امر جلیلکالملکھاری

امر جلیل کا کالم:جوگی مت جا، مت جا جوگی

دلیپ کمار کے حوالے سے باتیں کرتے ہوئے پچھلے قصے کی آخری سطر میں،میں نے لکھا تھا کہ دلیپ پچاس برس سےزیادہ عرصے تک NAB کے سربراہ رہے تھے۔ میں سمجھتا ہوں دلیپ آخری ایام تک NAB کے سربراہ تھے۔ کالم شائع ہونے کے بعد کسی نے فون پر مجھے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا۔ ’’پھنے خان مت بنو۔ نیب ایک سرکاری ادارہ ہے۔ ایک غیر ملکی وہ بھی دشمن ملک کا شہری پاکستان کے ایک حساس ادارے کا سربراہ کیسے بن سکتا ہے۔ تم نے جان بوجھ کر ایک سرکاری ادارے کو بدنام کرنے کی بھونڈی حرکت کی ہے۔ تم نے اپنے لئے گڑھا کھودا ہے۔‘‘ میں نے تھر تھر کانپتے ہوئےکہا۔ ’’سر، نیب سے میری مراد ہے نیشنل ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ۔ دلیپ کمار نیشنل ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ National Association of the Blind،مخفف NAB کے سربراہ تھے۔‘‘
کوئی ایسے ہی دیوداس نہیں بنتا۔ اگر دل میں بے انتہا ہمدردی، رحم، احساس اور کسی مقصد کیلئے زندگی وقف کردینے کا جذبہ نہ ہو، تو پھر آپ دیوداس نہیں بن سکتے۔ دیوداس ایثار کی علامت ہے۔ وہ ایثار چاہے پارو یعنی پاروتی کیلئے ہو، یا کسی اعلیٰ اور اُتم مقصد کے لئے ہو، زندگی وقف کرنے والے کے عالی منصب، عالی ظرف اور عظمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ وہ اپنے مقصد حیات کو بندگی کا درجہ دے دیتے ہیں۔ دلیپ بے حد حساس اور دور تک دیکھنے والی نگاہ رکھتے تھے۔ وہ معاشرے میں پسے ہوئے، دکھی اور پس ماندہ لوگوں کو دیکھ سکتے تھے۔ ان کو پہچان سکتے تھے۔ وہ ان کے لئے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ اور پھر جب وہ بدنصیب لوگوں کے لئے کچھ کرنے کے قابل ہوئے، تب وہ ان لوگوں کے لئے جو کچھ کرتے تھے، اس کی خبر کسی کو ہونے نہیں دیتے تھے۔ کبھی کبھی حالات اس قدر موافق ہو جاتے ہیں کہ ابتدائی عمر میں قدرت کی دین، حساسیت کو، اور حساسیت کی حد کو وسعت مل جاتی ہے۔ دیوداس فلم سے بہت پہلے دلیپ کمار کو ضیا سرحدی کی فٹ پاتھ جیسی فلموں میں کام کرنے کے مواقع ملے تھے۔ ضیا سرحدی کی فلم فٹ پاتھ پسے ہوئے طبقوں کی ترجمانی کرنے والی فلم تھی۔ اس فلم میں ضیا سرحدی نے استحصالی قوتوں کو چیر پھاڑ کر، کھول کے رکھ دیا تھا۔ ایسی فلموں میں دلیپ کی غیر معمولی حساسیت کی تربیت ہوئی تھی۔ فلم شکست میں، گائوں کا نوجوان رام شہر سے پڑھ لکھ کر برسوں بعد ڈاکٹر رام سنگھ بن کر لوٹ آتا ہے۔ گائوں کے کسانوں کی ابتر حالت تھی۔ ایک طاقتور زمیندار اور اس کی بیوہ بہن نے کسانوں کا جینا دوبھر کررکھاہے۔ زمیندار کی بہن وہی عورت ہے جس سے موہن گائوں چھوڑنے سے پہلے محبت کرتا تھا۔ اپنی بچھڑی ہوئی محبت سے تصادم ڈاکٹر موہن یعنی دلیپ کو توڑ ڈالتا ہے۔ اس نوعیت کی کہانیوں والی فلموں نے دلیپ کے وجود کو جھنجھوڑ ڈالا۔ دکھ کی بھر پور عکاسی اور ترجمانی کرنے کے لئے دلیپ کو کامل کر دیا۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف دی بلائنڈ کے لئے ایسی ایسی سننے سے واسطہ رکھنے والی ایجادیں کیں کہ ماہرینِ تعلیم حیران ہوگئے تھے۔ آپ جب تک اندر سے آمادہ نہیں ہوتے، تب تک آپ اپنے مقصد کے لئے زندگی وقف نہیں کر سکتے۔ نابینا بچوں کی تعلیم، تربیت اور نشوونما میں دلیپ اس قدر محو رہتے تھے، لگتا تھا نابینا بچے ان کے اپنے بچے تھے۔
کچھ عرصے قبل مجھے جےپور جانے کا اتفاق ہوا تھا۔ تاریخی مقامات اور ثقافتی ادارے دکھاتے ہوئے میرے میزبان مجھے کینسراسپتال دکھانے لے گئے ۔ خیراتی اسپتال تھا۔ مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔ بہت کم اس قدر صاف ستھرے اور نظم و ضبط سے چلنے والے اسپتال دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کثیر منزلہ اسپتال تھا۔ گرائونڈ فلور پر او پی ڈی اور ایمرجنسی کے شعبے تھے۔ اوپر کی منزلیں ان ڈور مریضوں کے لئے تھیں۔ آخری منزل ایسے مریضوں کے لئے وقف تھی جو زندگی کے آخری مراحل سے گزر رہے تھے۔ جدید لفٹ سے مجھے اوپر لے جاتے ہوئے میرے میزبانوں نے بتایا کہ وہ لفٹ دلیپ کمار نے ڈونیٹ کی تھی۔ الوداعی لمحوں سے گزرنے والے مریضوں کے وارڈ میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔ میزبانوں نے بتایا کہ دلیپ کمار اکثر یہاں آتے تھےاور مریضوں کے ساتھ وقت گزارتے تھے۔ وہ پہروں مریضوں کے ساتھ بیٹھے رہتے تھے، خاص طور پر ان مریضوں کے پاس بیٹھے رہتے تھے جو آخری ایام سے گزر رہے ہوتے تھے۔ مریض چاہے کتنے ہی درد سے دوچار کیوں نہ ہوں، وہ دلیپ کو دیکھ کر تھوڑی دیر کے لئے اپنی ناقابل برداشت تکلیف بھول جاتے تھے۔ میرے جیسے لوگوں کے لئے جس بات نے دلیپ کمار کو ہمارے لئے دائمی ہیرو بنا دیا تھا، وہ تھی ان کی انکساری، وہی انکساری جو امتیاز احمد میں تھی۔دلیپ پیدائشی طور پر ذہین تھے، انٹلیکچوئل تھے۔ اس دور کے بین الاقوامی سیاسی اور جنگ و جدل سے بھر پور ماحول نے دلیپ کے قدرتی فہم و فراست کو جلا بخشی اور پختہ کیا۔ دلیپ کی پہلی فلم جوار بھاٹا ریلیز ہونے کے ایک سال بعد امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔ دوسری جنگ عظیم اختتام کو پہنچی تھی۔ انسانی تاریخ کی سب سے ہولناک جنگ جیتنے کے باوجود انگریز کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔ انگریز کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لئے مہم زوروں پر تھی۔ جنگ میں روس کی کامیابی نے ہندوستان کے نوجوانوں کو بہت متاثر کیا تھا۔ خود کو کمیونسٹ اور کامریڈ کہلوانے کا رجحان فیشن کے طور پر نوجوانوں نے اپنا لیا تھا۔ ذہنی طور پر تیز نوجوانوں کے کچھ گروہ خود کو ملحد، دہریا اور ناستک ظاہر کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں فلم آئی تھی، جوگن، فلم جوگن میں دلیپ کمار نے ایک ناستک نوجوان وجے کا کردار کیا تھا۔ ناستک وجے کو مندر میں بھجن گانے والی جوگن میرابائی سے محبت ہوجاتی ہے۔باقی باتیں ہونگی اگلے منگل کے روز۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker