ادبڈاکٹر علمدار حسین بخاریلکھاری

ڈاکٹر علمدار حسین بخاری کی یادیں : احمد فاروق مشہدی ،ایک شریف آدمی ( ساتواں اور آخری حصہ )

( گزشتہ سے پیوستہ )
ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی ایک بے حد محتاط لیکن وضعدار اور ہمدرد انسان تھا اس کی یادوں میں کسی کی دل آزاری کا کوئی منظر اس درویش کی چشم تصور میں نہیں ابھرتا لیکن ایسا بھی نہیں کہ مزاح اور زندہ دلی کی حس اس میں کمزور تھی راو تسنیم مرحوم کا تذکرہ اس مضمون میں بار بار آیا جس کی زندہ دلی اور طنز ا مزاح کے اپنے رنگ تھے جن میں کئی ناقابل بیان بھی تھے لیکن فاروق ان سبھی رنگوں سے لطف اٹھاتا ۔ اس نے راو کو کبھی کسی بات پر ٹوکا ہو مجھے یاد نہیں البتہ وہ خود لفظ و بیان کے انتخاب میں بہت محتاط رہتا اور خود اس کی زبان سے کوئی ناروا بات کم ہی نکلتی راو کی یا کسی اور کی کوئی ناگفتہ بہ بات دہراتے ہوئے بھی اس کا چہرہ لال ہو جاتا اگرچہ اس میں بھی وہ بہت سی جگہیں خالی چھوڑ دیتا تھا ۔۔۔ مہذب لطائف سنانے میں البتہ اسے کوئی باک نہ ہوتا اگرچہ کئی دوست ایسے لطیفوں کو پھیکی گنڈیریاں کہتے اور فاروق مسکرا کر چپکا رہ جاتا ۔۔۔ اس کی شخصیت کا ایک دلچسپ انداز یہ تھا کہ وہ لفظوں کے الٹ پھیر سے اور پنجابی یا سرائیکی الفاظ کے اردو میں استعمال سے دلچسپ انداز پیدا کرنے میں بیت مہارت کا مظاہرہ کرتا۔۔۔ شعیب عتیق مظفر گڑھ کے ایک مزید دیہاتی علاقے کا باسی، اپنی گفتگو میں سرائیکی کے بعض ٹھیٹھ الفاظ بکثرت استعمال کیا کرتا جن پر ہمارے پنجابی یا اردو بولنے والے دوست چونک جاتے اور ان کے معنی ہم سے پوچھا کرتے۔۔۔ سردیوں کے دن تھے ہم لوگ شاید کلاس روم میں بیٹھے تھے اور اتفاق سے شعیب وہاں موجود نہیں تھا کسی نے اس کی غیر حاضری محسوس کرتے ہوئے صدا لگائی
“یار آج شعیب عتیق نظر نہیں آیا ، وہ کہاں ہے؟”
فاروق کی زبان سے بے ساختہ نکلا ۔ “شعیب۔۔۔؟ وہ کہیں چٹکے میں لاتھا اپنی کھاڈی ہلا رہا ہو گا !”
(“چٹکا”، سردیوں کی نرم خوش گوار دھوپ۔۔۔ “لاتھا”، پڑا ہوا ۔۔ “کھاڈی،” ٹھوڑی )
بات کچھ ایسی نہیں تھی لیکن شعیب کی شخصیت اور سرائیکی لفظوں کے اس برمحل استعمال کے ملاپ نے وہ رنگ پیدا کیا کہ پوری کلاس نے مل کر قہقہہ لگایا اور جب کچھ دیر میں شعیب آیا تو جو اسے دیکھتا اس کی ہنسی نکل جاتی ۔۔۔ شعیب اس صورت حال سے بہت پریشان ہوا اور دوچار روز فاروق سے ناراض رہا اور فاروق اسے منایا پھرا لیکن فاروق کا یہ جملہ ایک عرصے تک ضرب المثل بنا رہا بعد میں بھی جب ہم شعیب کو یاد کرتے ہوئے اس کا ڈر کرتے تو کوئی نہ کوئی یہ جملہ ضرور دہرا دیتا۔۔۔اسی طرح جاوید سہو، استاد عبدالباقی، انور ضیا اور مقصود کی کچھ باتیں تھیں جو فاروق کو بہت دلچسپ لگتیں اور جنھیں وہ مزے لے کر دہرایا کرتا لیکن اس کی خواہش ہوتی کہ ان احباب کی دل آزاری کا کوئی پہلو نہ نکلے ۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری لگتا ہے کہ جہاں وہ دوسروں کی آزردگی کا خیال رکھتا وہیں اگر کسی کی بات سے خود اس کا اپنا دل دکھتا تو وہ چپکے سے برداشت کر جاتا تھا اور کم ہی حرف شکایت اس کی زبان پر آتا۔ ایسی کئی باتیں میرے علم میں ہیں ، (خاص طور پر یونیورسٹی کی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران اسے کئی نا خوشگوار معاملات کا سامنا رہا ) لیکن خیال خاطر احباب کے لئے ان کا دہرانا نا مناسب لگتا ہے۔
میرے اور فاروق کے ایک محترم دوست ڈاکٹر ریاض الحق طارق نے فاروق کی یادوں کے حوالے سے میری اس تحریر پر تبصرہ کیا ہے کہ
Asslam o Alaykum. Shah Jee you write well. I enjoyed it but it appears more your own chapter of biography rather than Mash Hadi Sb. I enjoyed. Now after finishing it start writing your own biography….
جس کے جواب میں اس درویش نے عرض کیا کہ
” دوستوں کی زندگی کے ساتھ ہی ہماری اپنی زندگی جڑی ہوتی ہے ایک دوست جدا ہوتا ہے تو ہماری زندگی کا ایک حصہ ہم سے جدا ہو جاتا ہے۔۔۔ اس لئے آپ کی رائے سے اختلاف نہیں ۔ آپ ایک شخص کو ان واقعات سے گزرتے ہوئے ہی پہچان سکتے ہیں جو آپ کے سامنے یا آپ کے ساتھ اس پر گزرے۔۔۔ value judgements سے کچھ بچنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔ فاروق کی ایک تصویر بنتی ہے یا نہیں یہ آپ جانیں”
احمد فاروق شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر احمد فاروق مشہدی اس درویش کے لئے دو الگ الگ شخصیتیں نہیں تھے ایک بڑی اور جامع شخصیت کے دو رخ تھے اگرچہ اس تحریر میں احمد فاروق شاہ والا رخ حاوی رہا لیکن اس کی شخصیت کا عالمانہ اور ادبی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے( مجھے احساس ہے کہ ا س کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے)۔
احمد فاروق مشہدی کی رحلت سے اس درویش کی زندگی کا بھی ایک باب ختم ہوا ۔۔۔ اس درویش کے وجود کا ایک حصہ اس سے جدا ہوا جس سے اب صرف یادوں کا رشتہ باقی ہے اللہ میرے دوست کو آخرت میں اس کی زندگی سے زیادہ آسودہ اور معتبر رکھے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker