آمنہ مفتیکالملکھاری

آمنہ مفتی کا کالم : خرگوش یتیم نہ ہو ائے کہیں!

امریکہ میں جارج فلائیڈ کا سانحہ بپا ہونے سے پہلے اور شروع کے دنوں میں جب بات اتنی بگڑی نہ تھی، صدر ٹرمپ اور مائیک پومپیو، کورونا وائرس کی وبا کے سلسلے میں چین کی طرف ڈھکے چھپے اشارے کر رہے تھے۔
چین کے اخبارات میں جوابی وار کیے جا رہے تھے۔ ذہن میں بار بار تارڑ صاحب کا ناولٹ ‘فاختہ’ آ رہا تھا۔ جس میں فینسی ڈریس کی ایک رات، فاختہ اور خرگوش کی عقاب اور ریچھ کے ہاتھوں گت بنتے دیکھ کر ہاتھی کے ٹھٹھے لگانے پر ایک بے بس اژدها بار بار پھنکارتا تھا کہ ایک بار میرے دانت نکلنے دو پھر دیکھنا۔
ساتھ ہی ساتھ سرد جنگ کے ابتدائی برس بھی ذہن میں آ رہے تھے۔ میخائل گوربا چوف اور ڈونالڈ ٹرمپ کی شکلیں آپس میں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔
تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اصل میں ہم جسے تاریخ کہتے ہیں وہ انسانی سماج کا ماضی ہے اور انسان ارتقا کی جن منزلوں پر دو ہزار سال پہلے پہنچا، ان سے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھا۔
انسانی ذہن وہی ہے جو ازمنہ وسطی میں تھا۔ انسان کے خوف، اس کے توہمات، اس کے نظریے، اس کی ترجیہات، سب کی سب زیادہ نہیں بد لیں۔
نوآبادیاتی دور کے بعد سرد جنگ ہوئی اور اس جنگ کے خاتمے پر امریکہ واحد سپر پاور بن کے ایک احمق ارنے بھینسے کی طرح دنیا میں دندناتا رہا۔ نیو ورلڈ آرڈر کیا تھا، ہماری نسل خوب بھگت چکی ہے۔ اپنے آنگن میں پرائی جنگ میں اپنی تین نسلیں جھونک کے اب بھی نہ سمجھتے تو کب سمجھتے؟
امریکہ میں نسل پرستانہ رویہ اور اس رویے کے خلاف احتجاج کی ایک پوری تاریخ ہے لیکن آج وہاں جس قسم کے پر تشدد مظاہرے نظر آ رہے ہیں ان کی نظیر کم ہی ملتی ہے۔
جمہوری نظام میں احتجاج بھی ہوتا ہے اور حکومت اپنی رٹ قائم رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہے مگر دونوں طرف سے توازن اگر ذرا بھی بگڑ جائے تو صورت حال خانہ جنگی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
ایسی مثال ہمیں پاکستان میں بنگال کی تحریک آزادی میں نظر آتی ہے اور ذرا مزید پیچھے جائیں تو ہندوستان کی تحریک آزادی میں مسلمانوں اور ہندوؤں کا آٹھ سو سال ساتھ رہ کر اچانک ایک دوسرے سے شدید متنفر ہو جانا۔
یہ ذرا بڑی مثالیں ہیں۔ کم درجے پر ایوب خان کے خلاف طلبا تحریک میں تشدد کا عنصر اور اس تحریک کی کامیابی دیکھ لیجیے۔ فوجی آمر اور فوجی حکومتوں کو سالہا سال بھگتنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ پس پردہ کون تھا اور کیا تھا۔
خیر، یہ تو سب مفروضے ہیں جن کی بنیاد، ظاہر ہے مشاہدے اور گزرے ہوئے واقعات اور موجودہ عالمی صورت حال ہے۔ یہ درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی لیکن ایک بات حقیقت ہے اور وہ یہ کہ کوئی بھی قوم بلاوجہ دنیا پر راج نہیں کرتی۔
وہ قومیں جن کا بچہ بچہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا جانتا ہو، وہی فاتح عالم اور سپر پاورز بنتی ہیں۔
سانحہ ساہیوال اس سے کہیں زیادہ درد ناک واقعہ تھا۔ زہرہ شاہ کی تشدد سے موت دل ہلا دینے والا سانحہ ہے۔ مگر سوائے سوشل میڈیا پر چند دبی دبی آوازوں کے کوئی آواز نہ اٹھی۔
ہاں ہم بھی باہر نکلتے ہیں، وبا کے ان دنوں میں جان ہتھیلی پر رکھ کے مگر لان کا نیا جوڑا لینے، دوست سے ملنے، رات کو یوں ہی گھومنے اور چھپ چھپا کے کسی شادی میں شریک ہونے۔
یہ بھی کچھ برا نہیں، زندگی کسی نہ کسی طور تو بسر کرنی ہے۔ تارڑ صاحب کا ناولٹ پھر یاد آ گیا۔ اس میں خرگوش جب بھی عقاب کو فاختہ سے چھیڑ خانی پر کچھ کہنے کی کوشش کرتا تھا، اسے گاجر پیش کر دی جاتی تھی۔ وہ اپنے کان سیدھے کرتا تھا اور مونچھیں ہلا ہلا کر گاجر کھاتا تھا۔
خرگوش کو اس ساری صورت حال میں یہ ہی کرنا چاہیے تھا مگر وہ ایک بات بھول گیا تھا کہ گاجروں کی لت لگ جانے کے بعد اگر کسی دن خدانخواستہ اژدها کے دانت نکل آئے یا عقاب ہی کو کوئی ناگہانی پیش آ گئی تو کیا ہو گا؟ خرگوش بے چارہ تو یتیم ہو جائے گا
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker