آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم اڑیں گے پرزے: سے نو ٹو سموگ!۔۔آمنہ مفتی

اکتوبر، نومبر کے مہینوں میں لاہور کا جوبن دیکھنے والا ہوتا تھا۔ سورج کی تمازت کم پڑ چکی ہوتی تھی۔ کالجوں، یونیورسیٹیوں کے طالب علم اپنے اپنے گھروں سے لوٹ کے آ چکے ہوتے تھے۔ لارنس گارڈن میں ہار سنگھار کے درخت پہ بہار ہوتی تھی۔ گول گپے والے کے پاس اکثر نوجوان جوڑے کھڑے نظر آتے تھے۔
لڑکیاں عموماً لیڈی ہیملٹن کے سیاہ برقعے اور جارجٹ کا نقاب ڈالے نظر آتی تھیں۔ چوک میں کھڑا پولیس والا، انہیں کینہ توز نظروں سے گھورتا تھا، مگر وہ اس کے وجود سے بے نیاز ہنسے جاتی تھیں۔ فٹ پاتھ پہ جیسے ان کی ہنسی کے نقرئی، چمپئی پھولوں کا ڈھیر لگ جاتا تھا۔ میں جب بھی وہاں سے گزرتی تھی، لمحہ دو لمحہ رک کے دیکھتی تھی اور کبھی ایسا نہ ہوا کہ مجھے کوئی نقاب پوش لڑکی نظر نہ آئی ہو۔ ان میں سے اکثر لڑکیاں باقاعدہ پردہ نہیں کرتی تھیں۔ یہ اہتمام صرف خاص ملاقاتوں کے لیے ہوتا تھا۔


کینٹ کی طرف نکل جائیں تو رات کی رانی کی خوشبو غدر بپا کر رہی ہوتی تھی۔ بیڑی پتے کے خشک پتے، پیروں سے لپٹتے تھے اور آتی جاتی ریلوں کی سیٹیاں، گھوڑوں کی تازہ ٹھنکی نعلوں کی کنکریٹ پہ پڑنے کی موسیقی سب ایک مکمل سمفنی کی طرح سنائی دیتی تھی۔
ایک ایسی سمفنی جس میں درختوں کی شاخوں کا خزاں کی ہوا میں جھولنا، پتوں کا فٹ پاتھوں پہ اجنبی لوگوں کی قدموں تلے چرمرانا، چاندنی راتوں کی سرد نیلگوں روشنی، گلہریوں کا منڈیروں پہ چرچراتے ہوئے دوڑنا، باغ جناح کے درختوں پہ لٹکتی بڑ باگلوں کے پروں کی مہیب پھڑ پھڑاہٹ، ماڈل ٹاو¿ن پارک اور جیلانی پارک میں رات کو کھلنے والے پھولوں کی مہک، فواروں کی چھپک، گیندے کے پھولوں کا رنگ، داتا دربار کے باہر بکتے مکھانوں کی مٹھاس، بی بی پاکدامن کے تبرک کی حلاوت، نہر کے پانیوں کی ترل ترل، گوریوں کی چہکار، سودا بیچنے والوں کی صدائیں، گاڑیوں اور بسوں کے انجنوں کی مسلسل آواز اور محمود بوٹی کے ویرانے سے اٹھنے والی کتوں کی عنیف عف عف بھی شامل ہوتی تھی۔


اکتوبر ،نومبر اب بھی آتے ہیں۔ آتے رہیں گے کیونکہ وقت کی اس چکی کو فی الحال ایسے ہی چلنا ہے۔ مگر صاحبو! ہمارا لاہور لٹ گیا ہے۔ کل ہی کا ذکر ہے کہ لارنس گارڈن کے باہر گول گپوں کی ریڑھی کے پاس سے گزرتے ہوئے یوں ہی نظر ڈالی۔ چہروں پہ نقاب اب بھی تھے۔ مگر یہ نقاب صرف لڑکیوں کے چہروں پہ نہیں تھے۔ لڑکے بھی منہ چھپائے ہوئے تھے۔ لڑکے ہی کیا، گول گپے بیچنے والا اور گلاس پلیٹیں پکڑانے والا لڑکا سب نقاب پوش تھے۔ چوک میں کھڑا پولیس والا بھی۔
جی ہاں وہ خرانٹ، پیار کا دشمن پولیس والا بھی نقاب اوڑھے ہوئے تھا۔ غور سے دیکھا تو وہی نہیں، کتنے ہی موٹر سائیکل سوار، پیدل، باغ کی روشوں پہ ٹہلتے ہوئے لوگ، ریس کورس کی طرف سے گھوڑے لے کے آتے سائیس سب کے سب، منہ چھپائے ہوئے تھے۔ مگر جارجٹ کے سرسراتے، سرمگیں پراسرار نقاب سے نہیں بلکہ فضائی آلودگی سے بچنے کے لیے بنائے گئے میڈیکیٹڈ ماسک سے۔
میں نے غور سے دیکھا گول گپے کھانے کے لیے آیا ہوا جوڑا مشکل سے سانس لے رہا تھا، جیسے ساحل پہ پڑی کوئی مچھلی منہ کھول کھول کے سانس لیتی ہے اسی طرح۔ ان کے چہرے زرد تھے اور آنکھوں میں بے رونقی تھی۔ اچانک لڑکے نے کھانسنا شروع کیا اور تھوک کا بڑا سا غلفہ، فٹ پاتھ پہ عین اس جگہ تھوک دیا جہاں، کئی برسوں سے ہنسی کے نقرئی اور چمپئی پھول گرا کرتے تھے۔ لڑکی بے حسی سے کھڑی تھی۔ ہم ایک بے چہرہ شہر میں کھڑے تھے۔
ہمارا شہر لاہور، اپنے باغوں، کھانوں، ادیبوں، شاعروں، محفلوں، عمارات اور نہروں، فواروں سمیت، سال کے پانچویں موسم میں گھرا ہوا تھا۔ پانچواں موسم، سموگ یا دھندھواں کا موسم۔
لاہور کی فضا دنیا کی مغلظ ترین فضا ہے اور ایک سانس ایسی زہر بھری ہے جیسے بائیس سگریٹ اکٹھے پی لیے جائیں۔ لاہور پہ دھندھواں یا ایشین براون کلاوڈ مسلط ہے۔ ہم نیم مردہ مچھلیوں کی طرح ایک ایک سانس کو پھڑک رہے ہیں۔


یہ پہلا سال نہیں ہے۔ پچھلے کئی برس سے ہم اس آفت کا شکار ہوتے آرہے ہیں۔ یہ ایمرجنسی کی صورت حال ہے مگر لاہور کا کوئی پرسان نہیں، کوئی والی وارث نہیں۔ بچے اس زہریلی ہوا میں سکول جانے پر مجبور ہیں۔ بیماروں، بوڑھوں، دمہ اور الرجی کے مریضوں کا حال الگ خراب ہے۔
پالتو جانور ہراساں ہیں اور آسمان پہ اڑتے چیل کوے تک ہوا کے زہر سے ڈر کے شاخوں پہ منقار زیر پر بیٹھے ہیں مگر راوی کم بخت پھر بھی چین ہی چین لکھ رہا ہے، ذرا جو کسی کے کان پہ جوں تک رینگی ہو۔ بہت ہوگا تو فون پہ ایک ٹیکسٹ میسیج آ جائے گا، ’سے نو ٹو سموگ‘ اور راوی پھر چین ہی چین لکھنے لگے گا۔ خدا اس راوی کو سمجھے اس کا قلم چھینے اور ہمیں اس سموگ کے عذاب سے نجات دلائے، آمین!
(بشکریہ:بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker