تجزیےعلی نقویلکھاری

ُPDM : پاکستان ڈمی موومنٹ۔۔ علی نقوی

2014 کے عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے پر نکلنے سے پہلے میں عمران خان کو سپورٹ کرتا تھا، لیکن جس دن یہ آدمی ڈی چوک کے دھرنے کے کنٹینرز پر کھڑا امپائر کی انگلی تلاش رہا تھا اس دن سے میں نے عمران خان اور پی ٹی آئی سے دوری اختیار کر لی۔۔۔
آج سن 2020 میں جب میں تاریخ کی کتاب کھول کر دیکھتا ہوں تو مجھے بھٹو صاحب سمیت کوئی بھی ایسا نہیں دکھائی دیتا کہ جس کو امپائر کی انگلیوں کی تلاش نہیں تھی، قائد عوام بھٹو کے بارے میں ہمارے استادوں نے بتایا تھا کہ بھٹو کو صرف دو یا کھینچ تان کر اڑھائی سال آزاد حکومت کے ملے لیکن ہمارے استاد شاید عشقِ بھٹو میں یہ بتانا بھول گئے کہ انُ دو سالوں میں آرمی چیف کون تھا؟؟ استاد یہ بھی نہیں بتاتے کہ جنرل گُل حسن کا آخر وہ کونسا قصور تھا کہ جس کی وجہ سے انُ سے مصطفیٰ کھر نے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لے لیا تھا؟؟ آج میاں نواز شریف کے جنرل باجوہ کا سیدھا نام لینے کو نیچے والے جنرلوں کی میاں صاحب کو تھپکی کا شاخسانہ بتانے والے اساتذہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ آخر مصطفیٰ کھر میں اتنی ہمت اور طاقت کہاں سے آ گئی تھی کہ وہ ایک آرمی چیف کی پسلیوں پر پستول تان سکیں اور اگر واقعی وہ یہ ہمت رکھتے تھے تو اس ہمت کا مظاہرہ وہ اس ایک واقعے کے بعد کیوں نہ کر سکے؟؟
میرے نز دیک اس کا سیدھا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ بھٹو صاحب نے جس بَل پر یہ سب کیا کا نام تھا “جنرل ٹکا خان” جی ہاں وہی جنرل ٹکا خان جو “شیر پاکستان” اور “بنگال کے قصاب” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے وہی کہ جس کی سربراہی میں ڈھاکہ میں آپریشن “سرچ لائٹ” ہوا، جس کے اپنے بقول اسُ نے ایک رات میں تیس ہزار بنگالیوں کو قتل کیا اور بنگالیوں کے بقول ایک رات میں سات لاکھ بنگالی مارے گئے، جنرل گُل حسن کے بعد یہ صاحب قائد عوام کے سپہ سالار بنے اور چار سال ذوالفقار علی بھٹو نے وہی کیا جو وہ چاہتے تھے، اور یاد رہے کہ جنرل ٹکا خان محترمہ بے نظیر بھٹو کے گورنر پنجاب بھی رہے۔۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو نے اٹھاسی کا الیکشن کسی ایک پارٹی کو نہیں بلکہ پوری اسٹیبلشمنٹ کو ہرایا تھا لیکن کیا اس میں کسی کو شک ہے کہ وہی بینظیر بھٹو جو کامریڈ ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی تھی، سینٹر آف لیفٹ کی واحد پاکستانی سیاسی جماعت کی سربراہ تھی لیکن وہ فضل الرحمن سے دوپٹے پہنتی رہی اور ہاتھوں میں تسبیح لے کر قائد عوام کی بیٹی نے عوام کو خوب پاگل بنایا، لیکن اس سب ڈرامے کے باوجود بینظیر کی حکومت آدھی مدت بھی نہ پوری کر سکی، ہوا تو صرف یہ کہ نظریاتی لوگ پیپلزپارٹی سے دور ہوتے گئے شاید بی بی کو انکی ضرورت بھی نہیں تھی۔۔
میاں نواز شریف کے تو کیا ہی کہنے اگر لکھنے بیٹھوں تو انسائیکلوپیڈیا لکھ جاؤں لیکن خورشید شاہ صاحب ایک جملہ کہ “اچھے وقتوں میں میاں صاحب گلے پڑتے ہیں اور بُرے وقت میں پاؤں”
میرے جیسا بدحواس آدمی کیا کرے کہ جب عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ لگایا تھا تو میں نے اس پر اعتبار کیا تھا، اور دھوکا کھانے کے بعد میں نے یہ سوچا تھا کہ جو بھی ہو عمران خان ہے تو اسی نسل کا نمائندہ کہ جس کے میاں نواز شریف اور بینظیر بھٹو تھے لہٰذا یہ نسل ہی کرپٹ اور جھوٹی تھی لیکن بلاول ہمارے زمانے کا لڑکا ہے لیکن کیا ہوا کہ جب بلاول اور مریم نے مجھے انقلاب کی ہائی وے بلکہ موٹر وے پر ڈالا اور خود GHQ کے انٹر چینج سے Exit کر گئے تو مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بھائی میں کھڑا کہاں ہوں؟؟
آ ج کیسے بھول جائیں کہ جب زرداری صاحب نے اینٹ سے اینٹ بجانے کی بات کی تھی تو اسکے بعد میاں نواز شریف نے انکا فون تک اٹھانا مناسب نہیں سمجھا تھا؟؟ کیسے بھول جائیں کہ زرداری میاں صاحب کو مولوی نواز شریف کہہ کر مخاطب کرتے رہے ہیں؟؟ کیسے بھولیے کہ کل تک مریم نواز شریف عمران، زرداری بھائی بھائی کہہ رہی تھیں؟؟ کل تک بلاول نواز شریف کو ضیاء الحق کا بیٹا کہہ رہے تھے؟؟ اور یہ بھی کیسے نظر انداز کریں ن لیگ کا سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان آج اس “سیاسی حلالے” کے باوجود کہتا ہے کہ گلگت بلتستان کے الیکشن میں سندھ گورنمنٹ کا پیسہ استعمال ہوا ہے؟؟ سوال تو یہ بھی ہے کہ جنرل باجوہ کو پاکستانیوں کے تمام مسائل کی وجہ بتانے والے میاں نواز شریف یہ بھی بتائیں کہ یہ بات انکو دو سال گزر جانے کے بعد سمجھ میں آئی؟؟ کیا انکو یہ بات الیکشن کے دنوں میں یا ان خاموشی کے دو سالوں میں نہیں معلوم تھی کہ جب وہ اور مریم منہ میں دہی جما کر بیٹھے ہوئے تھے؟؟ میاں صاحب کی اس نئی حریتی سوچ کا لوگوں نے ایک ہی مطلب نکالا کہ چونکہ نیچے والے جنرلز باجوہ صاحب کی ایکسٹینشن سے خائف ہیں لہٰذا انہوں نے میاں صاحب کو یہ اشارہ کیا کہ اب آپ سیدھا نام لیں، اب ا گر اس بات میں رتی بھر بھی سچائی ہے تو ہر شخص پوری ایمانداری سے جواب دے کہ کیا PDM اور موجودہ حکومت ایک ہی سکے کے دو رخ نہیں ہیں؟؟ آخر وہ کون سے ایسے عظیم مقاصد ہیں کہ جن کو پانے کے لیے سینئر آف لیفٹ کی پیپلز پارٹی ہر بار ایکسٹریم رائٹ کے ناخدا مولانا فضل الرحمن کے پیچھے پیچھے چلنا شروع کر دیتی ہے؟؟ کیونکہ ہم نے دیکھا کہ یہی فضل الرحمن تھے کہ جنہوں نے بینظیر بھٹو کو دوپٹے پہنا کر بہن بنایا تھا، یہی تھے کہ جن کو زرداری بھی اپنا خاص دوست مانتے تھے اور آج وہی مولانا ہیں کہ جن کی پارلیمنٹ میں ایک آدھی سیٹ ہے جبکہ اسی نوے سیٹوں والی ن لیگ اور سندھ گورنمنٹ والی پیپلزپارٹی انکے سربراہی میں حکومت گرانے کی تاریخ پہ تاریخ دے رہی ہے، کیا بلاول اور مریم یہ بتائیں گے کہ مولانا کس کارکردگی کی بنیاد پر PDM کی سربراہی کر رہے ہیں؟؟ کیا بلاول کے پاس اس بات کا جواب ہے کہ انکے اور مولانا کے نظریات میں کیا مشترک ہے؟؟ کیا اس حکومت کے خاتمے کا پارلیمنٹ سے باہر والا کوئی بھی طریقہ مریم نواز کے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی نفی نہیں ہے؟؟ جو کچھ آج اپوزیشن کرنے نکلی ہے وہ اس سے کتنا مختلف ہے جو کل عمران خان اور طاہر القادری کرنے نکلے تھے؟؟ آج پیپلز پارٹی اور اسکے اعتزاز احسن کہ جنہوں نے 2014 میں دو تقریروں سے عمران خان کا دھرنا پنکچر کیا تھا اور نواز شریف کے ساتھ تَن کر کھڑے ہوگئے تھے آج اس سارے عمل کو کیسے دیکھتے ہیں؟؟ کل تک PTM( پشتون تحفظ موومنٹ) کے حق میں بولنے والے بلاول بھٹو آج اس بات پر کیوں خاموش ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے محسن داوڑ کے PDM کے اجلاسوں میں شرکت ہر پابندی لگا دی ہے؟؟
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ایک بار پھر دوہراتا ہوں کہ اگر بلاول بھٹو کہ جنہوں نے اپنے BBC والے انٹرویو میں اپنے آپ کو میاں نواز شریف کے بیانیے سے الگ کیا یہ بتائیں کہ اگر آپ عمران خان کو سمجھتے ہی سلیکٹڈ ہیں تو آپ عمران خان پر تنقید کس بنیاد پر کرتے ہیں؟؟ آپکے اس فارمولے کے تحت تنقید تو واقعی سلیکٹرز پر ہونی چاہیے جو بیانیہ بلاول بھٹو نے پہلے دن پارلیمنٹ میں تقریر کرکے بنایا تھا تو اس کا منطقی انجام تو وہی ہونا چاہیے جو میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں یعنی تمام بربادی کے موجب تو جنرل باجوہ ہوئے؟؟ لیکن جب بھی یہ بات کرنے کا وقت آتا ہے بلاول لکنت کا شکار ہو کر کبھی ایران جاتے ہیں تو کبھی توران اور کیوں نہ جائیں آخر سندھ کی حکومت کوئی معمولی چیز تو ہے نہیں….
بات کرتے ہیں PDM کی میرے نز دیک اس ہجوم اور اسُ ہجوم میں جو کہ 2014 میں نکلا تھا کوئی فرق نہیں بلکہ یہ زیادہ بدتر ہے وجہ یہ کہ 2014 میں نکلنے والا عمران خان ایک غیر سیاسی شخص تھا کہ جس کو سیاسی شعور اور سیاسی ماحول چھو کر نہیں گزارا تھا کہ اس نے طاہر القادری جیسے کو بھی ساتھ ملانا مناسب سمجھا لیکن یہ جو نکلے ہیں سیاسی لوگ ہیں، نسل در نسل سیاست کر رہے ہیں لیکن حصول اقتدار کے لیے اس حد تک چلے جائیں گے افسوسناک ہی نہیں شرمناک بھی ہے،
میں بلاول اور مریم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک ساعت کو فرض کر لیتے ہیں کہ آپ نے عمران خان کی حکومت گرا لی، پھر؟؟ الیکشن ہوگئے اور آپ میں سے کسی ایک کی یا آپ دونوں کی مخلوط حکومت بن گئی اب یہ بتائیں کہ آپ کے پاس کیا لائحہ عمل ہے؟؟ کیونکہ ابھی تک تو آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جس تباہی پر عمران خان نے ملک کو پہنچا دیا ہے وہاں سے واپس آپ کیسے اور کتنی دیر میں لائیں گے؟؟ آپ کے پاس کیا حل ہے اس مہنگائی کا؟؟ بے روزگاری کا؟؟ تباہ حال معیشت کا؟؟ کیا گارنٹی ہے کہ آپ الیکٹڈ ہوں گے؟؟ کیونکہ آپ دونوں کے بزرگ بھی کئی بار سلیکٹ ہوئے اور جس بار کسی ایک کے بزرگ کی سلیکشن بورڈ سے منظور نہ ہو پاتی تھی تو دوسرے کے بزرگ سلیکشن بورڈ کو یہ یقین دہانی کر رہے ہوتے تھے کہ ہم آپکی اچھی خدمت کر سکتے ہیں…… میں 2014 میں بھی ایک ہی بات کہتا تھا کہ اگر عمران خان نواز شریف سے استعفیٰ کے بجائے کام کرنے کی ڈیمانڈ کرے تو کیا ہی اچھا ہو، مثلاً آج اگر PDM اشیائے ضرورت کی ایک فہرست جاری کرے اور یہ کہے کہ ہم حکومت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہیں کہ ان ان چیزوں کی قیمتیں یہاں تک لائی جائیں مثال کے طور چینی پچاس یا ساٹھ روپے پر لائی جائے، آٹا چالیس روپے پر لایا جائے وغیرہ وغیرہ اور اگر یہ سب نہ کیا گیا تو ہم ملک بند کر دیں گے اور اس حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے تو میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ عمران خان خود ہی حکومت چھوڑ جائے، یہاں ہر آدمی یہ مطالبہ کیوں کرتا ہے کہ اسکو اقتدار ملے گا تو مسائل حل ہوں گے جبکہ اس کے پاس مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل بھی نہیں ہوتا.. اگر بلاول کے نزدیک بہترین انتقام جمہوریت ہے تو بلاول کو خبر ہو کہ آپ عمران خان کی جعلی حکومت گرا کر بھی جمہوریت کو نقصان پہنچائیں گے، اگر مریم ووٹ کی عزت بحال کرانا چاہتی ہیں تو انکو اس حکومت کو کام کرنے پر مجبور کرنا چاہیے نہ کہ اسکو گھر جانے پر، مرحوم حاصل بزنجو جب سینیٹ کا الیکشن ہارتے ہیں تو فرماتے ہیں کہ یہ جنرل فیض کے لوگ تھے جنہوں نے انکو ووٹ نہیں دیا لیکن ان کالی بھیڑوں کا نام نہیں بتاتے؟؟ کل وفات پانے والے مولانا خادم رضوی دنیا سے تو چلے جاتے ہیں لیکن وہ نام نہیں بتاتے کہ جنہوں نے انکو فیض آباد دھرنے پر بٹھایا تھا؟؟ ہمارا یہی مطالبہ بلاول سے بھی ہے کہ اگر عمران خان سلیکٹڈ ہے تو اسکو جس نے اس کو سلیکٹ کیا اسکا نام بھی بتائیں
میں تاریخ میں آئینے میں دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ اگر عمران خان کی حکومت گر بھی گئی تو کیا ہوگا… ہو گا یہ کہ اراکین PDM عوام سے کہیں گے کہ ملک ستر سال میں اتنا برباد نہیں ہوا جتنا ان عمران خان کے دو سالوں میں ہوگیا ہے عوام کو صبر کرنا پڑے گا اس بحرانی کیفیت سے ملک کو نکالنے کے لیے ہمیں دو تہائی اکثریت بھی چاہیے اور کم از کم دس سال بھی ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ دو کام اس ملک میں کبھی نہیں ہو سکتے لہٰذا عمران خان کی طرح آپ بھی ملبہ ڈالیں گے گذشتہ حکومت پر اور عوام کا مز ید برا حال ہوگا عدم برداشت بڑھے گی، بے یقینی کی صورتحال مز ید گمبھیر ہوگی کیونکہ وہ PDM جو آج محسن داوڑ کو برداشت نہیں کر پا رہی کل اقتدار ملنے کے بعد کیا کرے گی ہم عوام جانتے ہیں؟؟ وہ کون سا فارمولہ ہے کہ جس سے بلاول اور مریم کل اقتدار ملنے کے بعد مولانا فضل الرحمن کی بلیک میلنگ سے بچ سکیں گے؟؟ اس ملک کا المیہ ہی یہ ہے کہ یہاں کی کوئی بھی سیاسی تحریک امپائر کی انگلی اور مولوی کی تسبیح کے بغیر نہیں چل سکی اور یہی دو عناصر ملے ہیں تو PDM وجود میں آئی ہے…
میں ایک سیاسیات کا طالبعلم آج ایک بار پھر بلاول اور مریم کی اس ڈمی تحریک سے اعلانِ بیزاری اسُی اصول پر کرتا ہوں جس پر میں نے عمران خان سے 2014 میں کیا تھا، مجھے گیٹ نمبر چار پر کھڑے ہر شخص سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی شیخ رشید سے مجھے اسٹیبلشمنٹ کے ہر مہرے سے گھن آتی ہے چاہے وہ بینظیر کا بیٹا ہو یا نواز شریف کی بیٹی

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker