عمار غضنفرکالملکھاری

حق کی فتح مبین اور ہمارے دیو بندی و بریلوی اثاثے ِِ۔۔ عمار غضنفر

فیض آباد دھرنے کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹی وی چینلز پر براجمان “دفاعی تجزیہ کار” اور اہلِ ایمان اینکر حضرات قوم کو مسلسل یہ سمجھا رہے ہیں کہ ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے دھرنا امن و امان سے اختتام پذیر ہوا اور فوج کی مداخلت اور فریقین کے مابین ہونے والے معاہدے میں فوج کے کردار کے باعث ملک فساد اور انتشار سے بچ گیا. مگر … یہ مگر ہی تو ہر فساد کی جڑ ہے. کچھ انتشار پسند ذہن ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں ایسے ڈراپ سین ہضم نہیں ہوتے ، وہ ہمیشہ کسی سادہ معاملے میں سے اگر اور مگر نکال لاتے ہیں. عوام کے معصوم ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہیں اور بے یقینی کی فضا پیدا کر کے اپنی دانشوری کی دکان چمکاتے ہیں.
اب دیکھیے کہ کیسی کیسی مین میخ نکالنے لگے. پہلے تو دھرنا قائدین کے جوشِ خطابت اور دشنام طرازی پر معترض تھے. پھرجب ان کا منہ بند کرنے اوربقول ان کے قوم کے نونہالوں کا جو اخلاق اور زبان خراب ہو رہا تھا اسے بچانے کے لیے جب ان سے صلح کی گئی تو حکومت کے لتے لینے لگے کہ حکومت نے دھرنے والوں کے آگے گھٹنے کیوں ٹیک دیے. پھر فوج کے ثالث بننے پر اعتراض. بجائے اس کے کہ شکرگزار ہوتے کہ افواجِ پاکستان نے ایک مرتبہ پھر تاریخی کردار ادا کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا. اب جو رینجرز کے میجرجنرل صاحب کی رہا ہونے والے افراد کو “زادِ راہ” بانٹنے کی ویڈیو آئی تو لگے ادھم مچانے. خود سوچیے صاحب! اب دھرنے والے تو اٹھنے کو تیار نہ تھے. وہ اگر خدا خدا کر کے واپسی پر راضی ہو ہی گئے تو کیا جیب میں کرایہ نہ ہونے کے باعث انہیں ادھر ہی سرکاری مہمان بنا کر بٹھائے رکھتے ؟ فوج کا معاملہ تو جہاں بھی آئے ان نام نہاد دانشوروں کا رویہ تو نیکی برباد اور گناہ لازم والا ہو جاتا ہے . اب اگر صحافی لفافے لے سکتے ہیں تو مظاہرین کو لفافے بانٹنے میں کیا مضائقہ ہے. اور پھر دھرنے کے قائدین نے ہمارے سپہ سالار کی خصوصی کاوشوں کا شکریہ کیا ادا کر دیا، انہیں تو جیسے پتنگے ہی لگ گئے.
اورکچھ ہاتھ نہ آیا تو دھرنے کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی شقوں کے بخیے ادھیڑنے لگے. انہیں بھی اپنی دکان چمکانے کے لیے کچھ نہ کچھ تو چاہیے ہی نا. دیکھیں وزیرِ قانون کا استعفیٰ تو لازم تھا ہی، مگر اب یہ بھی کیا ظلم تھا کہ ایک اسلامی ملک میں لاؤ ڈ اسپیکر جیسے مؤ ثر تبلیغی آلے پر پابندی لگا رکھی تھی. کیا اندھیر نگری ہے کہ ناچ گانے تو کھلم کھلا ہوں اور کوئی خطیب اگر باآوازِ بلند شعائرِاسلام کا پرچار کرے اور اہلِ علاقہ کے ساتھ ساتھ مسجد میں حاضری کی سعادت سے محروم گھر کی چاردیواری میں مقید مستورات کا ایمان بھی تازہ کرنا چاہے تو اس کو جرمانہ کر دیا جائے. بھئی یہ تو دین کا پیغام ہے. نیکی کی دعوت ہے جتنے کانوں تک پہنچ پائے ، باعثِ برکت ہی ہے نا. ادھر روز یہ خبریں آتی تھیں کہ نصابِ تعلیم کو سیکیولر بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں. اللہ اللہ. مملکتِ اسلامیہ میں ایسی جسارت. اب کم از کم دو اہلِ ایمان نونہالانِ قوم کی تعلیم و تربیت کے نگران تو ہوں گے تا کہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری آئندہ نسلیں بھی محمود غزنوی کو بت شکن اور احمد شاہ ابدالی اور نادر شاہ کو مجاہدِ اسلام ہی تسلیم کرتی رہیں اور ٹیپو سلطان اور قائدِاعظم کی داڑھی والی تصاویر فیس بک پر اپ لوڈ کرتی رہیں. ورنہ وہ زمانہ دور نہ تھا (میرے منہ میں خاک) کہ اورنگ زیب عالمگیر کو ظالم قرار دے کر داراشکوہ کو ہماری نئی نسل کے لیے ہیرو قرار دے دیا جاتا.
اور سب سے دل موہ لینے والی بات تو 9 نومبر کی چھٹی کی بحالی ہے. چھٹیاں تو ویسے بھی جتنی ہوں کم ہیں مگر کیا ستم ہے کہ قوم اپنے قومی شاعر کا دن نہ منائے اور کاروبارِ دنیا کو اس عظیم شخصیت کی یاد منانے پر ترجیح دے. غرض یہ کہ معاہدے کی سب شرائط ہی حق کی فتح مبین اور باطل کی پسپائی کی دلیل ہیں. قوم کو توخوش ہونا چاہیے کہ جہادی مولویوں سے جان چھوٹی اور دم درود والے مولویوں کے زمانے کی آمد آمد ہے. اوراس نیم دانشور مخلوق کا خبثِ باطن ملاحظہ فرمائیے کہ بجائے قوم کو مبارکباد دینے کے اس تبدیلی کے سرے بھی بدلتے عالمی منظر نامے میں اسٹیبلشمنٹ کی بدلتی اسٹریٹجک پالیسی سے ملانے لگے. بھئی ہمیں تو تزویاتی گہرائی سے سروکار ہے ، یوں نا تو یوں سہی. اثاثے تو اثاثے ہوتے ہیں چاہے دیوبندی ہوں یا بریلوی.
اور آخر میں بات ہو جائے دھرنا قائدین کے جوشِ خطابت کی جن پر بدزبانی اور گالم گلوچ کا الزام لگا کر ان کے اعلیٰ و ارفعٰ مقصد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی ہے. دیکھیے بات یہ ہے کہ گالی دے کر بات کرنا ہمارے عوامی کلچر کا حصہ ہے اور بالفرض آپ کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں اور دشنام طرازی آپ کی طبع نازک پر ناگوار گزرتی ہے تو آپ ان کی تقاریر میں گالیوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے صرف متن پر توجہ مرکوز کرتے. اور اگر آپ ایسا نہ کر سکے تو یہ تو صریحاً آپ کے جذبہءایمانی کی کمزوری ہے. ویسے بھی بڑے بزرگ کہا کرتے ہیں کہ گالی کا برا نہیں مناتے. گالی تو ہوا کی مانند ہوا کرتی ہے. آتی ہے اور چلی جاتی ہے. باقی اب بھی کسی کو اپنی دانشوری دکھانے کا شوق ہے تو میں اسے ایک ہی بات کہوں گا. تہاڈی…..

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker