی بات پر ہمیں یقین آ گیا ، آپ خود ہی تو کہتے ہیں‌ ” میں دیا بن کر جلوں گا اور روشنیاں بانٹوں گا “ لہٰذا اب آپ کو بیماری کو ہرانا ہو گا اور پھر سے مُسکرانا ہو گا۔ آپ کی ہی زبان میں
دیا بن کر سدا جلتا رہوں گا دُکھوں کی بھیڑ میں چلتا رہوں گا
گو زخمی ہوں مگر ہنستا رہوں گا میں گر گر کر یوں ہی اُٹھتا رہوں گا
اس کے علاوہ آپ نے اپنی نظم میں بھی تو کہا ہے کہ ” کبھی مایوس مت ہونا “

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker