میں جانتا ہوں کہ ہم انفرادی کوششوں سے موجودہ استحصالی نظام کو نہیں بدل سکتے۔ ظلم کا یہ نظام گہری اور مضبوط جڑیں رکھتا ہے۔ قومیت، حب الوطنی اور مذہب کو اس نظام کی نشوونما کے لیے طاقتور کھاد کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ نظام محنت کشوں کو طبقاتی بنیادوں پر اکٹھا ہونے سے روکتا ہے۔ مجھ سمیت بہت سے لوگ سالہا سال سے مزدور طبقے کو ایک کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہم میں سے اکثر کو اس محاذ پر ناکامی کا منہ ہی دیکھنا پڑا ہے۔ اپنی عمر کے اس حصے میں آ کر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھے نظام بدلنے کی جدوجہد ملتوی کر کے صرف اور صرف اس کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ مجھے یہ ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے، اپنے مشاہدات کو لکھنا چاہیے اور ان کی تصویر کشی کر کے عوام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ عوام اپنی قسمت کے فیصلے صرف اور صرف اپنی مرضی سے ہی کر سکتے ہیں۔ ہم صرف طبقاتی تقسیم کی سفاک حقیقت کو ان کے سامنے بےنقاب کر سکتے ہیں اور یہی ہمارا کام ہونا چاہیے۔
موجودہ سیلاب پنجاب میں تباہیاں پھیلا رہا ہے۔ میں نے معروف ترقی پسند سماجی کارکن ، طبیب اور سیاستدان ڈاکٹر عالیہ حیدر کی سیلاب زدگان کو طبی امداد فراہم کرنے کی تحریک اپنے احساس جرم کو مٹانے، اللہ کی رضا حاصل کرنے یا جذبہء حب الوطنی سے سرشار ہو کر جوائن نہیں کی۔ مذہبی دوست مجھے "اللہ آپ کے کارخیر کو قبول فرمائے” کے پرخلوص پیغامات بھیجے ہیں۔ میں ان کا ممنون ہوں مگر یہ میرا مقصد نہیں ہے۔ میرا مقصد ریاستی جبر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا اور اسے تجسیم تحریر میں لانا ہے۔
12 ستمبر سے 14 ستمبر 2025 تک ہم نے چناب نگر، بھروانہ اور جھنگ میں پانچ میڈیکل کیمپس لگائے۔ اس دوران ہم نے 5000 کے قریب مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقاتیں کیں اور انہیں ادویات فراہم کیں۔ بھروانہ کا دورہ میرے اور ڈاکٹر عالیہ کے لیے ناخوشگوار رہا۔ ہمارے میڈیکل کیمپس کو مقامی ممبر صوبائی اسمبلی نے ہائی جیک کرنے اور انہیں اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایم پی اے کے بڑے بھائی نے ہماری ٹیم سے ملاقات کی تو کچھ ہی دیر میں انہوں نے محنت کشوں کے بارے میں اپنے مکروہ خیالات کا اظہار کر کے ماحول کو ناخوشگوار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بدترین سیلاب کی تباہ کاری کے باوجود ان کے حلقے کے عوام خوشحال ہیں۔ ان کے مطابق ان لوگوں کے پاس تمام وسائل اور سہولیات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود وہ لٹے پٹے ہونے کی اداکاری کرتے ہیں اور حکومت اور فلاحی تنظیموں سے امداد بٹورتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے ہمیں اپنے ڈیرے پر ہی کیمپ کرنے پر مجبور کیا۔ وہ علاقے کی معزز شخصیت ہیں اور اسی لیے ہماری ٹیم نے ان سے رابطہ کیا تھا۔ ہمارا مقصد ان کے ذریعے سیلاب زدگان تک پہنچنا تھا لیکن ان کے ارادے الگ تھے۔ ان کے ڈیرے پر میڈیکل کیمپ کرتے ہوئے ہمیں اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ہمارے کیمپ سے سیاسی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ افراد نے ہمیں یہ تاثر دیا کہ ہم ایم پی اے صاحب کے لیے کام کر رہے ہیں۔
بھوانہ کا دوسرا میڈیکل کیمپ ہم نے ایک امام بارگاہ میں کیا۔ وہاں ایم پی اے صاحب کے حامی متولیوں نے عوام سے باقاعدہ ایم پی اے کے لیے ووٹ مانگے۔ یہ منظر میرے لیے بےحد تکلیف دہ تھا۔ متولیوں اور ایم پی اے کے حامیوں نے کیمپ کو منظم کرنے میں ہمارا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ سے ہم سب کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محنت کش عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کیمپ پر امڈ آئی۔ یہ اب تک کا ہمارا سب سے بڑا کیمپ تھا۔ ہمیں واضح طور پر اندازہ ہو چکا تھا کہ وہاں کی مقامی سیاسی قیادت اور صوبائی حکومت عوام کو امداد فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ غریب عوام کا وہ جم غفیر شدید ترین بدحالی کا شکار تھا۔ یہ مقامی قیادت کے دعوے کے بالکل برعکس تھا۔ وہ لوگ نہ تو خوشحال تھے اور نہ اداکار۔ وہ مظلوم تھے اور ان پر ظلم کرنے والے ہمارے ذریعے انہیں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ان کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ بہت فحش طرز عمل تھا۔ ہم اپنے کیمپس مقامی معززین کی مدد ہی سے منعقد کرتے ہیں اور اکثر اوقات ہمارے ساتھ تعاون ہی کیا جاتا ہے لیکن بھروانہ کے معززین نے کھل کر اپنی اصلیت دکھائی جو ہمارے لیے سیلاب کی اصل صورتحال کا اندازہ کرنے میں مددگار ثابت ہوا۔
ہم میں سے کچھ سماجی کارکن اللہ کی رضا کے لیے، کچھ مریضوں سےبسیکھنے کے لیے، اور کچھ وطن سے محبت میں ان کیمپس پر جاتے ہیں۔ وہ خوشحال اور مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں کو طبقاتی شعور حاصل کر کے صرف اور صرف اسی بنیاد پر پسے ہوئے طبقات کے لیے کام کرنا چاہیے اور ان کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہم انفرادی طور پر کچھ کر نہیں سکتے لیکن اجتماعی آواز منظرنامہ بدل سکتی ہے۔

