تجزیےعلی نقویلکھاری

سیاست اور مذہب پر بات کرنا مشکل ہے یا آسان ؟ ۔۔ علی نقوی

مشتاق احمد یوسفی نے کہا تھا ہمارے ملک میں آپ کسی کے سامنے اپنی بیماری کا تذکرہ کیجیے اگر وہ آپکو کوئی دوا تجویز نہ کرے تو سمجھ لیں کہ وہ ڈاکٹر ہے ۔ کہتے ہیں کہ مفت کے مشورے کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، لیکن ہمارے یہاں مشورہ ہی مفت ہے اور ضرورت سے زیادہ ہے، آپ کسی بھی شخص کے سامنے کوئی بھی بات کر کے دیکھ لیں چاہے اس بات کی اس کو سمجھ ہو یا نہ ہو وہ آدمی آپ کو مشورے سے ضرور نوازے گا لیکن جو فیلڈ کا ایکسپرٹ ہوگا وہ کبھی منہ بھی نہیں کھولے گا، کسی معاملے پر آپ کی رائے ہونا اچھی بات ہے لیکن اپنی رائے کو حتمی سمجھ کر اس پر جم جانا ہمارے لوگوں کا طرہ امتیاز ہے اور دو موضوعات تو ایسے ہیں کہ جن پر رائے نہ دینا بے عزتی محسوس کی جاتی ہے پہلا “مذہب” اور دوسری “سیاست”

آپ مذہب پر کتنی ہی عملی گفتگو دلیلوں اور حوالوں کے ساتھ کر رہے ہوں اور سامنے بیٹھا کتنا ہی کم پڑھا لکھا ہی کیوں نہ ہو وہ ایک منٹ میں آپ کی ساری علمی دلیلوں اور حوالہ جات کو ایک منٹ پر میز پر نکال کر رکھ دے گا یہ کہہ کر کہ میں نے تو یہ کہیں نہیں پڑھا بندہ پوچھے کہ “بھائی تو یہ بتا کہ تو نے پڑھا ہی کیا ہے”؟ایک تو وہ ایک بھی کتاب کا نام نہیں بتا پاتا اور دوسرا جواب یہ آتا ہے کہ جتنا بھی پڑھا ہے پر یہ نہیں پڑھا جو آپ کہہ رہے ہیں، اب بتائیں اس کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ایک دوست قرآن پاک کی سورۃ جاثیہ سے کوئی ریفرنس دے رہے تھے تو ایک بزرگ اس بات پر اڑ گئے کہ قرآن مجید میں “جاثیہ” نامی کوئی سورۃ ہے ہی نہیں تم نے صرف اپنی باتیں ثابت کرنے کے لیے یہ نام گھڑ لیا ہے، انکو گوگل کر کے دکھایا تو انہوں نے منہ توڑ جواب دیا کہ اب قرآنی سورتوں کی گواہی ہم اس انگریز کی بنائی ہوئی مشین سے لیں گے؟؟؟



میں ان سے بہت ایمپریس ہوا، اسی طرح ایک بار دو دوستوں میں حضرت علی سے متعلق ایک حدیث پر بحث چھڑ گئی ایک صاحب فرمانے لگے کہ یہ حدیث بخاری شریف میں بابِ علی ابن ابی طالب میں موجود ہے سامنے والے صاحب نہ مانے پہلے والے صاحب اپنے گھر گئے اور بخاری شریف لے آئے اور اپنی بات کی سچ ثابت کر دی تو دوسرے صاحب فرمانے لگے کہیں تم لوگوں نے اپنی تحریف شدہ بخاری تو نہیں چھاپی ہوئی؟؟؟ کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ میری نظر سے حدیث اوجھل رہ جائے، اسی طرح ایک صاحب ایک بار حضرت رابعہ بصری کے وجود سے ہی انکاری ہوگئے لاکھ دلیلیں دیں نہ مانے آخر میں جب انکار کی بظاہر کوئی وجہ نہ بچی تو زچ ہو کر فرمایا کہ اس سے پہلے کہ میں اسُ اللہ کا انکار کردوں کہ جس نے ایک عورت کو قلندری دی تم لوگ چپ ہو جاؤ اس دھمکی پر ہم سب چپ ہوگئے….



اب آئیے سیاست کی طرف تو سیاست تو ہے ہی ہر کسی کے گھر کی لونڈی اور نواز شریف، زرداری اور عمران خان ہر کسی کے ذاتی ملازم ہیں کہ جن کو جینے کا اتنا ہی حق ہے کہ جتنا ہم انہیں دیں، ان کی کوئی ذاتی زندگی، پسند نا پسند نہیں ہو سکتی، سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیھٹا امرود بیچنے والا کہ جس نے پیدل چلنے والے کا راستہ روک کر وہاں اپنی چھابڑی رکھی ہوتی ہے وہ گالیاں دیتا ہے ملک ریاض کو کہ وہ ایک قبضہ گروپ ہے اور اگر اسُی لمحے ملک ریاض اس کو بحریہ ٹاؤن میں پھلوں کی دوکان کھول دیں تو ملک صاحب بھگوان ہو جائیں گے…



عام تاثر یہ ہے کہ سیاست اور سیاست دان کو گالی دینا اس لیے ہمارا حق ہے کہ ہم انہیں ووٹ دیتے ہیں اچھا آئیے ذرا یہ دیکھ لیتے ہیں کہ ہم ووٹ کس بنیاد پر دیتے ہیں کہ اس نے ہماری گلی پکی کرائی تھی، اس نے سٹریٹ لائٹس لگوائیں تھیں، اس نے میرا پولیس کو مطلوب بھانجا پولس میں ہی بھرتی کرا دیا تھا لہذا یہ ہمارا محسن ہے یا یہ دس سال جیل میں رہا ہے تو یہ لیڈر ہے یا اس کا بھائی دہشت گردوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا تو اس کا ووٹ تو بنتا ہے، یا اس کا بڑا بھائی جنرل ہے لہذا اس کو وزارت ملنے کے چانسز بہت زیادہ ہیں، یا یہ میاں صاحب، زرداری صاحب، خان صاحب یا بڑے صاحب کے نز دیک ہے، کیا کبھی کسی ووٹر سے سنا کہ یہ فنانس میں یا پولیٹیکل سائنس میں PhD ہے تو اسکو ووٹ دینا چاہیے، یا اس نے بیس سال کسی یونیورسٹی میں پڑھایا ہے اسکو ووٹ دینا چاہیے، یا اس نے دو درجن کتابیں لکھی ہیں اسکا ووٹ بنتا ہے، جس معاشرے میں یہ عام کہاوت ہو کہ زیادہ پڑھنے لکھنے سے انسان خبطی ہوجاتا ہے وہاں فیصلوں کا معیار علم کیسے ہوسکتا ہے؟ جہاں سیاسی جدوجہد کا معیار جیل میں گزارے ہوئے سالوں کی تعداد ہو وہاں سلیکشن کا معیار یہی ہونا چاہیے کہ کون کتنا بڑا قانون شکن ہے، ہمارا معاشرہ ایک ایسا معاشرہ ہے کہ جہاں کسی کی بڑائی کو ماپنے کا طریقہ یہ ہے کہ کون کتنا بڑا قانون توڑ سکتا ہے، اگر کوئی اشارہ توڑ کر نکل جاتا ہے تو وہ سماجی لحاظ سے اس سے بڑا ہے کہ جو اشارے پر کھڑا بتی کے سبز ہونے کا انتظار کر رہا ہے اور جو قتل کر کے بچ جائے وہ اس سے بڑا ہے کہ جس نے اشارہ توڑا تھا، اسی لیے ملک کا آئین توڑنے والے ہمارے سب سے محبوب ہیں ہم کبھی انکو برا بھلا نہیں کہتے ہاں انکے پروردہ سیاسی بونوں کو منہ بھر بھر گالی دیتے ہیں لیکن انہیں نہیں کیونکہ ہم انکو اور انکی قانون شکنی کی طاقت اور صلاحیت کو آئیڈیلائز کرتے ہیں اور اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے ہمیں یہ بتایا کہ ہیرو وہ ہے جو حملہ کر سکے جو غصب کرنے پر قادر ہو نہ کہ وہ جو امن کی بات کرے علم اور انسانی ہمدردی کی بات کرے۔ اسی لیے بلھے شاہ، شاہ حسین، خواجہ فرید ہمارے نصاب کے ہیرو نہیں ہیں ہاں غزنوی، غوری اور ابدالی ہیں کیونکہ وہ ایک جنگجو تھے کہ جن کی نام سے کفر کانپتا تھا اور ہے بلھے شاہ کا کیا ہے باتیں ہی باتیں ہیں عملی کام تو کوئی نہیں ہے….



ایک واقعہ سنا کر آپ سے اجازت ابھی کچھ دن پہلے ایک دانتوں کے ڈاکٹر صاحب سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی میں کہیں بیٹھا تھا تو وہ آ گئے اور مجھے دیکھتے ہی فرمایا کہ آپ وہی علی نقوی ہیں نا جو عمران خان کو فیس بک پر بہت برا بھلا کہتے ہیں میں نے جرم قبول کیا تو وہ فرمانے لگے کہ آخر آپکو کیا مسئلہ ہے اس سے میں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں وہ تو میرا ہیرو ہے اس کے بعد انہوں نے مجھے پیپلزپارٹی کا جیالا سمجھ کر بلاول اور زرداری کو وہ گالیاں نکالیں کہ الامان الخفیظ جب انہوں نے تھوڑا توقف کیا تو میں نے ان سے کہا کہ ڈاکٹر صاحب میں نے سنا ہے کہ اگر منہ سے چاروں داڑھیں نکال دی جائیں تب بھی انسان کھا چبا سکتا ہے جواب آیا کہ نہیں میں مصُر رہا کہ نہیں میں نے خود پڑھا ہے شاید آپ تک یہ نئی ریسرچ نہیں پہنچی کہ داڑھ کا انسانی جبڑے میں نام کا کردار ہے ورنہ اسکے بغیر بھی کام چل سکتا ہے انہوں نے لاکھ کوشش کی کہ مجھ پر جبڑے کی بناوٹ آشکار ہوجائے لیکن میں مان کر نہ دیا آخر کار وہ زچ ہوگئے تب میں نے ان سے کہا کہ حضور میں آپ کو صرف یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ کیسا محسوس ہوتا ہے کہ جب کوئی آپکی پڑھی لکھی باتوں کو جاہلانہ حد پر جا کر رد کرتا ہے میں نے کہا کہ میری ڈگری ہے انٹرنیشنل ریلیشنز کی جیسے بھی استادوں سے پڑھا ہوں گا لیکن وہ کچھ نہیں کچھ نہیں کم از کم آپ سے تو زیادہ سمجھ رکھتے ہیں پولیٹیکل سائنس کی، میں نے ان سے کہا کہ آپکا پولیٹیکل نالج اتنا ہی جاہلانہ ہے کہ جتنا میرا دانتوں کے بارے میں ہے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ میں اپنی رائے کو صحیح نہیں مانتا، میں نے کہا کہ آپ کو یہ کیسے بتاؤں کہ افلاطون نے اپنی کتاب جمہوریہ میں جمہوریت کے کیا خدوخال وضع کیے ہیں، “داس کیپیتال” کس بلا کا نام ہے، کارل مارکس کلاس سسٹم کو کس طرح ایکسپلین کرتا ہے، کس طرح ایک عام آدمی کو یہ سمجھایا جائے کہ Redicalism, Behaveralism, Idealism, Modernism, Post Modernism کن کن مصیبتوں کے نام ہیں ایک عام آدمی کو یہ کیسے سمجھایا جائے کہ Capitalism اور Communism میں کیا فرق ہے؟



یہاں تو عالم یہ ہے کہ PTI کے وزیر علی محمد خان کاشف عباسی کے شو میں بیٹھ کر Liberalism کا ترجمہ دہریت کرتے ہیں اور اسی پر اصرار بھی کرتے ہیں تو ایسے حکمران پانچ پانچ سال کی بچیوں کو شٹل کاک برقعے پہنانے، محمد بن سلمان جیسے دجالوں کی گاڑیاں چلانے، ٹرمپ کی بکواس سننے اور برداشت کرنے اور اس پر اندھا دھند عمل کرنے کے علاوہ اور کریں بھی تو کیا اسی طرح جن لوگوں نے مودی کو ٹرمپ کو بورس جانسن کو اپنا رہنما بنایا ہے انکی عقلوں پر تو ماتم بھی جائز نہیں ہے کیونکہ ماتم کسی اور کے اپنے اوپر کیے گئے مظالم پر کیا جاتا ہے نہ کہ خود اپنے پیروں پر کلہاڑی چلا کر… جن دس ہزار پاکستانیوں نے عمران خان کے امریکی جلسے میں شرکت کی اور جن پچاس ہزار ہندوستانیوں نے مودی کے جلسے میں شرکت کی انکی دماغی صحت ایک جیسی پریشان کن ہے اور اس کی وجہ پوری دنیا کی قوموں کے ہیروز ہیں کہ دنیا بھر میں ہیروز وہ ہیں کہ جن کے جنگی کارنامے اور رجحانات انکی پرستش کا باعث ہیں اگر دنیا علمی شخصیات کو ہیرو بناتی تو آج دنیا کی شکل کچھ اور ہوتی، آخر میں درخواست یہ ہے کہ فیلڈ کے ایکسپرٹ کی رائے کا احترام کریں اور علمی رجحانات والے لوگوں کو رہبر بنائیے نہ کہ جنگجوؤں کو کہ شاید آنے والا وقت بہتر ہو….

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker